- الإعلانات -

افغانستان سے امریکی افواج کا انخلاء

امریکہ نے طالبان کے ساتھ ہونےو الے امن معاہدے پر عمل درآمد کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی فورسز کے پانچ اڈے ختم کر دیے ہیں ۔ امریکا کے جن فوجی اڈوں کا بند کیا گیا ہے وہ صوبہ ہلمند، ارزگان، پکتیا اور لغمان میں قائم تھے ۔ اس بارے میں خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ امریکا نے معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کے پہلے مرحلے کی تکمیل کیلئے سخت محنت کی جن میں فوجیوں کی تعداد میں کمی اور پانچ فوجی اڈوں سے انخلا شامل ہے ۔ جیسے ہی معاہدہ اگلے مرحلے میں داخل ہوگا ۔ ہم قیدیوں کی رہائی، تشدد میں کمی اور بین الافغان مذاکرات میں پیشرفت پر زور دیتے رہیں گے ۔ طالبان نے بھی امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا خیر مقدم کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی افواج نے غیر فوجی علاقوں میں بمباری اور کابل حکومت کی حمایت میں جارحانہ حملے کئے ہیں ۔ رواں سال فروری میں دونوں فریقین کے مابین معاہدے میں واشنگٹن نے آئندہ برس کے وسط میں افغانستان سے تمام فوجیوں کے انخلا کا عزم کیا جس کے بدلے میں طالبان نے دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے افغان حکومت سے مذاکرات کا وعدہ کیا تھا ۔ معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت امریکا کا کہنا تھا کہ 135 روز کے اندر فوجیوں کی تعداد کم ہو کر 8 ہزار 600 رہ جائے گی جبکہ 5 فوجی اڈوں سے فورسز کو مکمل طور پر ہٹا دیا جائے گا ۔ اب کابل اور طالبان کے درمیان مذاکرات معاہدے میں اتفاق کردہ قیدیوں کے تبادلے کے باعث رکاوٹ کا شکار ہے ۔ کابل نے 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا تھا جس کے بدلے میں طالبان نے افغان سیکیورٹی فورسز کے ایک ہزار کے قریب مغوی اہلکاروں کو رہا کرنا تھا ۔ افغان حکومت اب تک 4 ہزار سے زائد طالبان قیدیوں کو رہا کرچکی ہے جبکہ طالبان نے 600 سے زائد افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو آزاد کیا ہے ۔ جہاں تک قیدیوں کی رہائی کا تعلق ہے تو اس ضمن میں طالبان اور کابل انتظامیہ کی طرف سے عموماً کوئی نہ کوئی بہانہ سامنے آجاتا ہے جس کو بنیاد بنا کر قیدیوں کی رہائی روک دی جاتی ہے ۔ ابھی گزشتہ دنوں ہی افغان حکومت نے ایک فہرست جاری کی جس کے مطابق ان کی جانب سے 4 ہزار سے زائد طالبان کو رہا کیا جاچکا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست کے 600 قیدیوں کو ان پر قائم جنگی نوعیت کے مقدمات کی وجہ سے رہا نہیں کیا جاسکتا ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ تمام قیدیوں کو رہا کیا جائے بصورت دیگر بین الافغان مذاکرات شروع نہیں کیے جائیں گے ۔ قیدیوں کی رہائی میں تاخیر سے بین الافغان مذاکرات شروع کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے جس سے مدتوں بعد ہونے والے اس امن معاہدے کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔ اگر یہ معاہدہ ٹوٹ گیا تو نقصان سبھی کا ہوگا ۔ امریکی افواج کی واپسی نہ صرف رک جائے گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ امن کی صورتحال مخدوش دیکھ کر مزید امریکی افواج افغانستان کا رخ کریں ۔ کابل انتظامیہ اسی بات پرغصے میں ہے کہ اسے معاہدے میں شامل کیوں نہیں کیا ۔ کیونکہ جب یہ معاہدہ ہو رہا تھا تو اس میں طالبان کے کہنے پر افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا تھا اسی لئے وہ معاہدے پر عمل درآمد میں لیل لیت سے کام لے رہی ہے ۔ معاہدے کے فوراً بعد ہی افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ وہ طالبان قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے ۔ معاہدے کے مطابق 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا معاملہ طے پایا تھا اور جواباً طالبان نے بھی افغان حکومت کے1000 قیدی رہا کرنے تھے اور ساتھ ہی افغان حکومت پر حملے بھی بند کرنے تھے لیکن افغان صدر کے انکار کے بعد طالبان نے افغان حکومت پر دوبارہ حملوں کا اعلان کر دیا ۔ یوں افغان امن معاہدہ، نفاذ پر عمل درآمد کے پہلے مرحلے میں ہی ڈیڈ لاک کا شکار ہو گیا ۔ تاہم جب سے یہ معاہدہ طے پایا ہے طالبان نے افغانستان کے بیشتر علاقوں میں حملوں میں اضافہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ زلمے خلیل زاد نے بھی اس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے بڑی تعداد میں افغان شہری مرتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس معاہدے کے بعد سے اب تک کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا ۔ اب حالات یہ ہیں کہ افغان طالبان اپنے پورے پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں جبکہ افغان حکومت کے تقریباً ایک ہزار اہلکار افغان طالبان کی تحویل میں ہے ۔ دونوں جانب سے امن معاہدے کے پہلے مرحلے میں ان قیدیوں کی رہائی ہونی تھی مگر ڈیڈلاک بھی پہلے ہی مرحلے پر ہو گیا ۔ پہلا ڈیڈ لاک اس وقت پیدا ہوا جب افغان طالبان نے ابتدا میں 15ایسے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ 15 قیدی جانتے ہیں کہ ان کے دیگر پانچ ہزار ساتھی کن جیلوں میں سڑ رہے ہیں ۔ افغان حکومت نے ان 15 قیدیوں بارے کہہ کر کہ یہ طالبان کے اہم رہنما ہیں ،کو رہا کرنے سے انکار کر دیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ 15 طالبان کمانڈر ہیں اور ملک میں بڑے دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے جن میں بڑی تعداد میں شہری ہلاک ہوئے تھے اور ان کی رہائی نہیں ہو سکتی ۔ اب حال ہی میں دی جانے والی طالبان قیدیوں کی لسٹ میں سے 600 قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار پر طالبان نے کابل حکومت سے مذاکرات کا سلسلہ وقتی طور پرختم کر دیا ہے لیکن امریکی حکومت نے معاہدے کا پاس رکھتے ہوئے افغانستان میں اپنے پانچ فوجی اڈے ختم کر دیے ہیں ۔