- الإعلانات -

اٹھارہویں ترمیم پرصدرمملکت عارف علوی کی فکرانگیزگفتگو

کرپشن کاخاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ اس کو ختم کئے بغیر ملک ترقی کی راہ پرگامزن نہیں ہوسکتا، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے منشور میں بنیادی نکتہ کرپشن کوختم کرناہے ،وزیراعظم عمران خان بھی اس حوالے سے کمربستہ ہیں ، کرپشن ایک ایساناسور ہے جس نے ملک کی جڑوں کوکھوکھلاکردیاہے، صدرمملکت عارف علوی بھی کرپشن کے خاتمے کے حق میں ہیں ۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے انٹرویو میں کہا کہ صوبوں کی حمایت سے نظرثانی کے ذریعے اٹھارہویں ترمیم بہتر ہو سکتی ہے سندھ سمیت کسی صوبے میں گورنر راج لگانے کی کوئی تجویز زیرغور نہیں آئی ہے جس کو نیب قانون پر اعتراض ہے وہ پٹیشن دائر کردے،نیب کو مالم جبہ ، بلین ٹری اور بی آر ٹی جیسے منصوبوں کی تحقیقات بھی کرنی چاہئے جہانگیر ترین کو حکومت نے باہر نہیں بھیجا وہ واپس آئیں گے اوراپنا ہر طریقے سے دفاع کریں گے ،پاکستان میں مادر پدر آزاد کرپشن رہی ہے ، کرپشن جاری رہی تو اداروں کا حال اسٹیل ملز جیسا ہوگا،کرپشن کےخلاف عمران خان کی جنگ جاری ہے ،پہلی بار کسی حکومت نے اسکینڈلز کی تحقیقات عام کیں کورونا کے پھیلاو کو روکنے کےلئے عیدالاضحی پر اجتماعی قربانی کا اہتمام ہونا چاہیے ،علم کی اصل منزل اب آن لائن ہے تعلیمی اداروں کے کھلنے کا انحصار کورونا وائرس کی صورتحال پر ہو گا،حکومت کی کشمیر پالیسی کمزور نہیں وزیراعظم پر اعتماد بجٹ میں ملتا ہے، بجٹ تو پاس ہو گیا ہے ،حکومت اپنی مدت پوری کرے گی ،پارلیمان ذمہ دار ی نہیں لے گی تو آرڈی نینس جاری ہوں گے ،صوبوں اور وفاق کے درمیان تکرار چلتی رہتی ہے ، جیسے جیسے معیشت بہتر ہوگی صوبوں کے حصے پر ہم آہنگی بڑھتی جائے گی،عید الاضحی اور محرم میں اگر ہم کورونا کو کنٹرول کرلیں تو صورتحال قابو میں آجائے گی ،معاشرے میں 15 سے 20 فیصد تک کورونا موجود ہے، مگر لوگوں میں اس کی علامات موجود نہیں ہیں اور ہم ہرڈ امیونٹی کی جانب جارہے ہیں ۔ صدر پاکستان عارف علوی کا مزید کہنا تھا کہ پالیسی خواہ کتنی ہی بہتر بنالی جائے لیکن آپ اسٹیک ہولڈر کو شامل نہیں کرتے ہیں تواسٹیک ہولڈر اعتراض کھڑے کردیتے ہیں ،پی ٹی آئی کنفیوژن کا شکار اور سندھ حکومت کے اعتراض پر انہوں نے کہا کہ اعتراض سندھ حکومت کا حق ہے وہ اپنا اعتراض پیش کرسکتی ہے اس میں برائی کیا ہے ۔ صدر مملکت کا کہنا تھا جب سے پاکستان بنا ہے صوبوں اور وفاق کے درمیان بحث بازی کا ایک سلسلہ چل ہی رہا ہے اور یہ بحث چلتی رہنی چاہئے اور یہ بحث جینوئن ہے ۔ یہ حکومت کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس نے غریب کا خیال رکھتے ہوئے کورونا وائرس کو اپنی محنت اور اللہ کی مدد سے مینج کرلیا یہی وجہ ہے کہ یہ ٹاک شوز جوہیں یہ کورونا وائرس سے ہٹ کر مائنس ون پر آگئے ہیں ۔ یہ اس حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے آٹا چینی اسکینڈل ، ایئر کریش اسکینڈل کی رپورٹس کو پبلک کیا ، ذمہ داران کے نام ظاہر کئے ۔ چینی ، پٹرول سمیت ہر اسکینڈل کے ذمہ داران کو ہٹایا جانا چاہئے ۔ ان کا کہناتھاکہ میں نیب کے قانون کو مناسب سمجھتا ہوں جس میں بتایا جائے کہ یہ پیسہ یا پراپرٹی آئی کہاں سے ہے کیونکہ بار ثبوت ملزم پر ہی ہونا چاہئے ۔ ایک سوال پرصدرکاکہناتھاکہ مودی حکومت مسلمانوں کے خلاف نفرت کی پالیسی روا رکھے ہوئے ہے دنیا کو ہوش میں آنا پڑے گا ۔ مقبوضہ کشمیر میں نریندرمودی نے جس طرح کے مظالم روارکھے ہوئے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی لیکن دنیا کی خاموشی پرایک سوالیہ نشان ہے ۔ ایک ننھے معصوم کشمیری کے سامنے اس کے نانا کوجس بیہمانہ طریقے سے شہید کیاگیا اس میں بین الاقوامی برادری کے ضمیرکوجھنجھوڑکررکھ دیاہے ۔ ایسے میں عالمی برادری کوچاہیے کہ وہ آگے بڑھے اورمودی کے مظالم کوروکے، ایسانہ ہوکہ مودی کے توسیع پسندانہ عزائم پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونک دے ۔ لہٰذا اس حوالے سے بھارتی اقدامات کوروکنا انتہائی ضروری ہوچکاہے ۔

