- الإعلانات -

کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی کھلی فر

بھارت کی رسوائی کا موجب بننے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل 3 مارچ 2016 سے پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گرفت میں اپنے کئے کی سزا بھگت رہا ہے ۔ لمبی چوڑی قانونی کارروائی کے بعد اسے سزا موت سنائی گئی تھی ۔ پاکستانی قوم شدت سے منتظر ہے کہ کب نریندر مودی کے اس طوطے کی گردن کب مروڑی جاتی ہے ۔ چونکہ اس معاملے میں عالمی عدالت انصاف کود پڑی تھی اس لئے پاکستان اس بین الاقوامی فورم کے فیصلے احترام میں مجرم کلبھوشن کو نظرثانی کو موقع فراہم کر رہا ہے ۔ اسے قونصلر رسائی فراہم کی جا چکی ہے ۔ اسے اپیل کا حق بھی فراہم کیا گیا ہے ، بلکہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر صحیح طور سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے 28 مئی کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس ریویو اینڈ ری کنسیڈریشن آرڈینسس 2020 نافذ کیا ۔ اس آرٹیننس کے تحت 60 روز کے اندر ایک درخواست کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جاسکتا ہے ۔ اس مقصد کےلئے کلبھوشن یادیو بذات خود، قانونی اختیار رکھنے والے نمائندے یا بھارتی ہائی کمیشن کے قونصلر اہلکار کے ذریعے نظرِ ثانی اپیل دائر کرسکتے ہیں ، لیکن معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی سزا کے خلاف نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرنے کے بجائے اپنی زیر التوا رحم کی اپیل پر جواب کے انتظار کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ بات گزشتہ روز اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل احمد عرفان نے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیا، سارک زاہد حفیظ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئی بتائی ۔ اسکے باوجود پاکستان نے ایک بار پھر بھارت کو با ضابطہ نظر ثانی کی اپیل دائرہ کرنے کی دعوت دی ہے ۔ جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق 17 جون 2020 کو بھی کلبھوشن یادیو کو ان کی سزا پر نظرِ ثانی اور دوبار غور کی اپیل دائر کرنے کی پیشکش کی تھی ۔ مجرم کلبھوشن یادیو نے اپنے قانونی حق کو استعمال کرتے ہوئے سزا پر نظرِ ثانی اور دوبارہ غور کےلئے اپیل دائر کرنے سے انکار کردیا ہے ۔ مجرم نے رحم کی اپیل کے جواب کا انتظار کا فیصلہ کیا ہے تو یقینا اسے یہی بہتر لگا ہو گا ۔ پاکستان کا بارہا بھارتی ہائی کمیشن کو کلبھوشن یادیو کی سزا پر نظرثانی اور اس پر غور و فکر کا عمل شروع کرنے کی دعوت دینا درست اقدام ہے ۔ چاہے کتنا ہی بڑا مجرم کیوں نہ ہو اسے تمام قانونی ;200;پشن کو استعمال کرنے کا حق صرف بین الاقوامی قوانین ہی نہیں پاکستان کا قانون بھی دیتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ اسلام کی تعلیمات بھی یہی ہیں ۔ ایک ذمہ دار خود مختار ریاست ہونے کی حیثیت سے پاکستان اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر ;200;گاہ ہے اور کلبھوشن یادیو سے متعلق عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل عملدر;200;مد کر رہا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ بھارت اس معاملے پر بھی تاخیری حربوں کے ذریعے سیاست کر رہا ہے ۔ اسی لئے پاکستان زور دیا ہے کہ بلیم گیم کی بجائے بھارت کو عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے اور پاکستان کی عدالتوں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ۔

پاکستان نے آئی سی جے فیصلے کے فورا بعد کلبھوشن یادیو کو ویانا کنونشن کی دفعہ 36 کے تحت قونصلر رسائی کا حق دیا، 2 اگست 2019 کو پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کے ایک سفارتی اہلکار کو اسلام آباد مدعو کیا، اس پیشکش کو بھارت نے ایک ماہ کی تاخیر کے بعد 2 ستمبر کو قبول کیا تھا جس کے بعد ہائی کمیشن کے ایک افسر نے کلبھوشن یادیو سے ملاقات کی ۔ دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کےلئے ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے انتطامات کیے تھے ۔ یہ ملاقات پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہوئی تھی ، مذکورہ ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو نے اپنی اہلیہ اور والدہ کے سامنے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کےلئے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا ۔ فیملی سے ملنے کی دوبارہ بھی پیشکش کی گئی ہے ۔ پاکستان نے را کے ایجنٹ کمانڈر یادیو کی سزائے موت کو سزا پر نظرِ ثانی اور دوبارہ غور تک کےلئے روک رکھا ہے ۔ یہ اب بھارت کا کام ہے کہ وہ کہاں تک تعاون کرتا ہے ۔ اس کےلئے وقت کم رہ گیا ہے دو ماہ کی مقررہ مدت گزر گئی تو پھر شور مچانے کے سوا بھارت کے پاس کچھ نہیں بچے گا ۔

بدنامِ زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی raw کا یہ خاص الخاص ایجنٹ بلوچستان کے راستےپاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار ہوا تھا ۔ اس گرفتاری نے ایک بار تو مودی حکومت کی چولہیں تک ہلا دی تھیں لیکن ڈھٹائی میں اپنا ثانی نہ رکھنے والے مودی اور اس کی حکومت نے پہلے انکار کیا پھر دھرتی کا بیٹا ڈکلیئر کرتے ہوئے پینترا بدلا کہ کلبھوشن یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا ۔ مودی کے پیارے کلبھوشن کا اعترافی بیان ایک ویڈیو کی شکل میں رہتی دنیا تک تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ، جسے بھارت لاکھ چاہے جھٹلاتا پھر کیوں کہ مجرم نے باہوش حواص بیان ریکارڈ کروایا اپنے کرتوں کا مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ انہیں را کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کےلئے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی ۔ نریندر مودی کو شاید بھول گیا ہو کہ کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ;39;را;39; کےلئے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا ۔ کلبھوشن یادیو نے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ اس کا پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا ۔ یہ وہی علیحدگی پسند ہیں جنہیں بھارت بلوا بلوا کر خاطر مدارت کی جاتی ہے ۔ بھارت نے 9مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کی تھی،بھارت نے کئی الزامات لگائے لیکن کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکا اور پاکستان یہ کیس جیت گیا ۔