- الإعلانات -

صوبوں کوفنانس کمیشن بنانے کی ہدایت،مستحسن فیصلہ

وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ فنانس کمیشن بنائیں اس کمیشن کے بننے سے جنوبی پنجاب میں بننے والے صوبے کو بھی فنڈنگ ملے گی ۔ نیزسینیٹ انتخابات کے حوالے سے بھی کہاگیاکہ حکومت اس سلسلے میں شفاف انتخابات کراناچاہتی ہے اداروں میں اصلاحات لانے کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی اور کے الیکٹرک کے حوالے سے بھی موضوع زیربحث آیا ۔ وفاقی کابینہ کے ہونے والے اجلاس میں صوبوں کوفنانش کمیشن بنانے کی ہدایت کی گئی ہے وہ انتہائی مستحسن فیصلہ ہے ۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں ملاوٹ، اسمگلنگ اورگندم کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف فوری کریک ڈاون کا حکم کرتے ہوئے کہا ہے کہ گندم اور آٹے کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے اور قیمتوں کو یکساں سطح پر لانے کےلئے بین الصوبائی کوآرڈینیشن کو مزید بہتر بناتے ہوئے جامع اور منظم انتظامی اقدامات کو بھی یقینی بنایا جائے ۔ بلاشبہ اسمگلنگ ملکی معیشت کےلئے ناسور ہے جبکہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت ترین ایکشن نا گزیر ہے ۔ مصنوعی قلت اور قیمتوں میں ناجائز اضافے کا بوجھ غریب عوام برداشت کرتے ہیں لہٰذا اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزوں کی نشاندہی کےلئے انٹیلی جنس ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی جائیں اور اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خدشات والی جگہوں پر دیانتدار افسران تعینات کیے جائیں ۔ اس حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کی جائے، کسی قسم کی انتظامی رکاوٹ نہ ;200;نے دی جائے ،اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزائیں دی جائیں ۔ ذخیرہ اندوزی، ناپ تو ل میں کمی ، ملاوٹ ،ناقص مال بیچنا ، کسی چیز کی قیمت بڑھنے کے انتظار میں شئے کو مارکیٹ میں فروخت کےلئے نہ لا نا ، غلہ غائب کرکے گوداموں میں محفوظ کرلینا اور کچھ عرصے بعد جب قیمت بڑھ جائے تو مارکیٹ میں لاکر اس کی منہ مانگی قیمت وصول کرنا ،افسوس ہمارے معاشرے میں اس طرح کاروبارکرنا آجکل کاروبار میں ترقی کی ضمانت سمجھا جانے لگا ہے ۔ دودھ، گوشت اور دالوں سمیت روز مرہ استعمال کی اشیا میں ملاوٹ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے ۔ ملاوٹ کرنے والے افراد بچوں کی صحت سے کھیلتے ہیں جس کی کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ملاوٹ کی وجہ سے متعدد بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اور انسانی جانوں کو سخت خطرات لاحق ہوتے ہیں ۔ دراصل ایک بڑا یہ بھی ہے کہ کوروناوائرس کی وباء سے لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہوئے تو ملک میں غربت مہنگائی بے روزگاری کا ایک نیا طوفان امڈ ;200;یا ۔ ان حالات میں مافیا کی شکل اختیار کئے ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز طبقات نے حکومتی گورننس میں کمزوری پیدا ہونے کے تاثر سے خوب فائدہ اٹھایا اور اشیا ضروریہ بشمول ;200;ٹا گندم چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے من مانے نرخ مقرر کئے اور عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ۔ وزیراعظم عمران خان تو ان عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنے اور انکے کڑے احتساب کے باربار احکام جاری کرتے رہے مگر اس مافیا کے ہاتھوں بے بس ہوئی انتظامی مشینری انکی گرفت کے کوئی موثر اقدامات نہ اٹھا سکی ۔ اب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ذخیرہ اندوزں کی سخت پکڑ اور عوام کو ;200;ٹا چینی کم نرخوں پر مہیا کرنے کے احکام صادر کئے گئے ہیں تو عوام ان احکام پر عملدر;200;مد ہوتا دیکھنا بھی چاہتے ہیں ۔ حکومت نے ذخیرہ اندوزی کےخلاف آرڈیننس بھی نافذ کیاہواہے ۔ آرڈیننس کے تحت ذخیرہ اندوزوں کو تین سال قیدتک کی سزا دی جا سکے گی ۔ اصل بات تو یہ ہے کہ قوانین تو بنتے رہتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد کروانے والے متعلقہ ادارے اور افسران ، اہلکاران جب تک اپنے فراءض کو نہیں سمجھیں گے اس وقت تک کچھ نہیں ہو گا ۔ حکومت کوحکمت عملی بنانی چاہیئے اشیائے ضروریہ کی سرکاری قیمتوں کے تعین کا میکانزم بھی بنایا جائے ۔ انسداد ذخیرہ اندوزی کے آرڈیننس پر عمل درآمدکےلئے انتظامیہ کو انتہائی سخت کارروائیاں کرنا ہو نگی تاکہ عوام الناس کو حقیقت میں کچھ ریلیف مل سکے ۔

