- الإعلانات -

خالصتان کا قیام ۔۔۔ ناگزیر

پچھلے کچھ عرصے سے بہت سے سکھ فوجی انڈین آرمی سے استعفیٰ دے کر تحریک خالصتان میں شامل ہو رہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی ہے ۔ اس پس منظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یوں تو سکھ 1947 سے ہی اپنے علیحدہ ملک کے قیام کا مطالبہ بڑے روز شور سے کرتے رہے لیکن سنت جرنیل سنگھ بھنڈرا والا کی قیادت میں انہوں نے اپنی جہدو جہد کو مزید فعال بنایا جس کے نتیجے میں جون 1984 میں سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن مندر کو بھارتی افواج نے اپنی ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا اور ہزاروں سکھوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ۔ اس ضمن میں یہ بات خصوصی توجہ کی حامل ہے کہ جب یہ سانحہ رونما ہوا تو ایک سکھ گیانی ذیل سنگھ بھارت کے نمائشی صدر تھے اور وزیر داخلہ کے منصب پر سردار بوٹا سنگھ براجمان تھے ۔ خالصتان موو منٹ کے رہنما گوپال سنگھ چاولہ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کی غلامی سے نجات کےلئے سکھ قوم نے مکمل تہیہ کر لیا ہے اور اسی ضمن میں ایک پر امن جہدو جہد کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت ;3939;پیس فار سکھس ;3939; (peace for sikhs) کے نام سے خالصتان ریفرنڈم 2020 کے اندراج کے عمل میں تیزی آئی ۔

اس ضمن میں انسان دوست حلقوں کا کہنا ہے کہ یوں تو ہندوستان کے بالا دست طبقات کی عرصہ دراز سے یہ کوشش رہی ہے کہ پاکستان کے خلاف ہر سطح پر ایسی کوششیں جاری رکھی جائیں جن کے نتیجے میں اکھنڈ بھارت اور رام راجیہ کے قیام کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکے اور اسی تناظر میں 1925 میں ڈاکٹر ہیگواڑ کی زیر قیادت ;828383; کا قیام عمل میں آیا ۔ یہاں یہ امر خصوصی طور پر پیش نظر رہنا چاہیے کہ پاکستان کے حوالے سے ;667480; اور کانگرس کی قیادت میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے، البتہ ان کی حکمت عملی میں تھوڑی بہت تبدیلی ظاہر ہوتی رہتی ہے مگر دونوں کا بنیادی ایجنڈہ بڑی حد تک ایک سا ہی ہے ۔ اس بات کو یوں زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح قیام پاکستان کے بعد کے ابتدائی برسوں میں خاصے طویل عرصے تک نہرو سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کی حامی بھرتے رہے البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی پالیسی تبدیل کر لی ۔ البتہ نہرو کے بعد آنے والے بھارتی حکمرانوں خصوصاً اندرا گاندھی نے تو گویا کھل کر پاک مخالف ایجنڈہ اعلانیہ طور پر اپنا لیا جس کے نتیجے میں سانحہ مشرقی پاکستان پیش آیا ۔ یہ بات اہم ہے کہ پاکستان کو دولخت کرنے کے فوراً بعد تب بھارتی جن سنگھ (موجودہ بھارتیہ جنتا پارٹی) کے سربراہ اٹل بہاری واجپائی نے مسز گاندھی کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ’’شی از درگا ماتا‘‘ ۔ واضح رہے کہ ہندو دیو مالا میں درگا تباہی و بربادی کی دیوی ہے ۔

بہرکیف آگے چل کر 6 جون 1984 کو آپریشن بلیو سٹار میں ہزاروں سکھوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا جس کے ردعمل کے طور پر 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی اپنے دو سکھ محافظوں کے ہاتھوں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں ۔ اس کے فوراً بعد تین تک دہلی میں سکھوں کا قتل عام ہوتا رہا اور جگدیش ٹاءٹلر اور ایچ کے ایل بھگت جیسے وزیروں نے بھی بذات خود سکھوں کے اس قتل عام میں حصہ لیا اورخشونت سنگھ اور لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کی سطح کے سکھوں کو بھی اپنی جان بچانے کے لئے غیر ملکی سفارت خانوں میں پناہ لینا پڑی ۔ اس معاملے کا اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ اس وقت کے سکھ بھارتی صدر ’’گیانی ذیل سنگھ‘‘ نے بھی بعد میں اعتراف کیا کہ ان دنوں انھوں نے اپنے قریبی عزیزوں کی جان بچانے کے لئے دہلی بی جے پی (بھارتی جن سنگھ) کے صدر مدھن لعل کھرانہ اور ’’صاحب سنگھ ورما‘‘ سے مدد لی تھی ۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ دہلی میں جاری سکھوں کی اس نسل کشی کے خلاف انسانی حقوق کے چند حلقوں نے آواز اٹھائی تو راجیو گاندھی نے کہا کہ ’’جب کوئی بڑا درخت کاٹ کر گرایا جاتا ہے تو اس کی دھمک سے ارد گرد کی زمین میں کچھ ارتعاش تو پیدا ہونا فطری بات ہے اور اس درخت کی زد میں آنی والی گھاس پھوس کچلی جاتی ہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسی سنگ دلانا بات سیکولر بھارت کا وزیر اعظم ہی کہہ سکتا ہے ۔ اس کے بعد بھارت میں سکھوں کی نسل کشی کا ایک لمبا دور چلا ۔ ایک سکھ مصنف ’’گرچرن سنگھ ببر‘‘ نے اپنی تصنیف ’’ گورنمنٹ آرگنائزڈ کارنیج‘‘ میں خاصی تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے ۔ آپریشن بلیو سٹار اور سکھ نسل کے دوران بھارتی آرمی چیف شری دھر ویدیا کو 10 اگست 1986 کو انکی ریٹائرمنٹ کے چھ ماہ بعد دو سکھ نوجوانوں نے قتل کر دیا تھا ۔ اس کے علاوہ آپریشن بلیو سٹار میں مرکزی کردار ادا کرنے والے بھارتی فوج کے ایک ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کلدیپ سنگھ برار پر لندن میں انکی اہلیہ کے ہمراہ قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہوئے ۔

;180;سکھوں کی اس نسل کشی کے بعد سبھی بھارتی خفیہ اداروں کی ہدایت پر کانگرس اور خصوصاً ;667480; نے شعوری کوشش کی کہ سکھوں کو واپس کسی بھی طور قومی دھارے میں لایا جائے، اس مقصد کے لئے مختلف سطح پر بیک وقت کئی شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پالیسیاں بنائی گئیں ۔ مثلاً ایک جانب 1986 میں ;828383; نے ’’ راشٹریہ سکھ سنگت‘‘ کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کو انتہائی منظم اور مربوط طریقے سے پورے بھارت کے سکھوں میں پروان چڑھایا گیا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آپریشن بلیو سٹار کے بعد سے بھارتی حکومت (بھلے ہی وہ کانگرس ہو یا ;667480; ) نے دانستہ طور پر یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی کہ سکھ درحقیقت ہندوءوں کا ہی ایک فرقہ ہے ۔

(جاری ہے )