- الإعلانات -

احتساب عدالتوں کاقیام وقت کی ضرورت

بلاشبہ بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑہے ۔ بدعنوانی کے ملکی ترقی و خوشحالی پر مضر اثرات کے پیش نظر 1999 میں قومی احتساب بیورو کا قیام عمل میں لایا گیا تا کہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمہ اور بدعنوان عناصر سے لوگوں کی حق حلال کی کمائی ہوئی لوٹی گئی رقوم برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروانے کے علاوہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جاسکے ۔ ملک میں یکساں احتساب کا نظام وقت کی ضرورت ہے،ملک بھر میں اشرافیہ اپنی من مانیاں کر رہی ہے ۔ اسی سلسلے میں عدالت عظمیٰ نے ملک بھر میں بدعنوانی کے مقدمات جلد نمٹانے کےلئے حکومت کو کم از کم 120 نئی احتساب عدالتیں قائم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے ازخودنوٹس کیس کی آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ پہلے سے موجود 5احتساب عدالتوں میں ججوں اور دیگر عملہ کی خالی آسامیوں پر ایک ہفتے کے اندر اندر تعیناتیاں کرنے اور چیئرمین نیب کو اپنے دستخطوں سے تجاویز جمع کرانے کا حکم جاری کرتے ہوئے نیب آرڈیننس کی دفعہ 16کے تقاضوں کے مطابق زیر التوا ریفرنسز کے 3ماہ کے اندر اندر فیصلوں کو یقینی بنانے کیلئے چیئرمین نیب سے بھی تجاویز طلب کرلی ہیں اور کہا ہے کہ نیب قانون بنانے کا مقصد فوت ہوجائیگا، عدالت نے اٹارنی جنرل، پراسکیوٹر جنرل نیب اور سیکرٹری قانون کو طلب کرلیا ۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ نیب کا ادارہ درست طور پر نہیں چل رہا ہے، مقدمے درج ہورہے ہیں فیصلے نہیں ، 20، 20 سال سے احتساب عدالتوں میں ریفرنسز زیر التوا ہیں ، ان کے فیصلے کیوں نہیں ہورہے ہیں ;238; کیوں نہ نیب عدالتیں بند کرتے ہوئے نیب آرڈیننس کو ہی غیرآئینی قراردے دیا جائے;238; قانون کے مطابق تو نیب ریفرنس کا فیصلہ تیس دن کے اندر اندر ہوجانا چاہئے لیکن لگتا ہے کہ نیب کے ملک بھر میں زیر التوا 1226 ریفرنسز کے فیصلے ہونے میں ایک صدی لگ جائے گی، اگرپانچ احتساب عدالتوں میں ججوں کی خالی آسامیوں پر تعیناتی نہ کی گئی تو لاپروائی کے ذمہ دار افسروں کے خلاف سخت ترین ایکشن لیں گے ۔ اعلیٰ عدلیہ نے ہمیشہ انسانی حقوق کے مقدمات کو ترجیح دی ہے ملک میں مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کےلئے عدالت عظمیٰ میں ای کورٹ سسٹم متعارف کرایا گیا ۔ انصاف کے شعبے میں دیگر اہم اصلاحات بھی کی گئیں ۔ قانون کی حکمرانی سے ہی جمہوری عمل مضبوط ہو سکتا ہے انتظامیہ اور مقننہ مل کر ہی عدلیہ کو مضبوط بنا سکتی ہیں ،مضبوط عدلیہ کے بغیر غیر ;200;ئینی قوتیں سیاسی نظام پر وار کر سکتی ہیں ۔ ماورائے ;200;ئین قوتوں کے وار کو عدلیہ ہی روک سکتی ہے حکومتی مشینری عوامی خدمت کے ذریعے عوامی خوشحالی کا مقصد حاصل کر سکتی ہے ملکی بقا ;200;ئین کی بالادستی میں مضمر ہے ۔ دوسری جانب پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزاورروزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے مقبول پروگرام سچی بات میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ چیف جسٹس کاملک بھر میں احتساب عدالتیں قائم کرنے کافیصلہ خوش آئند ہے،نیب میں کیسززیادہ ہیں ،مگر نیب عدالتیں کم ہیں چیف جسٹس چاہتے ہیں کہ جو بھی کیسزچل رہے وہ جلدمنطقی انجام تک پہنچ جائیں ماضی میں بھی نیب عدالتوں کی کمی کی بات کرتے رہیں ہیں ،1200سے زائد کیسزنیب میں چل رہے ہیں ،چیف جسٹس کاملک بھر میں احتساب عدالتیں قائم کرنے کافیصلہ اچھا ہے،اگرنیب عدلتوں میں اضافہ ہوگیاتو کیسز100دن کے اندرنمٹ سکتے ہیں ،نیب کو وقت سے پہلے کسی نامزد ملزم کانام ظاہر نہیں کرناچاہیے،چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے تاریخ ساز فیصلہ کیاگیا،کیسزکا منطقی انجام تک پہنچنا ضروری ہے،جو بے گناہ ہے اسے بری ذمہ قرار دیاجائے یامجرم کوسزادی جائے،نیب قانون کے مطابق کوئی بھی کیس 90دن میں نمٹنا چاہیے،کیسزکاسالوں تک چلنا نیب کی کمزوری ہے ۔ وقت ;200; گیا ہے کہ تمام اداروں کو مضبوط بنایا جائے اب ہر شخص کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے ;200;ئین و قانون کی حکمرانی میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کو اپنانا چاہئے ملک کی بقا ;200;ئین کی بالادستی اور جمہوری طرز حکومت میں ہے انصاف کی فراہمی صرف عدلیہ کا نہیں بلکہ ریاست کے تینوں ستونوں کا بھی فرض ہے ۔ رشوت کے کلچر کو ختم کرنے اور کرپشن کو گھٹانے کےلئے عدالتی نظام میں احتسابی عمل انتہائی ضروری ہے ۔

