- الإعلانات -

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی دہشت گردی نہیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ بی جے پی کی حکومت آر ایس ایس کے ہندوتوا کے انتہا پسند نظریے پر عمل پیرا ہے اور بھارت میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو دبایا جا رہا ہے ۔ بھارتی اقدامات کے باعث بھارت میں 18 کروڑ مسلمانوں کی زندگی خطرے میں ہے ۔ ہندتوا نظریے کی انتہا پسندی خود ایک دہشتگردی ہے ۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد کی 71 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے واضح کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کو دہشتگردی کا غلط رنگ دے رہا ہے جو کہ غلط ہے ۔ بھارتی فوج کشمیریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہیں ۔ بھارتی مظالم کشمیریوں کے حوصلے کو متزلزل نہیں کر سکتے ۔ پاکستان بھارتی جارحیت اور قبضے کے خاتمے تک کشمیری عوام کی خودمختاری اور تحریک آزادی کی حمایت جاری رکھے گا ۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال تاریخ کی بدترین صورتحال ہے جہاں لوگ زندگی گزارنے، خوراک، صحت، آزادی اظہار، مذہبی آزادی و خودمختاری سمیت اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں ۔ وہاں خواتین اور بچوں کی مشکلات ناقابل بیان حد تک بڑھ چکی ہیں ۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارتی جارحیت کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ۔ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو کیے گئے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے یو این ایچ سی آر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے بڑا سیاسی فیصلہ متاثرہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا ہے ۔ ان کے رہنما قید ہیں ۔ ان کے باخبر رہنے کی سہولیات ختم کر دی گئی ہیں اور ان کے آزادی اظہار اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے حق کو پامال کیا گیا ہے ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق طاقت کا بے دریغ استعمال، نہتے شہریوں پر پیلٹ گنز کے مہلک حملے، نام نہاد محاصروں اور سرچ آپریشنز کے ذریعے ماورائے عدالت قتل، مظاہرین اور سیاسی مخالفین کو قید اورحراست میں ڈالنے کے مظالم کے ساتھ قابض فوج کے جبر و تشدد کو کالے قوانین کا تحفظ بھی حاصل ہے ۔ اظہار رائے کی آزادی سلب ، صحافیوں کو حقائق دنیا تک پہنچانے کی اجازت نہیں ، کشمیری مسلمانوں کو مقبوضہ کشمیر سے باہر بھی نشانہ بنایا جا تاہے ۔ رپورٹ میں بین الاقوامی قوانین کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کے احترام پر زور دیا گیا ۔ اقوام متحدہ میں کئی ممالک کے سفراء نے نہ صرف مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی بلکہ بھارت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے پر زور دیا ۔ اسلامی تعاون تنظیم کے سفارتکار اگشن مہدیوف نے بھر پورحمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ان کی تنظیم کی اولین ترجیح ہے ۔ اسلامی تعاون تنظیم کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حیثیت اور اس کے حتمی رجحان کے بارے میں یو این ایس سی کی قراردادوں کی توثیق کرتی ہے ۔ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ بھارت کوکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے روکے ۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ او آئی سی اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے صحیح اعدادوشمار کو مانیٹر کرنے کیلئے رسائی دے ۔ تقریب میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی جارحیت کیساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مسئلہ کشمیر پر تاریخی اجلاسوں پر مبنی تصویری نمائش بھی منعقد ہوئی جس کو جھٹلانا بھارت کے بس میں نہیں ۔ حسب سابق اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر کی تقریر پر بھارت کی جانب سے واویلا کیا گیا اور بھارتی مستقل مندوب سفارتی آداب کو بھلا کر پاکستان کے خلاف چلانے لگے ۔ یہ حقیقت ہے کہ بھارت نے کشمیر کودنیا کے سب سے بڑے عسکری علاقے میں تبدیل کردیا ہے ۔ کشمیری عوام کی خودمختاری ناقابل تغیر اور کشمیر ہمارا خون ہے ۔ ہم کشمیریوں کی آزادی اور بھارتی قبضے کے خاتمے تک کوششیں کرتے رہیں گے ۔ عالمی برادری بھارت پر دباوَ بڑھائے کہ وہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیلئے غیرقانونی اقدامات روکے، کرفیو اٹھائے، کشمیری رہنماؤں کو رہا اور مواصلاتی نظام بحال کرے ۔ اقوام متحدہ بھارت پر دباوَ ڈالے کہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کے اعدادوشمار جاننے کیلئے عالمی ادارے کے مشن کو رسائی کی اجازت اور کشمیری عوام کو پرامن احتجاج کے حق کی اجازت دے ۔ بھارت میں اسلامو فوبیا اور پاکستان فوبیا عروج پر ہے ۔ بھارتی حکمران ہر طرف سے ماریں کھانے کے بعد اپنے عوام کو پاکستان پر حملے کی نوید دے رہے ہیں ۔ پاکستان بھارت کی جانب سے کی جانے والی دہشتگردی سے مسلسل متاثر ہو رہاہے ۔ بھارت پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے دہشتگرد گروپوں کی اعانت کر رہا ہے اور کراچی میں چینی قونصلیٹ اور حال ہی میں سٹاک ایکسچینج پر حملے میں بھی بھارت ملوث تھا ۔ جہاں تک بھارت میں اسلاموفوبیا کی بات ہے تو رواں سال فروری میں نئی دہلی کے مسلم کش فسادات اسلامو فوبیا کی واضح مثال ہیں ۔ شہریت کے قانون میں تبدیلی سے لاکھوں مسلمانوں سے شہریت چھن جانے کا خطرہ ہے ۔ بھارتی مسلمانوں پر بھارت میں کورونا پھیلانے کا الزام لگایا گیا ۔ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور اسلامی تعاون تنظیم کے فیصلے کی ترجمانی کرتا ہے ۔ بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے کوششیں کرے جو امن و استحکام اور خطے کی ترقی کیلئے اہم ہے اور ہ میں گزشتہ سال5 اگست سے جموں کشمیر کی مزید خراب صورتحال پر فکر ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ فاشسٹ ہندو برتری کے غرور میں مبتلا مودی حکومت کو پتا ہونا چاہیے کہ فوجوں ، جنگجووَں اور دہشت گردوں کو طاقتور فورسز سے شکست دی جا سکتی ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جب ایک قوم اپنی آزادی کے لیے متحد ہو جائے تو نا وہ موت سے ڈرتے ہیں اور نا ہی دنیا کی کوئی طاقت ایسی قوم کو منزل کے حصول سے روک سکتی ہے ۔ مودی کی قیادت میں ہندوتوا حربے مقبوضہ کشمیر میں بری طرح ناکام ہوں گے اور ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کسی صورت بھی دبایا نہیں جا سکتا ۔