- الإعلانات -

وفاقیکابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے

کورونا کے حوالے سے پاکستان کے بہترین اقدامات کی وجہ سے اسے کنٹرول کیا جا رہا ہے اوراب اللہ تعالیٰ کے فضل سے کوروناوائرس کے مریضوں کی تعداد میں بھی کمی ہوتی نظرآرہی ہے جو کہ نہایت خوش آئند ہے لیکن اسے دیکھتے ہوئے یہ نہیں سمجھناچاہیے کہ کورونا ختم ہوگیا ہے احتیاطی تدابیرپراسی طرح عمل کرناچاہیے دنیا کے دیگرممالک کی طرح اللہ رب العزت کا ہمارے ملک پرخصوصی کرم رہاہے یہاں پر یہ کہنا بھی درست ہے کہ عوام نے اس حوالے سے باشعور ہونے کاثبوت دیاہے ۔ گوکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آیا ہوایک عذاب بھی ہے لیکن اب یہ قابو ہوتا ہوانظر آرہاہے ۔ وباء سے متاثرین سے زیادہ لوگ صحت یاب ہوتے نظرآرہے ہیں ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کورونا وباء کے خلاف موجودہ حکومت کی حکمت عملی کامیاب رہی ہے ،عیدالاضحی کے موقع پر کورونا وباء کے پھیلنے کا خدشہ ہے، وزیراعظم عمران خان نے عیدالاضحی گھر پر منانے کا فیصلہ کیا ہے اور عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ عیدالاضحی پر گھروں میں رہیں ، وزیراعظم نے معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو احساس پروگرام کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ملک کی موجودہ صورتحال کے تحت احساس پروگرام غریب عوام کے لئے ایک تازہ ہوا کاجھونکاثابت ہورہاہے کیونکہ بیروزگاری عام ہورہی ہے ایسے میں دووقت کی روٹی کھانامشکل ہوگیاہے احساس پروگرام کے تحت حکومت جو غرباء کی مدد کررہی ہے وہ انتہائی احسن اقدام ہے ۔ اب اس کادائرہ کاربڑھادیاگیاہے بلکہ اس میں رقوم کی تعداد کابھی اضافہ کیاگیا اوراس بات کو یقینی بنایاگیا ہے کہ حقدارکو اس کاحق ملے اوراس پروگرام کی رسائی ہرحاجت مندپرممکن ہوسکے ۔ ڈاکٹرثانیہ نشترکی خدمات بھی اس حوالے سے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں وہ حالات کاجائزہ لینے کے لئے اکثروبیشتربھیس بدل کرمختلف مقامات پرپہنچ جاتی ہیں ان کے اس اقدام کی وجہ سے متعلقہ سٹاف بھی الرٹ رہتاہے اوراس سے کرپشن بھی نہ ہونے سے برابررہ جاتی ہے اگردیگروزارتیں بھی ثانیہ نشترسے اس اقدام کی تقلید کریں توغریب عوام کو درپیش بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ پی آئی اے معاملے میں مشتبہ لائسنسوں والے 28 پائلٹوں کو ملازمت سے نکال دیا ہے، جعلی لائسنسوں والے تمام پائلٹس پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کے دور میں بھرتی کئے گئے ایسے منظم مافیا کے خلاف بلاخوف و خطر کارروائی جاری رہے گی ،جعلی پائلٹوں کے معاملہ پر پی آئی اے اور سول ایوی ایشن حکام کے خلاف کارروائی جاری ہے ۔ اجلاس میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے 2 جولائی کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں ڈرگ پراسیسنگ پالیسی 2018کو ڈرگ ایکٹ 1976کے مطابق بنانے کی ترمیم کی بھی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں راحت کونین حسن، شمائلہ لون اور مجتبیٰ لودھی کو تین سال کیلئے مسابقتی کمیشن آف پاکستان میں تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ۔ کابینہ نے راحت کونین حسن کو چیئرپرسن مسابقتی کمیشن آف پاکستان تعینات کرنے کی بھی منظوری دی ۔ کابینہ نے ریاض احمد میمن جو کہ چیئرمین ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کو اسٹیٹ لاءف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل کرنے اور تین ماہ کےلئے چیئرمین اسٹیٹ لاءف آف کارپوریشن کی اضافی ذمہ داریاں سونپنے کی منظوری دی ۔ وفاقی کابینہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی توثیق کردی جبکہ ڈرگ پالیسی اورمنی لانڈرنگ ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی ،وفاقی کابینہ نے ائیرمارشل ارشد ملک کو پی آئی اے کا 3 سال تک چیف ایگزیکٹو کا عہدہ سنبھالنے کی منظوری دے دی ہے ،کابینہ کی منظوری کے بعد ائیر مارشل ارشد ملک پاکستان ائیر فورس سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو رہیں گے کابینہ نے راحت کونین کو چیئرپرسن مسابقتی کمیشن اور منورحسین کوسی ای اوایگروفوڈپراسیسنگ ملتان تعینات کرنے کی منظوری دی جبکہ ریاض میمن کو تین ماہ کیلئے چیئرمین اسٹیٹ لاءف کارپوریشن کی اضافی ذمہ داریاں تفویض کردی گئیں کابینہ نے قانونی مقدمات کی پیروی کےلئے ایف بی آر کو ماہر وکلا کی خدمات براہ راست حاصل کرنے کی منظوری دی ۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کاخوش آئندریلیف پیکج

بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے 566 ارب روپے سے زیادہ کے واجب الادا قرضوں کے اصل زر کی واپسی موخر کی گئی ہے، کرونا وائرس کی صورتحال میں قرضوں کی ادائیگی کے التوا سے 10 لاکھ سے زائد قرض حاصل کرنے والے اداروں کو سہولت حاصل ہو گی ۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریلیف پیکج کو تاجر برادری اور بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں نے خوش آئند قرار دیا ہے ۔ ایس بی پی کی رپورٹ کے مطابق 26 جون 2020 تک ریلیف پیکج کی سہولت سے استفادہ کےلئے 1;46;12 ملین قرض داروں نے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے 2;46;215 کھرب روپے کے واجب الادا قرضوں میں التوا کےلئے اپلائی کیا تھا ۔ سکیم کے آغاز سے لے کر اس حوالے سے وصول ہونے والی مجموعی درخواستوں میں سے 1;46;045 ملین درخواستیں منظور ہو چکی ہیں اور بینکوں و مالیاتی اداروں کی جانب سے 566;46;183 ارب روپے کی اصل زر کی واپسی کو موخر کیا گیا ہے تاہم متفقہ شرائط و ضوابط کے تحت سود کی ادائیگی کی جائے گی ۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران تقریبا 4;46;7 کھرب روپے کے قرضوں کی واپسی شیڈول ہے ۔ کرونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں کاروباری سست روی کے دوران کاروباری اداروں کو سہولت حاصل ہو گی جس سے ملک میں تجارتی اور کاروباری و صنعتی سرگرمیوں کی بحالی میں مدد ملے گی ۔ سٹیٹ بینک نے قرضوں کی اصل رقم کے التوا کی سہولت ستمبر 2020 تک بڑھا دی ۔ کرونا وائرس کی وباء مسلسل چھوٹے اور درمیانے کاروبار اور گھرانوں کے نقد کے بہاءو پر اثر انداز ہورہی ہے اس لئے بنک دولت پاکستان نے30 ستمبر تک قرضوں کی اصل رقم کے التوا کی سہولت میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے ۔ تاہم یہ سہولت صرف چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی فنانسنگ، صارفی فنانسنگ، مکافاتی فنانس، زرعی فنانس اور مائیکرو فنانس کےلئے دستیاب ہوگی ۔ یہ سہولت کارپوریٹس اور کمرشل قرض گیروں کو نہیں دی جا رہی ہے کیونکہ ان کے قرضوں کی بڑی رقم پہلے ہی موخر کی جا چکی ہے ۔ توقع کی جاتی ہے کہ مزید کاروباری ادارے اور گھرانے جو پہلے اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکے تھے اب مستفید ہو سکیں گے ۔

پاکستان کا اقوام متحدہ سے صائب مطالبہ

پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا معاملہ پرزور انداز میں اٹھا دیا ۔ پاکستانی مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ میں بھارت کیخلاف حقائق کی روشنی میں تقریر کی ہے ۔ منیر اکرم نے کہا کہ بھارتی ایما پر ریاستی دہشت گردی سے پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ اقوام متحدہ بھارت کی پاکستان مخالف دہشت گرد کارروائیوں کا فوری نوٹس لے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد ;200;زادی کو دہشت گردی کا رنگ دینے کی سازش کر رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہیں ۔ بھارتی مظالم کشمیریوں کے بلند حوصلے کو غیرمتزلزل نہیں کر سکتے ۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج کراچی پر دہشت گرد حملے میں بھارت ملوث تھا ۔ پاکستان بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا شکار ہے ۔ بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے دہشت گرد گروپس کی پشت پناہی کرتا ہے ۔ کراچی میں چین کے قونصل خانے پر دہشت گردی بھی بھارت نے کرائی ۔ بھارت میں اسلاموفوبیا عروج پر ہے ۔ رواں سال فروری میں نئی دلی کے مسلم کشن فسادات اسلاموفوبیا کی واضح مثال ہیں ۔ بی جے پی کی حکومت ;200;ر ایس ایس کے ہندوتوا نظریئے پر عمل پیرا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو دبایا جا رہا ہے ۔ بھارتی اقدامات کے باعث ہندوستان میں مسلمانوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں ۔ شہریت قانون میں تبدیلی سے لاکھوں مسلمانوں سے شہریت چھن جانے کا خطرہ ہے ۔