- الإعلانات -

خالصتان کا قیام ۔۔۔ ناگزیر (2 )

(گزشتہ سے پیوستہ)

اپنے اس خیال کو تقویت پہنچانے کی غرض سے 2002 میں انڈین آرمی کے سابق سکھ ایئرمارشل ’’ارجن سنگھ‘‘ کو ’’مارشل آف دی ایئر فورس‘‘ کا اعزاز دیتے ہوئے انھیں بھارتی ایئر فورس کا واحد ’’فائیو سٹار ایئرچیف ‘‘ بنانے کا انتہائی ’’غیر معمولی‘‘ قدم اٹھایا گیا ۔ یاد رہے کہ موصوف 1965 کی جنگ کے دوران بھارت کے ایئر چیف تھے ۔ یوں انھیں جنگ کے 37 برسوں بعد نجانے کس ’’خدمت ‘‘کے عوض یہ اعزاز بخشا گیا ۔ ظاہر سی بات ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کی شہہ پر یہ ایئر فورس کی پوری تاریخ پر بھاری یہ غیر معمولی قدم اٹھایا گیا جس کا مقصد صرف اور صرف یہی تھا کہ کسی بھی طور سکھ قوم میں موجود ہندو مخالف جذبات کو قدرے ٹھنڈا کیا جائے ۔ واضح رہے کہ 16 ستمبر 2017 کو موصوف 98 سال کی عمر میں فوت ہوئے ۔ توجہ طلب امر ہے کہ بھارتی فوج میں انڈین آرمی کے پہلے سربراہ جنرل کری اپا اور 1971 کی جنگ کے دوران بھارتی آرمی چیف ’’جنرل مانک شا‘‘ بھی فائیو سٹار جنرل بنائے جا چکے ہیں ۔ بات ہو رہی تھی راشٹریہ سکھ سنگت ، ;828383; اور ;667480;کی ملی بھگت کی ۔ 1986 میں راشٹریہ سکھ سنگت کے قیام کے بعد سے اب تک راجستھان، دہلی، اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور خصوصاً پنجاب میں اس کی 500 سے زائد شاخیں قائم ہو چکی ہیں ۔ دوسری جانب بھارتی سکھوں میں بھی خاصی حد تک ;828383;اور بھارتی ایجنسیوں کی اس سازش کا ادراک ہو چکا ہے ۔ تبھی تو 2004 میں ’’اکال تخت‘‘ کے اس وقت کے جتھے دار ’’جوگندر سنگھ ودیانتی‘‘ نے راشٹریہ سکھ سنگت کو ’’سکھ دشمن‘‘‘ تنظیم قرار دے دیا تھا ۔ 2009 میں ایک سکھ تنظیم ’’ببر خالصہ‘‘ نے اس وقت کے راشٹریہ سکھ سنگت کے سربراہ رُلدا سنگھ کو پٹیالہ میں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔ اکتوبر 2017 میں اکال تخت کے جتھے دار گیانی گربچن سنگھ نے کہا تھا کہ ’’ ;828383; راشٹریہ سکھ سنگت کو استعمال کرتے ہوئے سکھ دھرم کو ہندو ازم میں ضم کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ، بھارت کے لئے نمایاں کارنامے انجام دینے والے سکھ بھی جب پنجاب سے باہر جاتے ہیں تو انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، سکھ دھرم ہندو مذہب سے بالکل علیحدہ ہے اور سکھ ایک علیحدہ قوم ہے ، اگر ;828383; اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی تو اس کے نتاءج خوش آئند نہیں نکلیں گے‘‘ ۔ خالصتان تحریک نے سکھ فوجیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارتی فوج کی ملازمت سے فوری طور پر استعفیٰ دیں اور سکھوں کی تحریک آزادی میں شامل ہو جائیں ۔ مستند اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ کچھ عرصے میں 11000 سے 13000 تک سکھ فوجی پہلے ہی اس تحریک میں باقاعدہ شامل ہو چکے ہےں اور انھوں نے یہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ اب ہندوستان کےلئے جنگ نہیں لڑیں گے اور وہ ون دو ر نہےں جب پوری سکھ قوم اپنا علیحدہ وطن حاصل کر لے گئی ۔ سکھوں کے تمام حلقوں میں اس بھارتی چال کا بخوبی احساس ہوچکا ہے کہ بھارتی فوجی قیادت نے روزِ اول سے سرحدوں پر زیادہ تر سکھ فوجی افسروں اور اہلکاروں کو آگے رکھا ہے گویا انہےں چارے کے طور پر استعمال کیا اور یہ یا تو سکھ ہیں یا نیچی ذات کے ہندو جو ہندوستان کےلئے اپنی جانیں دیتے ہیں لیکن اب سے سکھ صرف خالصتان کےلئے اپنی جانیں دیں گے ۔ گوپال سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ہزاروں سکھوں کے ریفرنڈم 2020 کےلئے اندراج کے بعد مودی سرکار کو زبردست قسم کے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین نے لداخ میں بھارتی افواج کے سارے کس بل نکال دیئے ہےں اور ان کے سارے بلند و بانگ دعوے ریت کی دیوار کی طرح زمین بوس ہو چکے ہےں ۔ گوپال سنگھ نے دعوی کیا ہے کہ خالصتان کی آزادی کا حصول پوری سکھ قوم کابنیادی حق ہے اور سکھ قوم ہر قیمت پر خالصتان تشکیل دے گی ۔ گوپال سنگھ نے مزید کہا کہ 1947 میں گاندھی نے سکھوں کے ساتھ خالصتان کےلئے بہت سے وعدے کیے تھے، اب ان وعدوں کی تکمیل کا وقت ہے جسے بھارتی حکمرانوں نے اپنی شاطرانہ چالوں سے کبھی پورا نہےں ہونے دیا ۔ اب سکھ قوم کو پوری طرح سے آگاہی حاصل ہوچکی ہے اور اسی وجہ سے بھارتی فوج اور بی جے پی کے ہاتھوں سے طوطے اڑ چکے ہےں ۔ یاد رہے کہ ہندوستان کی کمزوریوں کا انکشاف سب سے پہلے کوورنا وبا کی تباہ کاریوں پر مودی کے غلط فیصلوں اور بد حواسیوں کے دوران ہوا تھا اور رہی سہی کسر حالیہ دنوں میں چینی فوج نے جس طرح بھارت کی ٹھکائی سے پوری ہوگئی ۔ کئی مبصرین کے مطابق بی جے پی اورآر ایس ایس کی فسطائی پالیسیوں نے نہ صرف ہندوستانی فیڈریشن کو کمزور کیا ہے بلکہ دنیا بھر میں بھارتی دعووں کے کھوکھلے پن کو عیاں کر دیا ہے ۔ بظاہر ہندوستان کےلئے کچھ بھی ٹھیک نہیں نظر آتا کیونکہ آنے والا ہر دن دہلی کےلئے بری خبر لا رہا ہے ۔ ہندوستانی فوج چھوڑنے والے سکھوں کی بڑھتی تعداد نے بھارتی فوج کی دوسری ذاتوں کے حوصلے بھی مزید پست کر دئیے ہےں ۔ یاد رہے کہ پیچیدہ ذات پات پر مبنی بدترین نظام کی وجہ سے ہندوستانی فوج پہلے ہی ایک کم حوصلہ، عدم مطمئن اور غیر پیشہ ور فوج ہے جس نے اس کی عسکری قیادت کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔ ہندوستانی فوج میں جاری یہ ٹوٹ پوٹ بھارتی فوج اور فیڈریشن کو تیزی سے تباہی کے راستے پر گامزن کئے ہوئے ہے ۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہےں کہ سکھ قوم میں ہندوستان کے خلاف نفرت کے شدید جذبات پائے جاتے ہےں ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 1971کے آخر میں بھارتی سکھوں نے اپنی جلا وطن حکومت بھی قائم کی تھی جس کے سربراہ گنگا سنگھ ڈیلوں تھے ۔ سکھوں کی مصنوعی خوشنودی حاصل کرنے کےلئے 2005-6 میں دہلی سرکار نے جنرل جے جے سنگھ کو بھارتی آرمی چیف مقرر کیا اور بعد ازاں موصوف کو ارونا چل پردیش کا گورنر بنا دیا تھا ۔ اگرچہ بھارتی سازشوں کی وجہ سے تاحال سکھ قوم کی آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر نہےں ہوسکا لیکن اب جس موثر ڈھنگ سے ریفرنڈم 2020 کی تیاریاں جاری ہےں اس سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں سکھ قوم اپنا علیحدہ ملک بنا نے کا دیرنہ خواب پورا کر پائے گی ۔ ایسے میں عالمی برادری بھی اس حوالے سے اگر اپنا انسانی فریضہ نبھائے تو پورا جنوبی ایشیائی خطہ بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہو سکتا ہے ۔ ( ختم شد)