پاکستان سے بہتر تعلقات امریکہ کے مفاد میں

پاکستان امریکہ کی ضرورت ہے ، موجودہ صورتحال میں پاکستان کاتعاون امریک کے ساتھ انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر امریکہ چل نہیں سکتا ۔ اس وقت ٹرمپ افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے کاخواہاں ہے اور وہ پاکستان کے تعاون کابھی خواست گارہے ۔ اس بات کا اظہارامریکی صدرگاہے بگاہے کرتے رہتے ہیں ۔ نیزان کی حکومت کے دیگرزعماء بھی کرتے رہتے ہیں اسی سلسلے میں پاکستان میں امریکی سفیر پال جونز نے کہا ہے کہ پاکستان کی کامیابی ہی دنیا کی کامیابی ہے ۔ امریکہ کے 244 ویں یوم آزادی کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں امریکی سفیر پال جونز نے کہا کہ مشکل حالات میں پتہ چلا پاکستان کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے مسائل کے حل کےلئے قریبی تعاون کیا ۔ امریکی سفیر پال جونز نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے دوستی کا سلسلہ برقرار رکھنے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں ۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں پاکستان کی مدد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ امریکہ اور پاکستان ہر شعبے میں ایک دوسرے سے تعاون جاری رکھیں گے ۔ امریکہ کے پاکستان سے تعلقات رکھنا اس کی مجبوری ہے حکومت کی بہترین خارجہ پالیسی کی وجہ سے آج دنیا کی بڑی سپرپاوربھی پاکستان کی مرہون منت ہے ۔ اسی وجہ سے وہ باربارکہتی ہے کہ ہم ہرصورت میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے اورمختلف فیلڈز میں دونوں ممالک مزیدتعاون کوبڑھائیں گے ۔

کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کاسنگین مسئلہ

کراچی میں چھٹی اورلاک ڈاءون کے باعث زیادہ تر کاروبار بند ہونے کے باوجود کے الیکٹرک نے شہر میں لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری رکھا،بیشتر علاقوں میں چھ سے لے کر آٹھ گھنٹے تک بجلی بند رہنے کی اطلاعات ملیں ،شدید گرمی میں بجلی کی بندش سے لوگوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر رہے ،پانی کے حصول میں مشکلات رہیں ۔ صارفین کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ لاک ڈاءون کے باعث شہر میں روزانہ شام سات بجے تمام کمر شل سرگرمیاں معطل ہو جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود پورے شہر میں رات گئے تک لوڈشیڈنگ جاری رہتی ہے ۔ ادھر پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کی طلب 20619 میگاواٹ جبکہ اس کے مقابلے میں بجلی کی پیداوار 21ہزار میگاواٹ رہی ۔ اس طرح میں ملک میں بجلی کا شارٹ فال نہیں ۔ موجودہ حکومت کو لوڈشیڈنگ پرقابوپانے کےلئے اقدامات کرنے ہوں گے ،اقتدار میں آنے سے پہلے حکومت میں وعدوں میں یہ شامل تھا کہ وہ اقتدار میں آکرلوڈشیڈنگ ختم کریں گے ۔ ملک بھر میں لاک ڈاءون کے باعث لوڈشیڈنگ میں اضافہ پریشانی کاباعث بن رہاہے ۔ لوگوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہورہے ہیں لاک ڈاءون کی وجہ سے کاروبارزندگی پہلے ہی متاثر ہوا ہے اب مزید اس میں ا ضافہ ہوگیا ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ موثراقدامات کے ذریعے لوڈشیڈنگ پرقابوپائے ۔ شدیدگرمی کے موسم میں بجلی کی لوڈشیڈنگ لوگوں کےلئے اذیت کاباعث بنتی ہے ۔ پاورڈویژن کے مطابق اگربجلی کی پیداوارطلب سے زیادہ ہے تو پھرلوڈشیڈنگ کاکوئی جوازنہیں نہیں بنتا ۔ کے الیکٹرک کراچی کے شہریوں کولوڈشیڈنگ سے بلاجوازتنگ کرنا بند کرے ۔ سابقہ حکومتوں نے بھی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدے کئے تھے مگر لوڈشیڈنگ کاخاتمہ ایک خواب بن کر رہ گیا ہے ۔ اب موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوڈشیڈنگ پر قابو پائے ۔ خاص طورپرکراچی میں لوڈشیڈنگ کامسئلہ شدید تر ہوگیا ہے جس کاخاتمہ ضروری ہے ۔