- الإعلانات -

پاکستان میں انتشار کی وجوہات

پاکستان اس لئے معرض وجود میں ;200;یا تھا کہ بھارت میں دو قو میں ;200;باد تھیں ہندو اکثریت اور مسلمان اقلیت – دونوں قو میں صدیوں ایک ساتھ رہ رہی تھیں لیکن دونوں کے مزہبی اقدار ، روایات اور مزہبی عبادت گاہیں سب کچھ مختلف تھا انگریزوں کے دور حکمرانی میں ہندوءوں کی سازشوں نے مسلمانوں کو پتھر کے زمانے میں واپس دھکیل دیا تھا قائداعظم ابتدا میں پہلے کانگریس کے اہم رہنما تھے لیکن بعد میں 1906 میں قائم ہونے والی ;200;ل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے ایک نظریہ ایک نعرہ اسلام ہمارا دین اور ایک ہدف حصول پاکستان مسلمانوں کی پناہ گاہ ہوگئی یہہی نصب العین تھا بھارت تقسیم ہوا دو قومی نظریے کی بنیاد پر ۔ اس کی بڑی وجہ برصغیر کے مسلمان ایک قوم بنے اور انہوں نے قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں ایک ملک حاصل کرلیا یہ واحد ملک ہے جو مسلم قومیت کی بنیاد پر معرض وجود میں ;200;یا تھا جہاں 97 فیصد مسلمان ;200;باد ہیں ہم ایک قوم دوبارہ کیسے بنیں یہ ہمارے ملک میں ایک المیہ ہے ہم اسلامی اقدار کی پاسداری کیسے کریں یہ بھی ایک بڑا موضوع ہے چونکہ ہمارے ہاں اسلام کے ;200;فاقی نظریات پر عمل نہیں کیا جارہا ہے مسلک کی بنیاد پر علمائے کرام نے فرقے بنا لیے ہیں اور پھر بیرونی ممالک سے ہمارے ہاں مداخلت ہونا شروع ہوگئی ہے جن کے عزائم ملک میں انتشار پھیلانا اور اپنے سیاسی اور مالی مفادات حاصل کرنے ہیں ;200;ج کسی ایک مسلک کا شخص دوسرے مسلک کے مسلمان کی بات سننے کےلئے تیار نہیں چونکہ ایک ہی مسلک میں رہ کر ایک طرح کی کتابیں پڑھ کر ایسی برین واشنگ کردی گئی ہے کہ ایک دوسرے کو برداشت نہیں کیا جارہا ہے مورچہ بندی ہے فتوے ہیں عربی ہماری زبان نہیں اور جو تفاسیر ہ میں ملتی ہیں وہ ایک مسلک کی اور دوسرے کی اور ہوتی ہیں جبکہ ہم دین کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بنانا چاہتے اور نہ ہی قران مجید کو اپنا ضابطہ حیات بنانے کےلئے تیار ہیں بلکہ ہم قران مجید کو ترجمہ کے ساتھ پڑھننا اور سمجھنا ہی نہیں چاہتے ہیں اگر پڑھیں تو پتہ چلے جھوٹ، بے ایمانی فراڈ دوسروں کا حق مارنا، حرام کمانا اور کھانا دوسروں کی جائیدادوں پر قبضہ کرنا کتنا برا ہے پاکستان میں ہر گلی کے نکڑ پر ایک جعلی ڈاکٹر بیٹھا ہے جعلی دوائیں فروخت ہوتی ہیں طوطا فعال نکالنے والا ڈبہ پیر لوگوں کو ;200;لو بنا رہا ہے حکیم اور جن نکالنے والے لوگوں کی عزتیں تار تار کرتے ہیں قدم قدم پر دین بزنس ہے کاروبار ہے جبکہ غیر اسلامی ممالک نے اپنے ہاں عدل و انصاف اسلام کے رہنما اصولوں کے مطابق قائم کرلیا ہے رفاہ عامہ ہمارے خلفا راشدین کے نظام کے مطابق ہے ۔ پاکستان اس لئے قائم ہوا تھا کہ یہاں اللہ تعالی کی واحدیت نبی کریم صلی اللہ کی شریعت و سنت اور خلفائے راشدین کے طرز پر نظام قائم ہوگا ;200;ج ہم اگر کوئی اسلام کے نظام یا نبی ;200;خر الزمان کی احکامات کی بجا اوری کی بات کرے تو اس کا مزاق ;200;ڑایا جاتا ہے اسلام نے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کیا ہے ;200;ج ہمارے ملک میں عیسائی ٹائلٹس صاف کرتے ہیں جبکہ عیسائیوں کے ملک میں مسلمان ممبران ;200;ف پارلیمنٹ ہیں دوسرے مذاہب کے ساتھ ہمارا برتاو کیا ہے ;200;خر میں ایک گزارش ہے اسلام کو سمجھیں اور پاکستان کو بنانے کے مقاصد کا مطالعہ کریں ۔ ;200;خر میں اسی موضوع پر پروفیسر رفیق بھٹی صاحب ریٹائرڈ پرنسپل ڈگری کالج کی 2013 میں لکھی جانےوالی ;200;ج کے پاکستان کے تناظر میں ایک غزل اور تازہ مراسلہ کالم کا حصہ بناتا ہوں ۔ برصغیر قدیم زمانے سے متضاد اور متخالف تہذیبوں اور تمدنوں کا مرکز رہا ہےاس کی تہذیبی رنگا رنگی میں اس کی خوبصورتی بھی اور تنوع بھی ہے اختلاف کا ہونا بری بات نہیں مخالفت ہونا بری بات ہے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد بڑی سلطنتوں کو زوال ;200;یا اور جدید فلاحی ریاستوں یا قومی ریاستوں کے تصورات پروان چڑھے ہندستان کی تقسیم میں بھی یہ محرک موجود تھا یہ کوئی انہونی بات نہیں ہوئی ملک پھیلتے سکڑتے اور تقسیم ہوتے ;200;ئے ہیں ;200;ئندہ بھی ہوں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ جو علاقہ جس قوم کے ہاتھ ;200;ئے وہ اسے اس میں موجود انسانوں کے حقوق کا ;200;ئین اور قانون کے مطابق احترام کرے اور وقت کے ساتھ ساتھ اپنے قوانین میں ترمیم کر تا رہے ۔ کیوں کہ قانون کوئی حتمی یا ;200;خری حرف نہیں ہوتا ورنہ وہ قوم اپنا جواز ختم کر دیتی ہے ملک پتھروں پہاڑوں دریاوں یا جنگلات کا مجموعہ نہیں زندہ انسانوں کا زندہ جیتا جاگتا معاشرہ ہوتا ہے جس کو قومی دھارے میں قائم رکھنے کےلئے انفرادی مفادات کو اجتماعی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے برصغیر میں ایسا نہیں ہو سکا کسی طبقہ نے بھی اس کی owenership کا حق ادا نہیں کیا اسکے عدم استحکام کی اصل کہانی ہی یہ ہے اس کا حل اسے یکجا کرنے میں نہیں اس میں ;200;ئین اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ہے ہ میں و واپس جانے کے بجائے ;200;گئے جانے کی ضرورت ہے ۔ ورنہ بقول اقبال

فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے

کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

غزل رفیق بھٹی

خواہشوں کے صحرا میں سلسلے سرابوں کے

ساحلِ سمندر پر بلبلے حبابوں کے

عالموں کی مسند پر مسخر وں کے ڈیرے ہیں

الووں کے قبضے میں گھونسلے عقابوں کے

احتشام حاصل ہے نابکار لوگوں کو

بلیوں کے خوابوں میں چھیچھڑے قصابوں کے

علم محوِ حیرت ہے اب یتیم خانوں میں

گرچہ کتب خانوں میں ڈھیر ہیں کتابوں کے

عمل کی عملدار ی ذہن کا وظیفہ ہے

علم کی محبت ہے شوق میں ثوابوں کے

الجھی الجھی زلفیں ہیں مہ وشوں کے شانوں پر

ٹوٹے ٹوٹے بکھرے ہیں تار سب ربابوں کے

تو بھی اپنی حالت پر رحم کر رفیقِ من

ہاتھ ہیں ترے خالی شوق ہیں نوابوں کے