- الإعلانات -

بھارت کی چین کے ہاتھوں تاریخی پٹائی جاری

5اور9مئی سے بھارت چین کے درمیان سرحدی علاقے سقم میں ہونے والی جھڑپ میں ہندوستانی نام نہاد فوجی سورماؤں کی پٹائی کے بعد سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں کے معاملے میں کافی تناوَپیدا ہو چکاہے جو کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔ اسی کشیدگی کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 3جولائی2020ء جمعہ کے روز لداخ کے علاقے لیہ(leh) کا دورہ کیا ،انھوں نے فوجیوں سے خطاب بھی کیا اور یادگار پر جانے کیساتھ ساتھ زخمی فوجیوں کی ہسپتال جا کر عیادت بھی کی ۔ پہلے یہ دورہ بھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کے روز کرنا تھا لیکن مودی نے اپنے سیاسی نمبر بڑھانے کیلئے آخری وقت خود جانے کا فیصلہ کیا اور راج ناتھ سنگھ کو جانے سے روک دیا حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ مودی نے یہ دورہ کرنے میں کافی دیر کر دی ۔ مودی کو یہ دورہ 10مئی یا پھر 17جون کو کرنا چاہئے تھا مگر اس وقت تو مودی کو چین سے معافی چاہئے تھی اسی لیے بھارتی وزیراعظم چین بارے ایسے چپ سادھے ہوئے تھے جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو ۔ جمعے کے روز بھی مودی کے دورے کو جھوٹے اور مکار بھارتی میڈیا نے اہمیت دینے کی بہت کوشش کی اور چیخ چیخ کر کہا کہ مودی نے چین کو واضح پیغام دیدیا کہ شانتی سے رہو گے تو گلے لگائیں گے ،گلے پر ہاتھ ڈالو گے تو گردن کاٹ دینگے ۔ حالانکہ 5اور 9مئی کو گلے نہیں کاٹے گئے اور نہ ہی 16جون کی رات کو کسی میں ہمت ہوئی کہ چینیوں کے گلے کاٹ سکے جبکہ اس رات 20بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے اور متعدد لاپتہ 10سے زائد گرفتار بھی ہوئے مگر مجال ہے کہ کسی بھارتی فوجی کے ہاتھ میں کسی ایک چینی کی گردن بھی آئی ہو(یہ الگ بات ہے کہ بھارت 40چینی فوجی مارنے کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے جبکہ سب جانتے ہیں جب کوئی فوج دشمن کے فوجی گرفتار کر لیتی ہے تو اس کا مطلب صاف ہوتا ہے کہ اسکا پلڑا بھاری ہی نہیں بلکہ بہت بھاری رہا ہوتا ہے) بکاوَ بھارتی میڈیا اپنے وزیراعظم کی تعریفوں کے پل تو باندھ رہا تھا لیکن اسے یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ لیہ میں فوجیوں سے اپنے خطاب میں مودی نے تو چین کا نام تک نہیں لیا اور نام لیے بغیر معذرت خواہانہ لہجے میں چین کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتے رہے کہ ہم کمزور ہیں ہم پر چڑھائی نہ کرو،توسیع پسندی کا دور گزر چکا مگر عادت سے مجبور اپنی عوام کو جھوٹ بتانے کی روش پر تندہی سے اپنا سکہ جمائے رکھنے کی کوشش میں بھارتی میڈیا جھوٹ کی وہ داستیں رقم کرتا رہاجس کی ماضی کی حکومتوں میں مثال نہیں ملتی ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی لداخ کے علاقے لیہ کے دورے پر تو چلے گئے مگر مودی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے اپنے خطاب میں کیا کہنا ہے ۔ ایک طرف پوری فوج اور دوسری طرف عوام اور سیاسی جماعتیں ۔ سب کو رام کرنا تھا اور ایسا کچھ کہنا بھی نہیں تھا جس سے چین مزید ناراض ہو جائے ۔ اسی کشمکش میں مودی غلطی سے نازیوں کے زکر کیساتھ ہٹلر کی مثال بھی دیتے رہے جبکہ خود مقبوضہ کشمیر پر قبضہ جما کر وہاں ریاستی ظلم کا بازار گرم کرنے کیساتھ ساتھ بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کا جینا حرام کیا ہوا ہے مگر دوسروں کا کتا کتا اپنا کتا ٹومی کی مصداق پر مودی عمل پیرا نظر آئے ۔ لداخ کے علاقے لیہ (leh) کا موسم گیلوان ویلی اور سقم کے مقابلے میں کافی گرم ہے یہی وجہ ہے کہ مودی کی تقریر سننے والے فوجیوں نے سردی سے بچنے کیلئے کسی قسم کی کوئی جیکٹ نہیں پہنی جبکہ مودی نے جیکٹ پہن رکھی تھی تاکہ دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے کہ وہ لداخ کے اگلے مورچے کے دورے پر گئے تھے حالانکہ جس جگہ پر چین نے بھارتی فوجیوں کی درگت بنائی اور انھیں گرفتار و ہلاک کیا وہ لیہ (leh) سے ڈھائی سو کلو میٹر دور ہے اگر مودی میں ہمت ہوتی تو اکسائی چین ضرور جاتے ۔ مودی کا 14ویں کور سے خطاب کے دوران لہجہ قابل غور تھا ۔ مودی اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے مگر فوجی بھی سوچ رہے تھے کہ ہم نے تو ایسا کوئی کارنامہ سر انجام نہیں دیا جس پر ہ میں ہمالیہ کی چوٹیوں سے بھی بلند مقام دیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ مودی ہم سے خطاب میں جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں ۔ بھارت اس وقت چین سے اتنا ڈرا ہوا ہے کہ مودی کی تقریر کے دوران فضاء میں ہر وقت ہندوستانی فاءٹر جیٹ محو پرواز رہے اور انہی کی گھن گرج میں مودی نے تقریرکی یا پھر عالمی میڈیا کو یہ سمجھانا مقصود تھا کہ ہائی سرحدی ٹینشن میں مودی نے ایل اے سی کا دورہ کیا ۔ ایک طرف مودی ہندوستانی فوجیوں کی بہادری اور ہندوستان کی تعریفیں کر رہا تھا تو دوسری طرف فضاؤں میں بھارتی ٹیکس کا پیسہ پانی کی طرح بہایا جا رہا تھا ۔ مودی کی تقریر میں چین سے شکست کی قبولیت جھلک رہی تھی وہ بار بار چین سے درخواست کر رہا تھا کہ توسیع پسندی کا دور ختم ہو چکا برائے مہربانی شانتی سے رہو لیکن چین بھارت کی بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کی پالیسی کو اچھی طرح سمجھ گیا ہے ۔ مودی کی آواز میں وہ درد تھا جو کسی بھی ظالم بادشاہ کی آواز میں گرفتاری کے بعد ہوتا ہے ۔ لیہ میں تقریر کے دوران مودی کی شخصیت کا ایک اور پہلو سامنے آیا اور وہ تھا ڈھیٹ پن ۔ مودی اپنے فوجیوں کو بڑی ڈھٹائی کیساتھ یہ بتاتا رہا کہ ہم کس طرح کئی صدیاں بہادری کیساتھ دوسروں کی غلامی کرتے رہے ۔ بھارت کی 15ہزار کلو میٹر کی سرحد 7ممالک کیساتھ مشتمل ہے جس میں بنگلا دیش کیساتھ4ہزار،چین کیساتھ 3488 کلو میٹر ، پاکستان 3323، نیپال 1751، میانمار 1643، بھوٹان 699اور افغانستان کیساتھ 106کلومیٹر سرحد ہے اور بھارت نے پاکستان سمیت 5 ممالک کیساتھ سرحدی تنازعہ پیدا کر رکھا ہے ۔ بھارت کی چین کیساتھ سرحد تین سیکٹر پر مشتمل ہے جس میں مغربی ،مڈل اور مشرقی سیکٹر شامل ہیں ۔ اس وقت بھارت تینوں سیکٹرز پر چین سے مار کھا رہا ہے کیونکہ بھارت نے تینوں سیکٹرز پر چین کا علاقہ قبضہ میں لے رکھا ہے اور چین ہر صورت اپنے علاقے واپس چاہتا ہے جس میں وہ کئی سو کلومیٹر کا علاقہ واپس لے بھی چکا ہے ۔ بھارت نے گزشتہ برس پاکستان اور چین کو دھوکہ دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کرنے کی کوشش کی اور اب اسی تناظر میں 28 ہزار افراد کو وہاں کا ڈومیسائل بھی جاری کر دیا تاکہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کی جا سکے ۔ بھارت کے اس دھوکے کے باعث چین سخت ناراض ہے کیونکہ بھارت نے چینی علاقے لداخ کو یونین ٹیراٹری قرار دیا تھا اور اب چین بھارت پر اعتبار نہیں کر رہا اور اسکا ایک ہی موَقف ہے کہ وہ چینی علاقے خالی کر دے بصورت دیگر وہ تو علاقے خالی کرا ہی رہا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بھارت بھی چپ چاپ آہستہ آہستہ پیچھے کی جانب آتا جا رہا ہے ٹھیک 5اور9مئی کیساتھ ساتھ 16جون کی طرح جب بھارتی فوجی دم دبا کر اپنا اسلحہ چھوڑ کر بھاگے تھے،چین کی اپنے علاقے میں پیش قدمی بارے راہول گاندھی کا ٹویٹ بھی بہت بڑا ثبوت ہے ۔ اب آپ خود سوچیں ایسی صورتحال میں جب مودی فوجیوں کو اپنے خطاب میں یہ کہے گا کہ دشمن نے آپ کی فائر اینڈ فیوری(آگ اور غصہ)دیکھ لیا تو کیا ہندوستانی فوجی ہنسیں گے نہیں ;238;درحقیقت جب فوجی سطح پر چین کے ساتھ بھارتی فوجیوں کے 3ادوار ناکام ہوئے تو مودی نے سوچا کہ تقریر کیساتھ ہی چین کو منانے کی کوشش کی جائے شاید کام بن جائے مگر بھارت بھول رہا ہے کہ یہ 62ء کا وقت نہیں ۔ حالات بہت نازک ہیں ، آگے مزید خراب ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے لیکن ایسی صورت میں بھی مودی سرکار پھر ایسے دفاعی سودے کرنے جا رہی ہے جس سے کمیشن کی مد میں کچھ حاصل ہو سکے ۔ اس ضمن میں مودی سرکار نے38900 کروڑ روپے کی دفاعی خریداری کی منظوری بھی دیدی ہے ۔ اس وقت بھارت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے اور انڈین میڈیا مثالی غلطیاں کر رہا ہے جو کہ بھارت کو ناقابل تلافی سرحدی اور معاشی نقصان پہنچا رہی ہیں ۔ مودی کو پتا ہونا چاہئے کہ مظلوم کشمیریوں کی آہیں طاقت رکھتی ہیں اور شاید طاقت کا استعمال شروع ہو چکا ہے ۔