- الإعلانات -

چین و ایران باہمی تعلقات کی بحالی

چین نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کےلئے علاقے کے ممالک سے تعلقات نئے سرے سے استوار کرنا شروع کر دیے ہیں ۔ پرانی ناراضگیاں دوستیوں میں بدل رہی ہیں ۔ تجارتی معاہدے ہو رہے ہیں ۔ معاشی بلاکس بدلے جا رہے ہیں ۔ خطے میں چین کے ہاتھوں بھارت کا جو حال ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ بھارتی پشت پناہی کرنے والے امریکہ کو بھی اپنی پڑی ہے ۔ چین سے تعلقات کی تجدید کرنے والے ممالک میں ایران بھی شامل ہے ۔ ایران اور چین سٹریٹیجک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کے تحت ایران اگلے 25 سال تک چین کو درکار تمام خام تیل فراہم کرے گا ۔ ا اس کے جواب میں چین ایران کو تیل کی آمدنی کو اس کے مطابق استعمال کرنے کی اجازت دےگا جب کہ اس کے علاوہ چین کو ایران میں ایسی ریلوے لائن بنانے کی اجازت دی جائے گی جو ایران کے راستے پاکستان کو عراق اور شام سے جوڑے گی ۔ اس کے علاوہ ایران نے چین کو تیل اور گیس کی صنعت میں سرمایہ کاری کرنے کی بھی ترغیب دی ہے جس کے تحت ایران میں تیل کے شعبے میں چین اپنی مرضی سے سرمایہ کاری کر سکتا ہے ۔ دونوں ملک پیٹروکیمیکل مصنوعات، سویلین جوہری توانائی کی فراہمی، شاہراہوں ، ریلوے اور سمندری رابطوں کی تعمیر اور بینکاری میں تعاون کرینگے ۔ ایران کے ساتھ چینی تعلقات کی بحالی اور تجارتی معاہدے خاص طورپر بھارت کےلئے بہت تکلیف دہ ہیں ۔ کیونکہ بھارت نے ایران کو ہمیشہ پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی ۔ کلبھوشن یادیو بھی ایرانی پاسپورٹ پر ہی بلوچستان میں داخل ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ بھارت نے ایرانی بندرگاہ چاہ بہار بھی لیز پر لے رکھی تھی ۔ گوادر پورٹ کے بغض میں بھارت ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو اپ گریڈ کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت اس منصوبے کی آڑ میں اپنے دفاعی مقاصد پورے کررہا ہے اور خطے سمیت وسطی ایشیاء تک اپنا اثر و نفوذ بڑھانا چاہتا ہے ۔ بھارت ایران کو اپنے منفی عزائم کی تکمیل کے لئے استعمال کر رہا ہے اور پاکستان اور چین کے ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔ بھارت نے زاہدان تک ریلوے لائن بچھانے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ اگرچہ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی تجارت کے فروغ،اقتصادی ترقی ،قدرتی گیس کی فراہمی اور دیگر مقاصد کے لئے اس بندرگاہ کو توسیع دینا چاہتا ہے لیکن اصل میں بھارت کے مقاصد دفاعی اور خطے پر اپنا اثر رسوخ بڑھانے کیلئے ہیں ۔ وہ اس منصوبے کی آڑ میں پاکستان اور چین کے مشترکہ منصوبے گوادر بندرگاہ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے ۔ بھارت کی جانب سے چاہ بہار بندرگاہ میں دلچسپی گوادر بندرگاہ کے بغض کے باعث ہے ۔ چاہ بہار کو سڑکوں اور ریل کے ذریعے افغانستان کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں سے ملانا بھی بھارت کے پروگرام میں شامل ہے ۔ اس بھاری سرمایہ کاری کا بڑا مقصد تو گوادر پورٹ اور سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بھارت کو ایران اور افغانستان کے قدرتی اور معدنی وسائل کے استعمال کے مواقع بھی حاصل ہو جائیں گے ۔ بھارت کے لیے ایران، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کی تجارتی منڈیوں تک رسائی میں جغرافیائی اعتبار سے ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ان علاقوں تک تمام زمینی راستے پاکستان ہی سے ہو کر گزرتے ہیں ۔ بھارت نے اسی وجہ سے اپنی ملکی سرحد سے نو سو کلومیٹر کی دوری پر واقع چا بہار میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، کیوں کہ یہ بندرگاہ بھارت کا ان منڈیوں تک رسائی کا یہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیتی ہے ۔ جہاں تک پاک ایران تعلقات کی بات ہے تو اسلام آباد میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیرکا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات برادرانہ اور دوستانہ ہیں ۔ ایران پاک ایران سرحد کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا تعاون جاری رکھے گا ۔ ہم پاکستان کے ساتھ سرحدی سیکیورٹی مسائل کے حل کے لئے باہمی تعاون پر تیار ہیں ۔ ایران نے پاکستان کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر اپنے تعلقات استوار کئے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی سرگرمیوں کے واضح پس منظر سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک نے خطے کے تحفظ اور سلامتی میں ہمیشہ مثبت اور موثر کردار ادا کیا ہے ۔ ایران نے ہمیشہ علاقائی سلامتی کے تحفظ اور بدامنی و عدم استحکام پیدا کرنے والے عوامل اور دہشتگرد گروہوں کی بیخ کنی میں بھرپور کردار ادا کیا ہے اور ایران پاکستان کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتا ہے اور اسے غیر مستحکم کرنے کی کسی بھی کوشش کی مذمت کرتا ہے ۔ ایران کی طرف سے ان جذبات کے اظہار کے بعد بھارت کے تن بدن میں لازمی طورپر آگ لگ گئی ہوگی ۔ اب تک بھارت نے ایران کو اپنے قبضے میں کرنے کےلئے بہت کوششیں کیں ۔ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی مگر جب اس کا پھل کھانے کا وقت آیا تو ایران نے بھارت کو اپنے ہاں سے بے دخل کردیا ۔ 2016ء میں ایران اور چین کے صدور کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے مطابق دونوں ملکوں نے واضح طور پر تعلقات کی توسیع کے حوالے سے ایک 25 سالہ تعاون کے روڈ میپ کو مرتب کرنے اتفاق کیا تاکہ تمام شعبوں بشمول سیاسی اور اقتصادی امور، ایران اور چین کے تعلقات مزید فروغ پائیں ۔ اس دستاویز کا ابتدائی مسودہ دونوں ممالک کے خصوصی اداروں کی شراکت سے تیار ہوا ہے اور فی الحال یہ بات چیت کے مرحلے میں ہے اور حتمی مذاکرات کے بعد ایران اور چین کے تعاون کے معاہدے کو قانونی مراحل طے کرنے کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا ۔