پنجگور میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ

پاکستان میں چھپے دہشت گرد موقع ملتے ہی دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کےلئے کوشاں نظر ;200;تے ہیں ۔ گو ان میں پہلے جیسی دہشت گردی کی سکت نہیں رہی تاہم وہ چھوٹی موٹی دہشت گردی کی وارداتوں سے ملک میں بدامنی کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں ۔ جیسے گزشتہ روز سیکورٹی فورسز کے اہلکار پنجگور کے علاقے گچک میں معمول کی گشت کر رہے تھے وہ جیسے ہی کاہان کے قریب پہنچے تو پہاڑوں پر موجود دہشت گردوں نے گشتی قافلے پر شدید فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں تین جوان موقع پر ہی شہید جبکہ ایک میجر سمیت آٹھ اہلکار زخمی ہو گئے ۔ زخمی جوانوں نے جراَت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی جس پر حملہ آور پہاڑی علاقے میں فرار ہو گئے اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے کر لاشوں اور زخمیوں کوپنجگور ہسپتال پہنچایا جہاں طبی امداد کے بعد زخمیوں کو تشویشناک حالت میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے کوءٹہ سی ایم ایچ منتقل کر دیا ۔ ملک دشمن قوتیں اور انکے آلہ کار ایک مرتبہ پھر بلوچستان میں بد امنی پیدا کرنے کی سازش کر رہے ہیں تاہم ملک اور صوبے کے خلاف سازشوں اور دہشت گرد عناصر کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا جائے گا ۔ سیکورٹی فورسز کے جوانوں نے ملک کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور شہدا ء کی لازوال قربانیاں قوم کےلئے باعث فخر ہیں دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتے ۔ نیشنل ایکشن پلان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کی گردن ناپنے کے رہنما اصول طے کردئیے گئے ہیں ان میں بہتری کےلئے کسی ترمیم اورتبدیلی کی ضرورت ہو تو ضرور کر لینی چاہئے تاکہ دہشت گردوں کے وجود سے پاکستان کو پاک کیا جا سکے ۔ بچے کھچے دہشت گردجلداپنے انجام کو پہنچیں گے ۔ اپنا ;200;ج قوم کے کل پر قربان کرنے والے ہمارے محسن اور ہیرو ہیں ۔

چاہ بہارمنصوبہ سے بیدخلی ۔۔۔بھارت خطے میں تنہارہ گیا

بھارت خطے میں تنہارہ گیا ہے ، چین سے ہزیمت اٹھانے کے بعد نیپال نے بھی اس کی اپنے ملک میں نشریات بند کررکھی ہیں ۔ اب ایران نے بھارت کو چاہ بہار ریلوے منصوبے سے نکال دیا ۔ ایرانی حکومت نے چاہ بہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریلوے منصوبے کو خود سے تعمیر کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔ واضح رہے کہ افغانستان کی سرحد سے متصل اس منصوبے کےلئے ایران نے نئی دہلی سے 4 سال قبل معاہدہ کیا تھا ۔ ایرانی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ 628 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کی تعمیر کے اس منصوبے کےلئے بھارت کی جانب سے فنڈز میں تاخیر، اسے کروڑوں ڈالر کے اس منصوبے سے الگ کرنے کی وجہ بنی ۔ ایران، بھارت سے مالی معاونت پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے ایرانی نیشنل ڈویلپمنٹ فنڈ میں سے 40 کروڑ ڈالر اس منصوبے کےلئے استعمال کرے گا ۔ ریلوے منصوبہ، جسے مارچ 2022 تک مکمل ہونا ہے، کے تحت پٹڑی لگانے کے مرحلے کا ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ محمد اسلامی نے گزشتہ ہفتے افتتاح کیا تھا ۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب چین، ایران کے ساتھ 400 ارب ڈالر کے اسٹریٹجک شراکت داری کے منصوبے کو حتمی شکل دے رہا ہے ۔ بھارتی وزارت خارجہ امور اور بھارتی ریلوے کنسٹرکشنز لمیٹڈ (ارکون)نے معاملے پر رائے دینے سے انکار کردیا ۔ تاہم جب سوال کیا گیا کہ کیا مفاہمتی یادداشت منسوخ ہوگئی ہے کیونکہ منصوبہ اس کے بغیر ہی شروع ہوگیا ہے تو بھارتی حکام کا کہنا تھا کہ بھارت اس میں بعد میں بھی شمولیت اختیار کرسکتا ہے ۔ ایرانی ریلویز اور بھارت کی سرکاری کمپنی ارکون کے درمیان یہ ریلوے منصوبہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک کا متبادل راستہ فراہم کرنے کےلئے تھا ۔ مئی 2016 میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایرانی صدر حسن روحانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کے ساتھ چاہ بہار معاہدے پر دستخط کرنے کےلئے تہران گئے تھے ۔