- الإعلانات -

کشمیر کے ننھے مظلو م کی کہانی

گزشتہ سے پیوستہ

ویسے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جموں کشمیر کانفرنس نے اپنے ایک قرار اداد میں پاکستان میں شامل ہونا کا اعلان کیا تھا ۔ اس دوران کشمیر میں راجہ کی فوجوں کو کشمیری مجائدین نے گلگت بلتستان سے نکال دیا ۔ وادی کشمیر میں راجہ کے خلاف بغاوت ہوئی ۔ راجہ کشمیر کے دا رالحکومت سری نگر بھاگ گیا تھا ۔ وہ ہندو ہونے کے ناتے کشمیر کا قانونی طور پر حکمران بھی نہیں رہا تھا ۔ راجہ نے بھارت کے ساتھ ایک جعلی الحاق کی دستاویزتیار کی ۔ بھارتی نمایندہ اسے ملنے جموں آیا کہ اس پر دستخط کرے ۔ راجہ باگ دورڑ میں بھارت کے نمایدہ سے مل بھی نہ سکا ۔ مگر بھارت نے راجہ کی جعلی دستاویز کے تحت کشمیر کو ساتھ ملانے کا اعلان کر کے سری نگر میں اپنے فوجیں اُتار دیں ۔ پونچھ کے سابق کشمیری فوجیوں ، پاکستان کی فوج اور پاکستان کے قبائلی عوام نے اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر جہاد شروع کیا اور کشمیر کی طرف بڑھتے گئے ۔ تین سو میل لمبا اور تین میل چوڑا موجودہ آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد کر لیا ۔ یہ جہادی فوج سری نگر کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ چنددنوں میں جہادی پورے کشمیر کوجہاد کے ذریعے آزاد کرا لیتے ۔ بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اقوام متحدہ گئے اور جنگ بندی کی درخواست کی ۔ اپنی درخواست میں کشمیریوں ،پاکستان اور دنیا سے وعدہ کیا کہ کشمیر میں امن قائم ہونے پر کشمیریوں کو اپنی رائے استعمال کرنے کاحق دیا جائے گا ۔ اپنی آزاد رائے سے وہ بھارت میں یا پھر پاکستان میں شامل ہونا چایتے ہیں ہم اس کا احترام کریں گے ۔ اتنے بڑے نام نہاد جمہوری ملک بھارت کے وزیر اعظم اپنے سیاسی رہنما کوٹلیا چانکیہ کے مکر والی سیاست ،کہ جس کو قتل کرنا ہو اُس سے پہلے دوستی کرو ۔ پھر مکر سے اس کو قتل کرو ۔ اس کے لاش پر آنسو بہاءو والی چال پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں ، پاکستان اور دنیا سے اپنے وعدے سے مکر گیا ۔ اگر پاکستان بھارت کی مکررانہ چال میں نہ پھنستا تو کشمیر پاکستان کا حصہ بن چکا ہوتا ۔ بھارت نے تقسیم ہند کے بعد سے پاکستان کو ختم کر کے اکھنڈ بھارت میں شامل کرنے کے ڈاکٹرائین پر عمل کر رہا ہے ۔ اس ڈاکٹرائین پر پہلے پاکستان کے دوٹکڑے کر چکا ۔ دس مزید ٹکڑے کرنے کےلئے پاکستان پر دھائر بڑھاتا رہتا ہے ۔ کئی دفعہ پاکستان پر حملے بھی کر چکا ہے ۔ یہ کہاں کی دانشمندی یہ جانتے ہوئے بھی پاکستان بھارت کو آسان ٹارگٹ مہیا کر رہا ہے ۔ اس کا ایک ہی علاج ہے جہاد فی سبیل اللہ ۔ جہاد سے ہی کشمیر کو آزاد ہو کر پاکستان میں شامل کیا جا سکتا ہے ۔ اگر اس پر پاکستان نے عمل نہیں کیا تو تاریخی غلطی کرے گا ۔ ارباب اقتدار مل بیٹھ کر بیٹھیں اور پاکستان کو بچانے کی تدبیر کریں ۔ دنیاوی پیمانوں پر حسا ب کتاب نہ کریں ۔ صرف اللہ پر بھروسہ کریں ۔ کیا جب موجود آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان آزاد کرایا گیا تھا تو پاکستان بہت طاقت ور تھا ۔ نہیں اس سے بھی کمزور تھا ۔ اب تو پاکستان ایٹمی اورمیزائل قوت ہے ۔ پاکستان جہاد شروع کرے اورفیصلہ اللہ پر چھو ڑ دے ۔ بھارت۷۴۹۱ء سے کشمیریوں کے ساتھ ظلم روا کر رکھا ہے ۔ آٹھ لاکھ سفاک بھارت فوج کشمیریوں پر مسلط کی ہوئی ہے ۔ دنیا کے کسی جنگی محاذ پر اتنے تعداد میں کبھی بھی فوج نہیں لگائی گئی ۔ لاکھوں کشمیریوں کو شہید کر چکا ہے ۔ ظلم کا کوئی بھی حربہ نہیں چھوڑا ۔ بھارت میں بی جے بی کی حکومت آئی ۔ جو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس کی مدد سے اقتدار میں آئی ہے ۔ دہشت گرد مودی اس دہشت گرد تنظیم کا بنیادی رکن ہے ۔ اس نے اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے بھارت کے آئین میں کشمیربارے خصوصی دفعہ۰۷۳;241; اور ۵۳اے کوگزشتہ سال اگست ۹۱۰۲ء کو غیر آئینی طور پر ختم کے کشمیر کا بھارت کا حصہ بنا لیا ۔ اس دن سے کشمیر مذاہمت کر رہے ہیں بھارت نے اُسی وقت سے کشمیر میں کرفیو لگا یا ہوا ہے ۔ بچوں ، بزرگوں ، عورتوں اور نوجوانوں کے بےدردی سے شہید کر رہا ہے ۔ بھارت کی جیلیں کشمیریوں سے بھر دیں گئی ہیں ۔ آر ایس ایس نے کشمیریوں کے حوصلے پست کرنے کےلئے ایک ترانہ وائرل کیا ہے ۔ اس میں ایک لڑکی مودی والی پگڑی پہنے بھارتی جھنڈے کے سامنے کھڑی گا نا گا رہی ہے ۔ ’’غداروں تم بیٹھے رہنا پہن کے چوڑی ہاتھ میں ۔ بنے گا مودی راج میں مندر اسلام آباد میں ۔ پاکستان پرستوں ،تم رہو ذرا اوقات میں ۔ مودی راج میں بنے گا مندر اسلام آباد میں ۔ پاکستان کے چمچوں ،تم رہو ذرا اوقات میں ۔ مودی راج میں بنے گا مندر اسلام آباد میں ‘‘ ایک طرف آر ایس ایس کا یہ پاکستان دشمن ترانہ ۔ اور دوسرے طرف عمران خان حکومت کا اسلام آباد میں مندر بنانا شروع کیا ۔ اسلام آباد میں بنی بیسوں سال پرانے مسجد کو اس نازک وقت میں مسمار کر دیا گیا ۔ کوئی معمولی ذہن کا حکمران بھی بھی ایسے موقعہ پر ایسی عوام دشمن حرکت نہیں کر سکتا ۔ ذراءع کہہ رہے ہیں کہ اب عمران خان کے دن گنے چنے رہ گئے ہیں ۔ ہم اور محبت وطن دانشور اپنے درجنوں کالموں میں کشمیر کی آزادی کےلئے کئی ممکنہ اقدامات کی سفارش کرتے رہے ہیں ۔ عمران حکومت اِن اقدامات کی طرف دھیان نہیں دی رہی ۔ اے کاش ! ہم کشمیر کے ننھے مظلو م کی کے زخموں پر مریم رکھنے والے بنیں ، نہ کہ ہماری بے وقوفیوں کی وجہ سے دکھیا کشمیریوں بچوں کے دل زیادہ دکھ میں مبتلا ہوں ۔ اللہ کشمیریوں کی مدد فرمائے آمین ۔