- الإعلانات -

بجٹ ،اپوزیشن اورحکومت!

جون گرمی کا سب سے مشہورمہینہ ہونے کے باوجود خیر عافیت اور بغیر خصوصی گرمی کے گزر گیا دنیا میں حکومتیں جی سے بھی اپنا سالانہ نظام چلاتی ہیں منصوبہ بندی کرتی ہیں پاکستان میں جون ;200;ئندہ سال کیلئے حکومتی نظام معشیت چلانے کا مہینہ ہوتا ہے موجودہ حکومت نا تجربہ کار ہونے کی وجہ سے ضرور پریشانی کا شکار رہی-مگر کرونا کی وباءکے خوف نے جہاں عالمی سطح پہ معیشت کو تباہ کیا ہے پاکستان بھی اسکی تباہ کاریوں سے صوبائی ووفاقی حکومت کے درمیان چپلقش کی وجہ سے خوب متاثر ہوا ۔ موجودہ حکومت کے چیف ایگزیکٹو عمران خان اگرچہ انتہائی دیانتدار محنتی مخلص اور انتھک قسم کے انسان ہیں مگر سیاسی ناتجربہ کاری مفاد پرست ساتھیوں کی وجہ سے قدم قدم پر مشکلات کاشکار رہیں گے اورانکی حکومت لولی لنگڑی ہونے کی وجہ سے اتحادیوں کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی ق لیگ،مہاجرقومی موومنٹ،جمہوری وطن پارٹی، مینگل گروپ اور پگاڑا اتحادکےساتھ ملکر حکومت بنانا پاکستان تحریک انصاف کی بہت بڑی کامیابی تھی مگرالیکشن کے بعد پیپلزپارٹی ،نوازلیگ کے ممکنہ لوٹوں کونہ توڑکر عمران خان کے مشیروں نے سیاسی نالائقی وناپختگی کا مظاہرہ کرکے اپنے لیے سیاسی مسائل پیدا کئے ہیں پاکستان تحریک انصاف نے جہاں تمام سیاسی پارٹیوں کے کئی نامور افراد کو توڑ کر الیکشن سے پہلے اپنے ساتھ ملایا تھا یہ غلطی تھی یادرست فیصلہ یہ الگ بحث کامتقاضی ہے اسی طرح الیکشن کے بعد مختلف جماعتوں سے لوٹوں کو توڑکر تحریک انصاف میں شامل نہ کرکے تحریک انصاف کے تھینک ٹینک نے تحریک انصاف کو کمزور کیا ہے تحریک انصاف نے لوٹے توڑکرخودکومضبوط کیا ہوتا تو کبھی ق لیگ اور نہ کبھی متحدہ قومی موومنٹ اور نہ کوئی تیسرا اتحادی نخرے کرکے حکومت کو بلیک میل کرتا اور نہ ہی حکومت کی گرفت انتظامیہ پر کمزور ہوتی ایک طرف اتحادی روزناراض ہوکر اپنے ناجائز مطالبات لیکر بلیک میل کرتے ہیں تو دوسری طرف جماعت کے اندر جو مافیا جو جماعت کی کمزوری کو دیکھتاہے توحکومت کی بنیادیں کمزور کرنے کی سازشوں میں لگ جاتا ہے پاکستان تحریک انصاف کو عوام نے اقتدار سے نواز کر تاریخی کامیابی سے ہمکنار کیا یہ کامیابی تحریک انصاف کی محنت وخدمت کاصلہ نہیں بلکہ یہ کامیابی ملک کی عوام کی سابقہ برے سیاسی گروہوں جماعتوں اور سوچوں کے خلاف بغاوت تھی شکست خورد ہ حضرات اس کامیابی میں نا دیدہ قوتوں کا ہاتھ قرار دیکر اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کرتے ہیں پاکستان تحریک انصاف میں بڑے دماغ بڑے لوگ بڑے گھرانے تو ہوسکتے ہیں مگر تحریک انصاف کی کامیابی میں صرف عوام اور عمران خان کا ہاتھ تھا بڑے نام اور گھرانے تحریک کی کامیابی کی بجائے تحریک کو کمزور کرنے والوں میں ہیں عمران خان کے لیے مشکلات میں کمزور حکومت نا قابل اعتبار اتحادی اور انتہائی کمزور معیشت کے ساتھ ملکی حالات ہیں جن کا فائدہ کرپٹ اور مفاد پرست بیورو کریسی نے خوب خوب اٹھایا عمران خان نے کرپٹ سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ مافیا بیورو کریسی کے خلاف جس جنگ کا اعلان کیا ہے عمران خان کے اتحادی اس جنگ میں بیوروکریسی کےساتھ ہم خیال ہوچکے ہیں عمران خان کے نالائق ساتھی اور ناتجربہ کار ممبران اسمبلی نے عوام کو مایوس کیا اور عمران خان کو کمزور کیا ہے خصوصا عالمی منڈی میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی پر ملک میں تیل کی قیمتوں میں کمی پرعمران خان حکومت عوام سےخوب داد لیتی مگرتیل کی قیمتوں میں کمی پرجس ذلت وخواری کا سامنا حکمرانوں اور عوام کو کرنا پڑا تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملے گی اور اسی مہینے بغیر شیڈول کے حکومت نے تیل کی قیمتوں میں بلاجواز تاریخی اضافہ کر کے اپنی رہی سہی ساکھ کو مٹی میں ملادیاتیل کی قیمتوں میں بلا جوازاضافہ حکومتی نہیں مافیا کا فیصلہ تھاجس کی سزا عمران حکومت کو ضرور ملے گی ہاں بجٹ کو اپوزیشن نے ہر صورت مسترد اور رد کرنا ہوتا ہے ایساکردار ہر اپوزیشن کو بدنام کرتا ہے موجودہ حکومت نے بجٹ کے بغیر تیل کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ کرکے اپنی نالائقی ناتجربہ کاری اور عوام دشمنی کا ثبوت دیا ہے ۔ کاش عمران خان کی ٹیم میں شیخ رشید جیسے چند دوستوں کا شمار ہوتا ورنہ عامر کیانی اور بابر اعوان جیسے حضرات مخلصوں کی شکل میں مضر ثابت ہوتے رہیں گے ۔