- الإعلانات -

حکومتی منصوبے پاکستان کی ترقی کے ضامن

وزیراعظم نے معاشی صورتحال پر تھینک ٹینک اجلاس میں کہاہے کہنا ہے کہ کووڈ ۔ 19 نے عالمی معیشت اور پاکستان پر بھی منفی اثر ڈالا ہے، معاشی نمو کےلئے آوٹ آف دی باکس حل کی ضرورت ہے ۔ بنیادی توجہ معاشرے کے غریب طبقے کو امداد فراہم کرنے پر ہے، احساس پروگرام غربت کے خاتمے کےلئے حکومت کا فلیگ شپ پروگرام ہے ۔ معاشی نمو کےلئے آوٹ آف دی باکس حل کی ضرورت ہے، کووڈ ۔ 19 نے عالمی معیشت اور پاکستان پر بھی منفی اثر ڈالا ہے، معاشی سرگرمی اورعوام کوکرونا سے بچانے میں توازن برقرار رکھنے کےلئے حکمت عملی اپنائی ۔ معاشرے کے غریب طبقے کو ٹارگٹڈ سبسڈی کے ذریعے امداد فراہم کرنا اولین ترجیح ہے ۔ احساس پروگرام کی مزید ضرورت مندوں تک توسیع کی ضرورت ہے ۔ تعمیرات اور رہائش کے شعبے کےلئے بہترین پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے، تعمیرات پیکج کا مقصد روزگار کے مواقع اور معیشت کے پہیے کو چلانا ہے، پیکج کا مقصد غریبوں کےلئے سستی رہائش کے مواقع میں اضافہ کرنا ہے ۔ حکومت کے جاری اقدامات پالیسیوں اور پروگراموں کے بارے میں تھنک ٹینک کی باقاعدہ آرا فراہم کی جائیں ۔ وزیراعظم نے ضرورت مندوں تک ان کا حق پہنچانے کی ہدایت بھی کی ہے ۔ وفاقی حکومت ملک میں گڈ گورننس کے فروغ کےلئے انقلابی نوعیت کے اقدامات کررہی ہے ا ور اس ضمن میں حکومت پنجاب سے بھی تعاون جاری رکھا جائے گا ۔ قیام پاکستان لے کر آج تک اس ملک کا نظام صحیح سمت پر گامزن نہیں ہوسکا ۔ اسی وجہ سے ترقی کے حالات بھی معدوم نظر آتے ہیں جو بھی حکمران آیا اس نے اپنے مفادات کے تحت قانون کو استعمال کیا لیکن ملک و قوم کی جانب کسی نے بھی قابل ذکر توجہ نہیں دی ۔ مفاداتی سیاست نے اس ملک و قوم کا بیڑہ غرق کیا ۔ نہ ہی ایوانوں میں اس طرح قانون سازی ہوئی جیسا کہ حق بنتا تھا ۔ جو بھی آیا اس نے کہا کہ ہم نظام بدلیں گے لیکن آخر کار نظام بدلتے بدلتے وہ خود ہی بدل گیا اب چونکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے اور عمران خان کی تقریباً22 سال کی جدوجہد بھی شامل ہیں جس میں انہوں نے پاکستانی قوم کو ایک وژن دیا، ایک منزل کا تعین کیا کہ وطن ہوگا تو کرپشن سے فری ریاست ہوگی تو مدینہ پاک جیسی یہ دو ایسے بنیادی اصول ہیں جن پر چل کر منزل حاصل کی جاسکتی ہے ۔ کیونکہ مدینہ جیسی ریاست میں مساوات واضح نظر آتی ہے اور وہاں پر کرپشن اور کرپٹ افراد کی کوئی گنجائش نہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر یہ دو منازل طے کرنی ہیں تو اس کیلئے قربانی دینا پڑے گی اور وہ قربانی مصداق اس کے ہوگی کہ، ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز، نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز، جب ان بنیادوں پر عمل ہوگا تو پھر تبدیلی آئے گی ۔ یہ ہے تحریک انصاف پاکستان کی حکومت کا تیسرا ویژن ۔ وزیراعظم پاکستان اس حوالے سے رات دن تگ ودو میں ہیں ۔ کوئی بھی تقریب ہو، کسی جگہ جائیں ، کوئی بھی موقع آئے وہ اپنے عزم مصمم کو ہر صورت دہرا کر عوام کو باور کراتے ہیں کہ وہ اپنی منزل لازمی حاصل کریں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس منزل کے راستے میں جو رکاوٹیں آرہی ہیں کیا حکومت انہیں دور کرنے میں کامیاب ہوسکے گی ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھی اسی طرح نسل کی جا سکتی ہے جس طرح 1995 میں سربرینکا میں کی گئی تھی، عالمی برادری نوٹس لے اور اس عمل کو روکے ۔ نسل کشی کی 25ویں برسی کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سربرینکا میں جو نسل کشی کی گئی وہ انہیں اب بھی یاد ہے ۔ ہ میں یہ دیکھ کر دھچکا لگا تھا کہ اقوام متحدہ کی محفوظ پناہ گاہوں میں قتل عام کی اجازت کس طرح دی جا سکتی ہے، اب بھی سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ عالمی برادری اس طرح کی چیز کی اجازت کیسے دے سکتی ہے ۔ یاد رہے کہ 1995 میں سربرینکا میں سرب فوجوں نے جنگلات میں میں پیچھا کر کے 8 ہزار افراد کو بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا تھا ان میں سے اکثریت مسلمان مرد و لڑکوں کی تھی ۔ اسے یورپ میں جنگ عظیم دوئم کے بعد سب سے بدترین سانحہ قرار دیا جاتا ہے اور اس قتل عام کو نسل کشی قرار دیا گیا تھا ۔ اہل کشمیر ہر سال 13 جولائی کو اسی واقعہ کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اسے یوم شہدا کے طور پر مناتے ہیں ۔ ان واقعات کا پسِ منظر کوئی فوری رد عمل نہیں تھا بلکہ سالوں سے کچلے ہوئے انسانوں کی ایک چیخ تھی ۔ جس نے عوام کا خون چوسنے والے ڈوگرہ کے ایوان اقتدار کی دیواریں ہلادی تھیں ۔ ظلم تلے کچلے ہوئے انسانوں کی ایک آواز تھی جو ڈوگرہ حکمرانوں کے اقتدار کےلئے خطرے کی گھنٹی بن گئی ۔ 1931ء میں کچھ ایسے واقعات ہوئے جس سے مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا مسلمانوں کے عظیم دین اسلام کی توہین کی گئی ۔ ایک دفعہ مسلمانوں کو عید گاہ میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا ۔ انگریز اور ہندو مو رخین کے مطابق جتنے بھی شہید ہوئے سب کے سینوں پر گولیاں لگی تھیں ۔ ان کے خون سے ایسی تحریک اٹھی اور سیاسی بیداری پیدا ہوئی اور برصغیر کی تیسری بڑی جماعت آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کا قیام عمل میں آیا ۔ یہ دن ہر سال مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر پاکستان اور پوری دنیا میں جذبے، جوش، عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے اور شہداء کے مشن مکمل کرنے، حق خود ارادیت کے حصول کا عہد کیا جاتا ہے ۔ چند دن قبل برہان وانی شہید کی برسی بھی اسی عہد سے منائی گئی تھی ۔

