- الإعلانات -

کیا میں مہاجرہوں

میرے والدمرحوم غیرمنقسم ہندوستان میں سرکاری ملازم تھے بقول ان کے سردیوں میں دفاتردہلی شفٹ ہوجاتے اورگرمیوں میں شملہ جوپہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے ہل اسٹیشن مشہورتھا وہاں منتقل ہوجاتے ۔ میرے والد پرجوش لہجے میں سنایا کرتے کہ تحریک پاکستان کے دنوں میں جب قائداعظم شملہ تشریف لائے تومجھے اور چند دیگر نوجوانوں کوقائداعظم کارکشہ جو اس زمانے میں سائیکل رکشہ ہوتی تھی اسے کھینچنے کاموقع ملا ۔ ہم نے رکشہ چلانے والے کوہٹادیا اورخود پاکستان زندہ باد قائداعظم زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے ان کی جائے قیام تک لے آئے قائداعظم نے شفقت سے سب سے ہاتھ ملایا ان کی چمکدارآنکھیں اورہاتھ کی گرفت نے مجھے آج تک اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے وہ بے لوث لیڈرتھے جن کی بدولت اللہ تعالیٰ نے یہ خطہ زمین ہ میں عطافرمایا لاکھوں جانوں کانذرانہ دیکر یہ ملک حاصل ہوا جوتاقیامت قائم رہے گا انشاء اللہ ۔ باتیں کرتے ہوئے ان کے چہرے پرجوش اور قائداعظم سے ہاتھ ملانے کی یادیں صاف نظر آتیں میرے والد کوپہلی دفعہ ہارٹ اٹیک اس دن ہوا جب مشرقی پاکستان الگ ہونے کی خبرریڈیو پاکستان کراچی سے نشر ہوئی ۔ میں نے اپنے والد کوکبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا لیکن ہسپتال میں اپنے بسترپرلیٹے ان کی آنکھوں سے آنسوتھمنے کانام نہیں لے رہے تھے ۔ وہ باربار یہ جملے کہہ رہے تھے میراملک آدھا ہوگیا قائداعظم ہم نے آپ سے وفانہیں کی صحت یابی کے بعد اکثرخاموش رہتے دفترسے واپس آکرکچھ دیرآرام کے بعدہ میں پڑھائی میں رہنمائی فرماتے اکثر قائداعظم کی انتھک محنت اورتحریک پاکستان کی باتیں کرتے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے مشرقی پاکستان کویاد کرتے ۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے چند دن پہلے میرے والددیگرسرکاری ملازمین کے ہمراہ کراچی آگئے سرکاری مکان ہ میں مارٹن روڈتن ہٹی کے قریب ملا جہاں تمام سرکاری ملازمین خواہ وہ افسر تھا یا ماتحت اکٹھے رہتے تھے میں کراچی میں پیدا ہوایونیورسٹی تک تعلیم کراچی یونیورسٹی سے حاصل کی مقامی کالج میں پڑھاتارہا والدین دوسری بارہجرت کر کے 1963 ء میں اسلام آباد میں آگئے پھرسرکاری ملازمت کے سلسلے میں ہم بھی اسلام آباد کے ہوگئے ۔ بچپن سے پاکستان اورقائداعظم سے محبت پیدا ہوئی کیونکہ والدین نے دل اوردماغ میں اس محبت کوراسخ کیا ۔ میرے والدین مہاجرتھے کیونکہ وہ ایک خاص ماحول اورواقعات کی وجہ سے اپنا آبائی وطن اپنی مرضی سے چھوڑنے پرمادہ ہوئے پاکستان ہجرت کی اوریہاں آکرلٹے پھٹے لوگوں کی طرح زندگی گزاری لالچ حرص طمع نہ ان میں تھا اورنہ ہی ہم میں پیدا ہوا ۔ میں کیونکہ پاکستا ن میں پیدا ہوا تعلیم سے لیکرسرکاری ملازمت تک مجھے پاکستان نے دی اس لئے میں اگریہ کہوں کہ میں مہاجر ہوں تو میرے جیسابے ضمیرعقل کا اندھاکم ظرف احسان فراموش کوئی اورنہیں ہوگا ۔ میں نے توہجرت نہیں کی میرے والدین نے مخصوص حالات کے تحت ہجرت کی پھروقت کے ساتھ ساتھ ہراس شخص کو ترقی اورخوشحالی کے مواقع اسی ملک سے ملے جس نے 1947ء میں پاکستان کے لئے ہجرت کی ۔ مہاجر تو پورے پاکستان میں آکرآباد ہوئے صرف کراچی میں آبادنہیں ہوئے پنجاب اوراس کے شہرمہاجروں سے بھرے پڑے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ مقامی سطح پرایسے گھل مل گئے کہ مہاجرکہلوانا اپنی بے عزتی سمجھنے لگے ۔ مقامی لوگ شرارت سے اگرانہیں مہاجر کہتے تو جھگڑا ہوجاتا ۔ آہستہ آہستہ سبھی ایک جیسے ہوگئے نہ کوئی بندہ رہا اورنہ کوئی بندہ نواز بلکہ ایاز بھی عمودبن بیٹھے نہ اب ہجرت ہے اورنہ اس کاسوال ہاں افغانستان کے لوگ جب مخصوص حالات میں پاکستان آئے تو وہ مہاجر جو ابھی پاکستان میں موجودہیں انہوں نے توکبھی مہاجر ہونے کانعرہ بلدنہیں کیا سیاسی جماعت نہیں بنائی اپنے حقوق کی بات نہیں کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجدنہیں بنائی افسوس اس بات کاہے کہ کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرنے والے لوگوں نے اپنے آپ پرمہاجریت کا ایسالیبل لگایا کہ پاکستان میں پیدا ہونے کے باوجودیہاں تعلیم حاصل کرنے ملازمتیں اورکاروبار کرنے اوراپنی نسلوں کو بہتر سے بہترین بنانے اور اس دھرتی سے مفادات حاصل کرنے کے باوجود اپنے آپ کومہاجرکہلوانا بندنہیں کیا بلکہ ایک قوم بن گئے اگران حضرات سے پوچھا جائے کہ آپ نے پاکستان کے لئے کب ہجرت کی تو جواب سوائے شرمندگی کے اورکچھ نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو پیدائشی پاکستانی ہیں ان کے بزرگوں نے ضرورہجرت کی ہوگی ۔ ان میں دوسراطبقہ وہ ہے جنہوں نے اپنے مفادات کے حصول کے لئے1948ء سے لیکر اب تک پاکستان آنے کی مشق جاری رکھی ہے آدھا یاپورا خاندان ہندوستان میں ہے اور وہ خود اس ملک سے مفادات حاصل کررہے ہیں لہٰذا وہ نہ توپاکستان کے وفادارہیں اورنہ ہی بھارت کے یہ مفاد پرست طبقہ ہے جو کھاتاپاکستان کاہے اورنقصان بھی اسی ملک کو پہنچاجارہاہے 1947ء میں آنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ محنتی لوگ ہیں اورسادہ لوح بھی جوکسی کے بہکانے پرمہاجرقوم بن بیٹھے اب ان کی اولادیں مہاجرقومی موومنٹ کے بینرتلے اپنی علیحدہ پہچان کروانے میں مصروف ہیں اصل میں انہیں اپنے آپ کو سندھی کہلوانا چاہیے تھا پرانے اورنئے سندھی کابھی فلسفہ ہوناچاہیے کیاپنجاب میں نئے اورپرانے پنجابی کی کبھی بات ہوئی کیا بلوچستان میں نئے اورپرانے بلوچی کاجھگڑا ہوا کراچی کے علاوہ مہاجر کا لفظ یاٹاءٹل آپ کو کہیں سننے کو نہیں ملے گا ۔ الطاف حسین کراچی یعنی پاکستان میں پیدا ہوا یہیں سے تعلیم حاصل کی شیطانی سوچ اوردماغ کامالک ہونے کی وجہ سے مہاجرتحریک چلائی جس میں سادہ لوگ بغیرسوچے سمجھے شریک ہوگئے یہ تحریک کراچی کی حدود تک ہی رہی کوشش کے باوجود پورے پاکستان میں کامیاب نہ ہوسکی ۔ الطاف حسین نے اپنے رابطے پاکستان کے اذلی دشمن بھارت سے بنائے بقول انورصاحب جو کہ ایم کیو ایم کی ڈپلومیٹک ونگ کے اہم عہدیدارہیں بھارت سے مالی امدادوصول کرتے تھے اوراپنی پارٹی جس کی بنیاد کراچی میں ہے اسے پہنچاتے تھے کیارقم کابھارت سے ملنا اورپھرکراچی میں اپنے مذمو مقاصد کے حصول کے لئے استعمال ہونا پارٹی کے مشہور، معروف دیگررہنماءوں کے علم میں نہیں تھا اگرتھا تو ان کوڈوب مرجانا چاہیے ۔ محمدانورصاحب اب پاکستان کے لئے خدمت دینا چاہتے ہیں کیا بھارت سے پیسہ وصول کرتے ہوئے ان کادل اورضمیرمطمئن تھے جب وہ ملکی مفاد کے خلاف کام کررہے تھے اس وقت پاکستان یادنہیں آیا ۔ الطاف حسین اس دورکامیرجعفر ہے اچھا ہے اس کے ناپاک قدم اس دھرتی پراب نہیں پڑتے ایم کیو ایم کے تمام سرکردہ رہنماءوں سے پوچھ گچھ ہوئی ہوگی انہوں نے پارسابن کرسامنے آنے کی کوشش بھی ضرور کی ہوگی ملک میں مہاجراورلسانی بنیادوں پرسیاسی جماعتیں نہیں بننی چاہئیں ایک قانون کے ذریعے اس سوچ اورعمل کاقلع قمع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایم کیو ایم جیسی سوچ اورعمل رکھنے والے ناسورآئندہ پیدا نہ ہوسکیں ۔