کوروناکے خاتمے کےلئے حکومت کی کامیاب حکمت عملی

وزیراعظم عمران خان نے انٹرنیشنل لیبر ;200;رگنائزیشن کے زیر اہتمام پانچ روزہ عالمی کانفرنس سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے تجربات دنیا کے دوسرے ملکوں کے ساتھ شیئر کرنے کےلئے تیار ہیں اور دوسرے ممالک کے تجربات سے استفادہ کے بھی خواہش مند ہیں ، ہم اپنی مشکلات اور حکمت عملی سے دنیا کو ;200;گاہ رکھیں گے، ہماری معیشت کا بڑا حصہ غیر رسمی معیشت پر مشتمل ہے اور زیادہ تر مزدور طبقہ رجسٹرڈ نہیں ہے، لاک ڈاءون کی وجہ سے پہلے دو تین ہفتوں میں چھوٹے طبقے کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لاک ڈاءون کی وجہ سے بیروزگاری پھیلی جس کے بعد ہم نے سمارٹ لاک ڈاءون کی پالیسی اختیار کی چونکہ ہ میں اپنے چھوٹے اور کمزور طبقے کو بچانا تھا، ہم نے عوامی اجتماعات، سکولوں اور کالجوں ، کھیلوں کی سرگرمیوں سمیت لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی لگائی لیکن ہم نے تعمیرات اور زرعی شعبہ کو کھولا کیونکہ زرعی شعبہ کو بند کرنے سے خوراک کا بحران پیدا ہو جاتا، اس کے علاوہ ہم نے کمزور طبقے کو نقد رقم کی منتقلی کا عمل شروع کیا، غیر رجسٹرڈ افراد کو فوری طور پر احساس پروگرام میں رجسٹرڈ کیا، کرونا کی وبا سے معاشرے کا کمزور اور مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، ان کے تحفظ کےلئے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا ہوگی ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے کرونا کی روک تھام کے حوالے سے مثبت نتاءج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا کا گراف مسلسل نیچے آنا تسلی بخش امر ہے ۔ این سی او سی کے اجلاس صوبائی دارالحکومتوں میں منعقد کئے جائیں اور صوبوں کی کوآرڈینیشن سے انتظامی اقدامات کو مزید موثر بنایا جائے ۔ عید الاضحی کے موقع پر حفاظتی اقدامات اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کرایا جائے ۔ حکومت کا اصل مقصدیہی تھا کہ لاک ڈاءون ایسا ہونا چائیے کہ جس میں لوگ بھوک سے نہ مریں ۔ کرونا وائرس اس وقت پوری دنیا کےلئے ایک عالمی مسئلہ بنا ہوا ہے جس نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کرکے رکھ دیا ہے ۔ مشکل وقت میں حکومت نے بہترین حکمت عملی اختیار کی ۔ اب ہ میں متحد ہوکر بلا تفریق مذہب و مسلک رنگ ونسل سے بالا تر ہوکر انسانیت کی خدمت کو یقینی بنانا ہوگا ۔ پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاون کی حکمت عملی نہایت موثر رہی ہے ۔ اب بھی احتیاطی تدابیر کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑناچاہیے ۔

پاک فوج کالائق تحسین کردار

ملک کے اندر کوئی آفت ہو، زلزلہ ہو، سیلاب ہوں امن عامہ کی صورتحال ہو یا مردم شماری میں پاکستانی فوج کا کردار مرکزی اور اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ گزشتہ روزآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور ہیڈ کوارٹرز پشاور کا دورہ کیا جہاں انھیں سیکیورٹی کی صورتحال، قبائلی اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔ پاک فوج کے سپہ سالار نے کورونا کے پھیلاءو کی روک تھام کےلئے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سول انتظامیہ کی مدد، بہتر سرحدی انتظام اور سیکیورٹی کی صورتحال میں بہتری کو بھی سراہا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے جاری عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ دراصل افواج پاکستان نے ملکی دفاع، قومی سلامتی، جمہوری استحکام اور دہشت گردی کے خاتمہ کےلئے سر انجام دیں ۔ عالمی سطح پر بھی ہماری فوج اعلیٰ صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ میں اسے دنیا کی بہترین فوج قرار دیا جو پاکستان ، افواج پاکستان اور پاکستانی عوام کےلئے باعث فخر ہے ۔ یہاں اس امر کا اظہار بھی بے جا نہ ہوگا کہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی دنیا کے کسی بھی خطے میں جتنے بھی امن دستے بھیجے گئے پاکستان ان میں پہلے نمبر پر ہے ۔ الحمد اللہ پاکستان میں جہاں وفاقی و صوبائی انتظامی ادارے پاک فوج کے جوان اور پیرا ملٹری فورسز کے جوان اور خاص طور پر پیرا میڈیکل اسٹاف ڈاکٹرزو نرسزفرنٹ لائن پر کھڑے ہوکر کردار ادا کر رہے ہیں وہیں وطن کے یہ خدمت گار اور وفادار بیٹے اسکاءوٹس دستوں کی صورت میں ملک و ملت کے شانہ بشانہ اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہے ہیں جو قابل تحسین ہے ۔