- الإعلانات -

چین کے ساتھ کشیدگی اور بھارتی خفیہ اداروں کی نا اہلی

گزشتہ دو ماہ سے چین بھارت سرحد پر جو واقعات پیش آئے ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بھارت کے خفیہ اداروں کے پاس دشمن کے خفیہ منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے;238; اس سلسلے میں بھارتی انٹلیجنس کے سابق چیف جنرل (ر) امرجیت بیدی کا سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ وادی گلوان میں چینی فوجیوں کے ساتھ لڑنے والے بھارتی فوجیوں کو انٹیلی جنس کی جانب سے خبردار کیا جانا چاہیے تھا ۔ چینی فوجیوں کی نقل و حرکت کے بارے خبریں رکھنا اور ان کی نگرانی کرنا بھارتی انٹیلی جنس کمپنیوں کا کام ہے ۔ اگر انہوں نے اپنا کام درست طریقے سے نہیں کیا تو بحران کے خاتمے کے بعد اس بارے میں مکمل تفتیش ہونی چاہیے کہ ہمارے فوجیوں کو اس بارے میں کوئی اطلاع کیوں نہیں ملی ۔ مستقبل میں بھی اپنے نظام کو بہتر بنانے کےلئے یہ ضروری ہے ۔ ان کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ یہ جانچ صرف فوج کے اندر نہیں بلکہ خفیہ ایجنسیوں سمیت دیگر ایجنسیوں کے اندر بھی ہونی چاہیے ۔ ہم نے کارگل حملے کے بعد بھی ایسی ہی تفتیش کی تھی اور اس کےلئے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی ۔ اس وقت جب کہ بھارت اور چین کے مابین شدید کشیدہ صورتحال ہے تو کیا بھارتی سیٹلاءٹ سرحد کی واضح تصویر پیش کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ;238;جس پر جنرل(ر) امرجیت بیدی نے کہا کہ چین کے پاس بلا شبہ وسائل زیادہ رہے ہیں ۔ وقت کے ساتھ چین اپنی فوجی صلاحیت میں کافی حد تک بہتری لایا ہے ۔ چین کے پاس بھارت کے مقابلے میں تین سے چار گنا زیادہ سیٹلاءٹس موجود ہیں ۔ لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ اس وقت چین کی صلاحیت بہت زیادہ ہے لیکن میں یہ نہیں کہوں گا کہ چین کے مقابلے میں ہ میں بہت زیادہ قلت کا سامنا ہے ۔ بھارت نے بھی وقت کے ساتھ اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے ۔ چین نے جس طرح بھارتی فوجیوں کو مارا اور علاقے پر قبضہ کیا تو اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے پہلے سے ہی جامع منصوبہ بندی کر رکھی تھی ۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ایل اے سی (چین بھارت سرحد) پر بھاری گولہ بارود استعمال کرنے کی اجازت نہیں تو چین کے کراٹے ٹیم سرحد پر موجود تھی جس نے گھونسوں اور ڈنڈوں ‘ مکوں ‘ لاتوں سے بھارتی فوجیوں کی تواضع کی ۔ اس سلسلے میں بھی بھارتی فوجیوں کی لاعلمی ان کےلئے وبال جان بن گئی کہ بھارتی فوجیوں نے اپنی طاقت کے زعم میں 7 بارچینی سرحدکی خلاف ورزی کی اور چینی فوجی اہلکاروں پر حملہ کر دیا اور اشتعال انگیزی پھیلائی جس کے نتیجہ میں جھڑپ شروع ہو گئی ۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے جوانوں نے گھونسوں اور ڈنڈوں ‘ مکوں ‘ لاتوں کا آزادانہ استعمال کیا ۔ ایک امریکی جریدے نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق بھارتی فوجیوں کی ہلاکت گولی لگنے سے نہیں ہوئی ۔ بھارتی فوج اس واقعے پر مکمل طور پر خاموش ہے اور صرف یہ کہہ رہی ہے کہ وہ چین کے ساتھ تناوَکو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ جس دن چینی اور بھارتی افواج کے درمیان جھڑپ ہوئی اسی دن بھارتی وزیر دفاع راجھ ناتھ سنگھ کی زیر صدارت بھارت کی تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کا اجلاس ہوا جس میں چیف آف ڈیفنس نے بھی شرکت کی ۔ سرحدی کشیدگی کے بعد بھارتی آرمی چیف نے پٹھانکوٹ ملٹری بیس کا دورہ منسوخ کر دیا کیونکہ ان کو ڈر تھا کہ کہیں چینی وہاں بھی نہ آجائیں لیکن سب سے زیادہ تو بھارتی وزیر اعظم مودی ڈرے ہوئے ہیں کہ وہ کسی صورت مان کر ہی نہیں دے رہے کہ چین بھارتی علاقے پر قابض ہوگیا ہے ۔ اس معاملے میں وہ جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہے ہیں ۔ چین کے ساتھ چپقلش کے بعد ہندوستانی عوام امید کر رہے تھے کہ وزیر اعظم مودی قوم سے خطاب میں اصل حقیقت بتائیں گے مگر بھارتی عوام کی توقعات پانی پھر گیا جب 30 جون کو ٹی وی پر قوم سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب میں مودی نے چین کے ساتھ جاری کشیدگی کے بارے میں ایک لفظ تک نہیں کہا ۔ چین کے ساتھ بھارت کی محاذ آرائی 5 مئی سے لداخ میں ہوئی ۔ ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد 17 جون کو بھارتی وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں کہا’ ہندوستان امن چاہتا ہے ، لیکن اگر اس کو اکسایا گیا تو اس کا مناسب جواب دیا جائے گا ۔ ہمارے فوجی دشمن کے فوجیوں کو ہلاک کرتے ہیں ۔ لیکن انہوں نے اپنی پوری تقریر میں چین کا نام تک نہیں لیا ۔ بلکہ حد تو یہ کہ19 جون کو آل پارٹی اجلاس میں مودی نے دعوی کیا کہ نہ تو کوئی ہماری سرحد میں داخل ہوا ہے اور نہ ہی کسی نے ہماری کسی پوسٹ کو قبضہ کیا ہے ۔ یہاں یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ لداخ میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت کے ساتھ ، چین نے متنازع علاقوں پر کئی کلومیٹر تک قبضہ کرلیا ہے ، لیکن مودی لب نہیں کھول رہے ہیں اور وہ قاتل یا حملہ آور کا نام تک نہیں لے رہے ہیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے;238;اس کی ایک وجہ تو یہ بھی ہو سکتی ہے کہ چین نے خشکی اور بحری اطراف سے بھارت کو گھیر لیا ہے ۔ علاقے کے تمام ممالک پہلے ہی بھارت سے تنگ تھے لہٰذا نیپال ، بھوٹان، بنگلہ دیش، سری لنکا حتیٰ کہ بھارتی بغل بچہ افغانستان سے بھی بھارتی حمایت میں کوئی بیان نہیں آیا ۔ بھارت نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا میں تنہا رہ گیا ہے ۔ اب شائد اس کو احساس ہو جائے کہ جن بیرونی آقاؤں کی شہ پر وہ خطے میں چودھراہٹ دکھاتا تھا وہ بھی خاموش تماشائی بنے تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ کوئی بھی قوم کسی بھی حالت میں اپنی خودمختاری سے سمجھوتہ نہیں کرتی ہے اور اپنے تحفظ کےلئے کسی اخلاقی اصول پر عمل نہیں کرتی ہے ۔ ہاں اگر وہ اپنے دشمن سے کمزور ہے یا اس کی قیادت کمزور ہے تو اسے اس طرح کی توہین کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ہندوستان کے ساتھ بھی ایسی ہی صورتحال ہے ۔ چین بھارت سرحدی تنازع اور چین کی بھارتی علاقے میں پیش قدمی، لداخ پر چینی افواج کے قبضے سے لے کر بھارتی اور چینی افواج کے درمیان لڑائی جس میں 20 کے قریب بھارتی فوجی مارے گئے اور 85 کے قریب زخمی ہوئے ، یہی نظر آرہا ہے کہ ہر میدان میں چین کا پلہ بھاری ہے ۔ بھارتی فوج کا مورال انتہائی پست ہے ۔ بھارتی سیاسی قیادت کی خاموشی اور تنازعہ کی حقیقت سے انکار ، کیا یہ وہی بھارت ہے جس کو امریکہ اتنے سالوں تک چین اور پاکستان کےخلاف تیار کرتا رہا ۔