- الإعلانات -

’’این سی او سی‘‘ کے 100دن،لائق تحسین کارکردگی

کورونا وائرس کی وباء جب پاکستان میں پھیلنا شروع ہوئی تو حکومت نے اس پر قابو پانے کےلئے فوری طور پر ہنگامی اقدامات اٹھانا شروع کر دیئے،اور قومی سطح پر مشترکہ لاءحہ عمل طے کرنے کےلئے ایک ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ ;200;پریشن سنٹر کے قیام بھی منظور دی جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ ، گلگت بلتستان اور ;200;زاد جموں و کشمیر سمیت ملک کے تمام سیاسی و عسکری سٹیک ہولڈر کو نمائندگی دی گئی ۔ ادارے کے قیام کو100دن مکمل ہو گئے ہیں ۔ ہفتہ 4 جولائی کووزیراعظم عمران خان نے نیشنل کمانڈ اینڈ ;200;پریشن سینٹر کے قیام کے100دن مکمل ہونے کے موقع پر ’’این سی او سی‘‘ کا دورہ کیا ۔ وفاقی وزراء، چیف ;200;ف ;200;رمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلی ٰحکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ صوبوں کے نمائندے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے ۔ وزیراعظم عمران خان کو وباء کی موجودہ صورتحال اور اسکے پھیلاوَ کے بارے میں بریفنگ دی گئی ۔ علاوہ ازیں سمارٹ لاک ڈاوَن کی حکمت عملی کے تحت صحت اور معاش کے درمیان توازن، ملکی معیشت کو رواں رکھنے اور کورونا کی وبا کی روک تھام کی کوششوں میں غریب اور محنت کش طبقے کے مسائل کے حل جیسے اقدامات کے نتاءج سے بھی وزیراعظم کو ;200;گاہ کیا گیا ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ;200;ئی ایم ایف کے عالمی اقتصادی جائزے کے مطابق30ممالک کے گروپ میں سے پاکستان ممکنہ ڈاوَن ٹرن کو منفی 0;46;4 سے 1;46;1 پر واپس لے ;200;یا ہے ۔ پاکستان کی بر;200;مدات جولائی 2019 سے مئی 2020 کے دوران خطے کے دیگر ممالک سے بہت بہتر رہیں ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کورونا کی وباء کے خلاف موثر ردعمل اور ملک بھر میں مربوط اقدامات یقینی بنانے کے لیے این سی او سی ٹیم کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ این سی او سی نے کورونا کے خلاف صورتحال کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ، صحت کے نظام کی استعداد کار بڑھانے، قابل اعتبار ڈیٹا بیس کی تیاری اور مناسب ایس او پیز کی تشکیل میں قائدانہ کردار ادا کیا ۔ وزیراعظم نے کورونا کی صورتحال میں ایس او پیز کی پیروی کرنے اور وبا کا چیلنج کے طور پر مل کرمقابلہ کرنے پر پوری قوم کو سراہا ۔ اسی طرح کورونا کے خلاف فرنٹ لائن پر برسرپیکار ڈاکٹروں ، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ہنگامی صورتحال میں کام کرنے والے ورکرز کی خدمات کو بھی شاندار خراج تحسین پیش کیا ۔ چونکہ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی اور یہ جنگ جاری ہے تووزیراعظم نے کورونا کے حوالے سے ایس او پیز پر سختی سے عمل در;200;مد یقینی بنانے، سمارٹ لاک ڈاوَن کی حکمت عملی کے نفاذ کے لئے ضروری انتظامی اقدامات اٹھانے اور عوامی ;200;گاہی کی مہم جاری رکھنے کی ہدایت کی اور کہا کہ عیدالاضحی کے موقع پر وباکو مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے خصوصی اقدامات کیے جائیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے تمام صوبوں بشمول ;200;زاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل اسٹاف، ایمرجنسی ورکرز اور انتظامی ٹیموں کے کردار اور خدمات کا بھی اعتراف کرتے ہوئے انہیں سراہا ۔ نیشنل کمانڈ اینڈ ;200;پریشن سینٹر کے قیام کو 100دن ہفتہ چار جولائی کو مکمل ہوئے ہیں ، این سی او سی نے اِن100دِنوں میں قومی یکجہتی ، وبا سے نمٹنے کے لئے دِن رات بیماری کے پھیلاوَکو روکنے اور معیشت کو بحال رکھنے کی حکمت عملی وضع کی،جس میں اسے کافی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ یہ دن بہادر ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈکس، سکیورٹی فورسز اور کورونا سے لڑنے والے تمام افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے طور یاد رکھا جائے گا،بلاشبہ یہ ابتدائی سو دن عزم وہمت اور جذبے کی ایک داستان ہے، کورونا کے خلاف جنگ میں ہر مصروف کار پاکستانی ایک ہیرو ہے، پوری قوم اِن تمام ہیروز کو سلام پیش کر تی ہے ۔ یہ این سی اوسی کی دن رات کی محنت اور جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ الحمداللہ ;200;ج ملک میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد مثبت کیسز سے زیادہ ہوچکی ہے ۔ ملک بھر میں ایک لاکھ 30ہزارکے قریب کورونا مریض مکمل صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے ایکٹو کیسز ایک لاکھ سے کم رہ گئے ہیں ۔ یہ بات بھی اطمینان بخش ہے کہ نئے کیسز اور اموات کا گراف بھی تنزلی کی جانب گامزن ہے،یہ شرح تیزی کے ساتھ گھٹ رہی ہے ۔ ماہ جون میں نئے کیسز جو6 ہزار یومیہ سے تجاوز کر رہے تھے وہ اب نصف کی سطح پر ;200; گئے ہیں جبکہ اموات کے اعدادو شمار بھی نصف پر ;200;گئے ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ خوش ;200;ئند امر یہ ہے کہ صحت یاب ہونے والے کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے مثلا ہفتہ کے روز ایک ہی دن میں گیارہ ہزار سے زائد افراد صحت یاب ہو کر گھروں کو چلے گئے ہیں ۔ اس موقع پر فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دینے والے ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے قومی قیادت نے ملک کے مختلف ہسپتالوں ، ہیلتھ کئیر سہولیات کا دورہ کرکے ڈاکٹروں ، نرسوں ، پیرا میڈیکل اور معاون عملے کی بے مثال خدمات کا اعتراف کیا اور این سی او سی نے پاکستانی عوام کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے وبائی بیماری ، ایمرجنسی ریسپانس میں ساتھ دیا ۔ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری کو سامنے ;200;یا تھا جس کے بعد اس وائرس کو یہاں 4 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ اس عرصہ میں پاکستانی قوم نے کڑا وقت گزارا اور حکومت نے ہر ممکن کوشش کی بیماری اور لاک ڈاوَن کی اذیت سے دوچار قوم کو ہر ممکن سہولت بہم پہنچائے ۔ کئی ریلیف کے پیکجز متعارف کرائے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ پوری قوم کو یہ بات ذہن نیشین رکھنی چاہیے کہ ابھی امتحان ختم نہیں ہوا بلکہ ابھی کئی مراحل باقی ہیں ۔ ایس او پیز پر مکمل کاربند رہنے سے ہی باقی مراحل بھی طے ہوں گے ۔ رواں ایک مشکل مہینہ ہے اگر جس طرح وباء کا گرنا شروع ہوا ہے ایس او پیز پر سختی عمل جاری رہا تو ان شا اللہ ماہ اگست میں صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہو چکی ہوگی ۔