بھارتی جنگی جنون تھم نہ سکا

لائن آف کنٹرول سماہنی سیکٹر میں بھارتی فوج نے شہری آبادی پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کی جس میں چند ایک رہائشی مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے جبکہ مکئی کی فصلوں اور کھیتوں کو نقصان پہنچا ،دھماکو ں کی آوازیں دور دور تک سنائی دیتی رہیں ، تاہم شہری آبادی کسی بھی جانی و مالی نقصان سے محفوظ رہی ، مسلح افوا ج پاکستان کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی پر دشمن فوج کو فوری بھاری ہتھیاروں سے دندان شکن جواب دیا گیا جس سے دشمن فوج کے متعدد مورچوں میں تباہی مچ گئی ۔ ادھر سیز فائر کی خلاف ورزی پر بھارتی فوج کو کرارا جواب دینے پر سیز فائر لائن کی فضا مسلح افواج پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی کنٹرول لائن پر آباد شہریوں کے حوصلے بلند ،بھارت کی ہر طرح کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ۔ ایل او سی پر بھارتی فوج کی آئے روز بلا اشتعال فائرنگ وگولہ باری نے مکینوں کی زندگیوں کو مکمل اجیران بنادیا ہے ، ایل اوسی مکینوں نے حکومت پاکستان، عالمی برداری اور قوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایل اوسی پر آباد سویلین آبادی پر بھارتی فوج کی جارحیت کا سختی سے نوٹس لے اور یہ سلسلہ فوری بند کروائے ۔ بھارت کا جنگی جنون تھم نہ سکا ۔ ;200;ر ایس ایس کی نمائندہ مودی سرکار نے سیکولر بھارت کو ہندو انتہا پسند ریاست میں تبدل کرنے کےلئے کشمیری عوام اور بھارتی مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو مظالم کے نت نئے ہتھکنڈوں کے زور پر عملا زندہ درگور کر دیا ہے ۔ کشمیری عوام کرفیو میں اپنے گھروں میں محصور ہو کر بے بسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں جن کےلئے ضروریات زندگی کی ہرچیز ناپید ہو چکی ہے اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی رابطے کے تمام ذراءع معطل ہونے کے باعث وہ بیرونی دنیا اور اپنے پیاروں تک کو اپنے حالات زندگی سے ;200;گاہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ۔ اس وقت بھارتی اقلیتوں کو دبانے کےلئے مودی سرکار نے ظلم و جبر کے جو راستے اختیار کئے ہیں اس کے باعث مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی پر پوری دنیا متفکر ہے اور سلامتی کونسل سے یورپی یونین تک ہر نمائندہ عالمی ادارے کی جانب سے بھارت پر حالات معمول پر لانے اور بالخصوص اقلیتوں کے حقوق محفوظ کرنے کےلئے دباءو ڈالا جا رہا ہے مگر جنونی مودی سرکار اپنی حربی طاقت کے زعم میں عالمی برادری کی جانب سے اٹھنے والی کسی ;200;واز کی جانب توجہ نہیں دے رہی ۔ عالمی قیادتوں کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے زیادہ تشویش پاکستان بھارت کشیدگی پر لاحق ہے جو مودی سرکار ہی کی پیدا کردہ ہے جس نے کنٹرول لائن پر روزانہ کی بنیاد پر شہری ;200;بادیوں پر یکطرفہ فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ ۔ مودی سرکار کے انسانی حقوق کے منافی اقدامات کا نوٹس لیاجائے ۔