- الإعلانات -

یوم شہدائے کشمیر، کنان پوشپورہ اور نیلی !

کشمیر کی آزادی کی تحریک میں یوں تو ہر دن ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ گزشتہ 70 ۔ 80 برس میں قابض بھارتی حکمرانوں نے کشمیری عوام کے خلاف لگ بھگ ہر ہفتے، عشرے بعد کوئی نہ کوئی ایسا ظلم ڈھایا ہے جس کو فراموش کرنا کشمیری عوام کے بس کی بات نہیں مگر پھر بھی کچھ دن اور تاریخیں اس حوالے سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں ۔ انہی میں سے ایک 13 جولائی کا دن بھی ہے ۔ کیونکہ 13 جولائی 1931 کو کشمیر کے ہندو ڈوگرہ حکمرانوں نے 22 کشمیریوں کو شہید کر کے گویا تحریکِ آزادی کشمیر کی باقاعدہ بنیاد رکھ دی تھی ۔ یہ سانحہ سری نگر کی سینٹرل جیل کے سامنے پیش آیا چونکہ جیل کے اندر اور باہر حکمرانوں نے اذان دینے اور نماز پڑھنے کی پابندی لگا رکھی تھی ۔ اس ظلم کے خلاف جب نہتے معصوم کشمیریوں نے صدائے احتجاج بلند کی تو ڈوگرہ سپاہیوں نے نہتے کشمیریوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں 21 کشمیری موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ 100 کے قریب زخمی ہوئے ۔ ان شہادت پانے والوں کا جرم محض یہ تھا کہ وہ اپنے ہندو حکمرانوں سے مطالبہ کر رہے تھے کہ انھیں اذان دینے اور نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے مگر اس انتہائی جائز مطالبے کے ردِ عمل کے طور پر ان سے زندہ رہنے کا بنیادی حق چھین لیا گیا ۔ یوں دہلی حکمرانوں نے ثابت کیا کہ ان میں انسانیت کی ادنیٰ سی رمق بھی باقی نہ تھی ۔ اسی روش کو جاری رکھتے ہوئے دہلی سرکار نے گذشتہ 73 برسوں میں کشمیر کے حریت پسند عوام کے خلاف ظلم و جبر کے وہ پہاڑ توڑے ہیں جن کو احاطہ تحریر میں لانا بھی پوری طرح ممکن نہیں ۔ بہر کیف امید کی جانی چاہیے کہ انسان دوست عالمی حلقے بین الاقوامی میڈیا اور وطنِ عزیز کی سول سوساءٹی اس ضمن میں اپنا انسانی فریضہ نبھائے گی ۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی درندگیوں کا تذکرہ کرتے اگر کنان پوشپورہ واقعے پر نگاہ نہ ڈالی جائے تو یہ غالباً مناسب نہیں ہو گا ۔ رواں برس 23 فروری کو ’’کنان پوشپورہ سانحہ‘‘ کے 29 سال پورے ہو گئے، یہ ایسا جگر خراش واقعہ ہے جس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے بھی ہر انسان دوست کا کلیجہ پھٹ سا جاتا ہے ۔ یاد رہے کہ ’’کنان‘‘ اور ’’پوشپورہ‘‘ کپواڑا ضلع میں واقع دو جڑواں گاءوں ہیں ۔ 29 برس قبل 1991 کی 23 فروری کو اس وقت انسانیت شرمندہ ہو گئی جب بھارتی قابض فوجیوں نے کریک ڈاءون اور تلاشی کے نام پر ان گاءوں میں قیامت برپا کر دی اور ’’ہیومن راءٹس واچ‘‘ کے مطابق 100 سے 150 کے درمیان خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کی اور یہ مکروہ سلسلہ رات بھر جاری رہا ۔ 80 برس سے لے کر 13 برس کی بچیوں تک کو اس سفاکیت کا نشانہ بنایا گیا ۔ یہ ایسا سانحہ ہے جس پر افسوس ظاہر کرنے کیلئے الفاظ بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں مگر انسانی حقوق کے ادارے اس تمام صورتحال پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ ایسی باتوں پر مزید تبصرہ کسی ذی شعور کےلئے ممکن ہی نہیں ۔ دوسری طرف کسے معلوم نہیں کہ بھارتی صوبے آسام میں ’’ نیلی ‘‘ کے مقام پر 18 فروری 1983 کو محض چھ گھنٹوں کے اندر 2191 مسلمانوں سے زندہ رہنے کا بنیادی حق چھین لیا گیا تھا ۔ بظاہر یہ ایسی بات ہے کہ عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا مگر آفرین ہے ’’ ہندوستان ‘‘ پر کہ اس کی تاریخ ایسے اندونہاک واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ یاد رہے کہ ’’ رادھا کانت ‘‘ نامی ایک ہندو دانشور نے چند روز قبل ایک ٹی وی پروگرام میں اپنے انٹر ویو کے دوران کہا کہ کشمیر ( مقبوضہ ) میں آئے روز بے گناہوں کو جان سے مار دینا معمول کی بات ہے اور بالعموم کچھ روز گزرنے کے بعد ان واقعات کا ذکر بھی نہیں کیا جاتا ۔ اسی تناظر میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ آسام کے 14 دیہات ’’ علیسنگھا ، کھلا پتھر ، بسُندھری ، بغدُبا بیل ، بورجلا ، بنٹنی ، اِندر ماری ، بغدُبا ہبی ، ملادھاری ، متی پربت ، متی پربت نمبر8 ، سبہتا ، بوربری اور ’’ نیلی ‘‘ میں اس وقت قیامت بپا ہو گئی جب صبح کے تقریباً 9 بجے جنونی ہندو گروہوں نے اچانک مسلمان اکثریتی علاقوں پر دھاوا بول دیا اور چند گھنٹوں کے اندر ان علاقوں کے تمام مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ یاد رہے کہ آسام میں ان دنوں بھی یہ تحریک خاصے زوروں پر تھی کہ آسام کے تمام وسائل پر بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمان پناہ گزینوں نے قبضہ کر رکھا ہے ۔ اس تحریک کی پُشت پر ’’ آسام گن پریشد ‘‘ نامی تنظیم تھی جس کا روحِ رواں ’’ پرفُل کمار مہنت ‘‘ نامی ایک طالبِ علم سٹوڈنٹ لیڈر تھا جو بعد میں آسام کا وزیر اعلیٰ بھی بنا ۔ اس تحریک کے بنیادی محرکات میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اندرا گاندھی نے بنگلہ دیش سے آئے چالیس لاکھ پناہ گزینوں کو عارضی طور پر بھارتی شہریت دینے کا اعلان کیا تھا جبکہ انتہا پسند ہندوءوں نے ’’ ;85767065;‘‘ ( یونائیٹد لبریشن فرنٹ آف آسام ) اور ’’ بوڈو لینڈ فرنٹ ‘‘ کے زیرِ اہتمام کانگرس کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ بنگلہ دیش سے آئے مسلمانوں کو کسی صورت آسام میں بسنے نہیں دیں گے ۔ توجہ طلب ہے کہ انڈین ایکسپریس کے ’’ ہمندر نارائن ‘‘ ، آسام ٹربیون کے ’’ بیدبراتا لاہکر ‘‘ اور اے بی سی نیوز کے ’’ اجے شرما‘‘ اس نسل کشی کے عینی شاہد تھے اور انھوں نے اپنے اخبارات میں اس معاملے کی پوری تفصیلات بیان کیں ۔ کہاجاتا ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یہ اپنی نوعیت کی سب سے بھیانک نسل کشی تھی ۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق دہلی کے قابض حکمرانوں کو یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جموں کشمیر کے غیور عوام اپنے ایک لاکھ سے زائد فرزندوں کی قربانیاں دے چکے ہیں اور یہ طے ہے کہ جلد یا بدیر قابض بھارتیوں کو کشمیر سے رخصت ہونا ہو گا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ کفر کی حکومت تو شاید کچھ عرصہ نکال جائے مگر ’’ظلم‘‘ کے کالے اندھیرے زیادہ دیر تک صبح کے اجالوں کو طلوع ہونے سے نہیں روک سکتے ۔