صدر آزاد کشمیرکا برطانوی حکومت کو انتباہ

آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے برطانوی حکومت کو بجا طور پر متوجہ کیا ہے کہ وہ حقیقت سے سفارتی فرار اختیار کرنے اور کشمیر کو 2 طرفہ مسئلہ قرار دینے سے گریز کرے ۔ برطانیہ میں منعقدہ ایک آن لائن سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے برطانیہ کے قانون سازوں اور سول سوساءٹی سے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی صورتحال پر10ڈاوَننگ اسٹریٹ، سیکرٹری خارجہ سیکریٹری دولت مشترکہ سے بات کریں ۔ صدر آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، قتال، تشدد، ریپ اور دوہرے لاک ڈاوَن کے تحت قید کو ختم کرنے کےلئے اقدامات اٹھانے چاہیئے جس نے کشمیریوں کی زندگی جہنم بنادی ہے ۔ لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان لیام بیرن نے بھی کہا کہ برطانیہ کو یہ بہانہ چھوڑنا پڑے گا کہ اس مسئلے کو دوطرفہ طور پر حل کیا جائے ۔ انہوں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتشار پسندی میں مذمت کی اور اسے بھارت کے سیکیولر تشخص کی تنزلی قرار دیا ۔ بلاشبہ مقبوضہ وادی میں سفاک بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم کی ہولناکی کی انتہا ہو چکی ہے ۔ اپنے مقتول نانا کی لاش پر بیٹھے بچے کی وائرل ہونے والی تصویر اس کا جھنجوڑ دینے والا ثبوت ہے ۔ نیا ڈومیسائل قانون متعارف ہونے کے بعدکشمیریوں سے روزگار، جائیداد، ملازمت اور تعلیمی اسکالر شپ کا حق بھی چھین لیا گیا ہے ۔ گزشتہ 11ماہ کے دوران سینکڑوں کشمیریوں کو قتل کیا جاچکا ہے اور ہزاروں کشمیری نوجوان جیل میں ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کی پولیس نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ 2 ماہ میں 22 عسکریت سند مارے گئے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی اور جنگی جرائم کررہا ہے ۔ برطانیہ مقبوضہ کشمیر کے بنیادی تنازعے کا سبب ہے ۔ اگر تقسیم ہند کے وقت منافقانہ روش نہ برتی جاتی تو آج پورے خطے کی تاریخ مختلف ہوتی ۔