- الإعلانات -

لندن سے ایڈمرا ٹرین کا یاد گار سفر

برطانیہ کے شہر لندن سے ایڈمبرا کا ٹرین پر سفر کر رہا تھا ۔ میری سامنے والی سیٹ پر ایک بزرگ اور نوجوان پاکستانی بیٹھے سفر کر رہے تھے ۔ ان دونوں کی پیٹھ میری جانب تھی ۔ نہ یہ میرا چہرہ دیکھ سکتے تھے اور نہ ہی میں انہیں دیکھ سکتا تھا مگر انہیں سن سکتا تھا ۔ پہلے دو گھنٹے خاموشی سے سفر کرتے رہے ، پھر ان دونوں نے چائے پی ۔ چائے پینے کے بعد یوں لگا جیسے ا ن کی دماغ کی بیٹری چارچ ہو گئی ہو ۔ نوجوان نے بزرگ سے کہا میرے پاس کچھ سوال ہیں ۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو جواب دیں ۔ بزرگ نے جواب دینے کی حامی بھری،پھر دونوں کے درمیان سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا ۔ نوجوان نے پوچھا بتائیں کہ خود کشی کرنے کا کون سا آسان طریقہ ہے ۔ دریا میں چھلانگ لگا کر یا یا کوئی زہر کھا کر ۔ بزرگ نے کہا اگر تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے گرمی سے تنک آ کر نہایا نہیں تو اب مر جانا چاءتا ہے توپھر یہ کسی ند ی یا ریا میں چلانگ لگائے ۔ ایسا کرنے سے اس کی گرمی دور ہو جائے گی موت سے بھی بچ جائے گا ۔ زہر والے طریقے سے اجتناب کیا جائے کہ اسے اور اس کے اہل خانہ کو نقصان ہو گا ۔ آج کے دور میں خالص زہر ملتا نہیں ۔ اگر زہر کھا کر بچ گیا تو خودکشی کے الزام میں جیل چلا جائے گا ۔ اب تو خود کشی کا جدید طریقہ راءج ہے ۔ اب توہر کامیاب آدمی اسی طریقے کو اپنا کر خوشحال زندگی گزار رہا ہے ۔ کیونکہ اس سے وہ مرتا بھی نہیں اور زندہ بھی رہتا ہے ۔ پوچھا وہ کون سا طریقہ ہے ۔ کہا خود کشی کرنے والا اگر اپنی ضمیر کی خود کشی کر لے تو اسے کئی چھلانگ لگا نے ،زہر کھانے کی ضروت پیش نہیں آتی ۔ ایسا شخص یہ کام خاموشی سے یکسوئی سے کئی بھی بیٹھ کر ، ضمیر کی خود کشی کر سکتا ہے ۔ ہمارے پڑوسی ممالک میں اکثرتمام ارب پتی ، بڑی بڑی جائداووں اور گاڑیوں والے،فارم ہاءوس کے مالکان ، سیاستدان ، وزرا بزنس مین ، لینڈ ڈولپر ،،بلڈرز اسمبلیوں میں بیٹھے سیاستدان ، بیوروکریٹ جرنیل یہ سب وہی لوگ ہیں جھنوں نے اپنے حالات سے تنگ آ کر پہلے اپنی ضمیر کی خود کشی کی اور اب یہ سب کے سب کامیاب لوگ اور چمکتے ستارے کہلاتے ہیں ۔ ان سب میں ایک ہی چیز کامن ہے کہ ان کی ضمیر زندہ نہیں ہے ۔ یہ لوگ اپنی ضمیر کو اپنے ہاتھوں سے مار چکے ہوتے ہیں ۔ جس کے بعد ان میں اچھے برے ، حلال حرام ، اپنے غیروں کی تمیز اور پہچان، محب الوطنی ختم ہو جاتی ہے ۔ پھر یہ ہر وہ کام کر گزرتے ہیں جو بھیڑے جانور ،شیطان کرتے ہیں ۔ پھریہی معاشرے اور ملک و قوم کے کامیاب لوگ کہلاتے ہیں ۔ نوجوان مسکرایا ، دوسرا سوال پوچھا کہ دل پر رکھنے والا پتھر کہاں سے ملے گا اور کتنے کلو کا ہونا چائیے ۔ یہ سن کر بزرگ مسکرائے کہا جونہی دل پر پتھر رکھنے کی ضروت پیش آئے دیر نہ کریں فوری جو پتھر قریب ہو کسی بھی وزن کا ہو رکھ لیا جائے ۔ دیر کرنے سے پھرکچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ تیسرا سوال پوچھا سر یہ بتائیں کسی کے زخموں پر نمک چھڑکنا پڑ جائے کون سا نمک ٹھیک رہے گا ۔ سادہ یا آئیوڈین ملا نمک ۔ اگر تکلیف میں زیادہ دیکھنا چاءتے ہیں سادے نمک میں تھوڑی سی سرخ مرچ بھی شامل کر لی جائے تو بہتر نتاءج مل سکتے ہیں ۔ چھوتاسوال یہ تھا کہ کسی کو بھاڑ میں جانے کےلئے رکشہ ٹھیک رہے گا یا گدھا ۔ بھاڑ میں جانے کےلئے جو سواری میسر ہو ، لے لی جائے ۔ جب جانا باڑ میں ہے تواس کےلئے گدھا ہی بہتر سواری ہے ۔ پانچواں سوال نوجوان نے یہ پوچھا کہ لوگ عزت کی روٹی کمانے میں تو لگے ہوئے ہیں ۔ عزت کے سالن کی کوئی بات نہیں کرتا ۔ اس کی کیا وجہ ہے ۔ کہا اس لئے کہ روٹی سستی اور آسانی سے مل جاتی ہے جبکہ سالن مہنگا ہے ۔ روٹی تو پانی سے بھی کھائی جا سکتی ہے جبکہ سالن روٹی کے بغیر نہیں کھایاجاسکتا ۔ غریب کی پہنچ روٹی تک ہی ہوتی ہے ۔ اسے ہی عزت دیتا ہے ۔ سکھاں دی روٹی دکھاں سا سالن کا ذکر پہلے سے پنجابی شاعری میں موجود ہے ۔ چھٹا سوال سر یہ بتائیں جن کی دال نہیں گلتی ، کیا انکی سبزی گل جاتی ہے ۔ کہا نا ممکن ۔ جس میں یہ دال گال رہا ہوتا ہے ۔ اس کی اس آگ میں تپش نہیں ہوتی لہذا ایسی بندے کی سبزی بھی نہیں گل سکتی ۔ ساتواں سوال یہ ہے کہ اگر کسی سے چکنی چپڑی باتیں کرنا ہو ں تواس کے لئے کون سی چیز بہتر ہے ۔ گھی ،مکھن یا شہد ۔ کہا سب سے اچھے رزلٹ ابھی تک مکھن کے ہیں ۔ مکھن ہی سب سے اچھا ہے جسے ہر کوئی پسند کرتا ہے ۔ ویسے بھی چکنی چپڑی باتوں کےلئے مکھن کا جولی دامن کا ساتھ ہے ۔ آٹھواں سوال پوچھا کہ غلطیوں پر ڈالنے والا پردہ کہاں سے ملتا ہے اور کتنے میٹر چائیے ہو تا ہے ۔ جواب دیا ۔ جو غلطی پر پردہ ڈال رہا ہوتا ہے اسی کے پاس یہ پردہ وافر مقدار میں موجود ہوتاہے ۔ اسے اندازہ ہوتا ہے کہ غلطی کا سائز کیا تھا اور اسے کتنا کپڑا چائیے ہو گا ۔ نواں سوال پوچھا سر اگر کسی کا مذاق اڑانا ہو تو کتنی اونچائی تک اڑایا جانا چائیے ۔ کہا دوسرے کی نہیں اپنی اوقات دیکھ کر اڑائیں کیونکہ بعد میں سنبھالنا آپکو ہی پڑتا ہے ۔ اپنے قد سے اونچا مذاق کسی کا بھی نہ اڑائیں تو بہتر ہے ۔ ورنہ برے نتاءج کےلئے تیار رہیں ۔ دسواں سوال سر جو لوگ جیتے جی مر جاتے ہیں ان کے کفن دفن کا معقول انتظام کون کرتا ہے ۔ کہا انہیں کسی کفن دفن کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ ایسے لوگ ایک چلتی پھرتی لاش ہوتے ہیں جو ہمارے درمیان رہتے ہیں ۔ گیارواں سوال یہ تھا کہ ۔ کسی کے معاملے میں ٹانگ اڑانی ہو تو کونسی سی ٹانگ ٹھیک رہتی ہے دائیں یا بائیں ٹانگ ۔ کہا اگر تو ٹانگ پہلی ہی سے ٹوٹی ہوئی ہے اور دو نمبر لکڑی یا پلاسٹک کی لگا رکھی ہے تو پھر سر پرہیلمٹ پہن کر دو نمبر ٹانگ سے ہی اپنا شوق پورا کر نے کی کوشش کریں ۔ کہا ایسے بندے عام طور پر عادت سے مجبور ہو کر اکثر دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑاتے ہیں ۔ اکثر ان کی ٹانگ جو ٹھیک ہوتی ہے وہ ایسے موقعوں پر وہ بھی خراب کروا بیٹھتے ہیں ۔ یہ سن کر نوجوان خاموش ہو گیا بزرگ نے اس نوجوان سے کہا ینگ مین اور پوچھوں سفر اچھا کٹ رہا ہے ۔ نوجوان نے کہا کیا پہلے کچھ پیزہ سینڈچ نہ کھا لیا جائے ۔ کہا ضرور ۔ پھر کورلڈ ڈرنگ کے ساتھ پیز کھانا شروع کیا ۔ ان دونوں کی وجہ سے میرا بھی سفر اچھا گزر رہا تھا ۔ میں نے کیا مجال کہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے اس میگزین کا کوئی ایک صفحہ بھی پڑھا ہو ۔ اس دوران دیکھ گاڑی سے باہر کے سین اور سن انہیں رہا تھا لیکن اس کا احساس اپنے ساتھ بیٹھنے والوں کو بھی نہیں ہونے دیا ۔ زندگی میں پہلی بار کالی عینک کا فائدہ اٹھا یا ۔ نوجوان نے کہا سوال و جواب کا سلسلہ شروع کرتا ہوں ۔ بزرگ نے اس کی اجازت دی تو نوجوان نے کہا سر دنیا ساری میں چند مسلم ممالک ایسے بھی ہیں جن کے پاس پیسوں کی ریل پیل ہے ۔ مگر کوئی ایک مسلم ممالک ایسا نہیں ہے جو ویلفیئر اسٹیٹ بنا ہو ۔ کسی نے اپنے عوام کو وہ ثمرات نہیں دئے جو ریاست مدینہ میں ہوا کرتے تھے ۔ سرایسا کیوں ہے ۔ بزرگ نے کہا نوجوان ایسا نہیں ہے ۔ میری اپنی ہوش میں ایک اسلامک ملک ایسا تھا جہاں مدینہ کی ریاست دکھائی دیتی تھی ۔ جس نے اپنی عوام کےلئے وہ کچھ کیا جس کی کئی بھی مثال نہیں ملتی تھی مثلا اس اسلامی ملک میں ہر کسی کامفت علاج مفت تعلیم اور سب کو مفت بجلی دی جاتی تھی ۔ اس ملک کے سارے بنک ریاست کی ملکیت تھے ۔ اس کی عوام کو بغیر سود کے قرضے دئے جاتے تھے ۔ ہر شہری کو مکان بنانے کےلئے مکمل مالی امدد فراہم کی جاتی تھی ۔ نئے جوڑوں کو گھر بنانے کےلئے پچاس ہزار ڈالرز مفت دئے جاتے تھے ۔ پڑھائی علاج کی تمام شہریوں کو مفت سہولیات دی جاتی تھیں ۔ کسانوں کو زرعی آلات بیچ اور زرعی زمین مفت میں دی جاتی تھی ۔ اگر کسی شہری کو ملک کے اندر علاج اور تعلیم کی سہولت میسر نہیں تو حکومت ایسے شہری کو اپنے خرچے پر دوسرے ممالک بھیجا کرتی تھی ۔ اگر کوئی گاڑی خریدنا چاءتا تھا تو حکومت اسے پچاس فیصد سبسڈی دیتی تھی ۔ پڑھنے کے بعد اگر کسی کو نوکری نہیں ملتی تھی تو حکومت اسے اس کی تعلیم کے حساب سے پھر بھی تنخواہ دیتی تھی ۔ ماں کو ہر بچے کی پیدائش پر پانچ ہزار ڈالڑ مفت دئے جاتے تھے ۔ زچہ بچے کا خرچہ حکومت کرتی تھی ۔ سونے اور چاندی کے سکوں میں لین دین کرنے کا پلان کر چکا تھا ۔ اس ملک میں کوئی فقیر بھیک مانگنے والا نہ تھا ۔ اس نے پاکستان کو ایٹمی بم بنانے میں اس وقت سو ملین ڈالر دیئے تھے جب ہم پر ا،بارگو لگ چکی تھی ۔ اس کا یہ سربراہ ہمیشہ مسلم ممالک کو یکجا کرنے کی کوششیں کیا کرتاتھا ۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے طاقت ور ملکوں نے اسے ایسا کرنے کی سزا دی ۔ اس کی اپنے ہی مسلم ملک سے اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ تمام مسلم ممالک ان کے اشاروں پر اپنے ہی مسلم ممالک کے ہاتھوں تباہ و بر باد ہوتے رہے ۔ حالات بتا رہے ہیں کہ مسلم ممالک میں کوئی مسلم ملک آزاد نہیں ہے ۔ سب ان کے غلام ہیں ۔ مسلم ممالک میں کئی بھی الیکشن نہیں ہوتے ۔ سب حکمران انکی سلیکشن سے آتے ہیں اور جاتے ہیں ۔ اتنے میں ٹرین رکی میرا سفر پورا ہوا گاڑی سے اتر کر آنے والے دوست کے ساتھ چل دیا ۔