- الإعلانات -

چاہ بہار منصوبہ سے بھارت کی بے دخلی

بیٹھے بٹھائے خباءث کی جڑ کہیں یا کچھ اور مودی سرکار کو ایک اور جھٹکا لگا ہے ۔ ایران اور بھارت میں گاڑھی چھنتی تھی ، دونوں کبھی ’’وارے وارے‘‘ جانے لگتے تھے ۔ ترقی اور خوشحالی کے منصوبے بنتے تھے کہ اچانک خبر ;200;ئی ہے کہ ایران نے چاہ بہار ریلوے پروجیکٹ سے بھارت کو نکال باہر کیا ہے ۔ یہی وہ چاہ بہار پروجیکٹ ہے جسے بھارت گوادر کے مقابلے میں کھڑا کرنا چاہتا تھا،اب ایران نے بھارت پر تاخیری حربے کا الزام لگاتے ہوئے 1;46;6 ارب ڈالر کے اس پروجیکٹ کو اپنے طور پر مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے،شاباش ایران ۔ 628کلومیٹر طویل یہ ریلوے لائن چاہ بہار بندرگاہ سے زاہدان تک اور وہاں سے افغانستان کے علاقے زارنج تک جائے گی ۔ بتایاجا رہا ہے کہ اس پروجیکٹ کو مارچ 2022 تک مکمل کرلیا جائے گا ۔ اسکے لیے ایران کے نیشنل ڈیویلپمنٹ فنڈ سے 400 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے ۔ افغانستان کی سرحد سے متصل اس منصوبے کے لیے ایران نے نئی دہلی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا ۔ ایرانی ریلویز اور بھارت کی سرکاری کمپنی ارکون کے درمیان یہ منصوبہ بھارت کو افغانستان اور وسطی ایشیا تک کا متبادل راستہ فراہم کرنے کے لیے تھا ۔ چار سال قبل مئی2016 میں بڑے دھوم دھڑکے کےساتھ چاہ بہار بندرگاہ سے زاہدان تک ریلوے لائن کی تعمیر کےلئے ایران، بھارت اور افغانستان کے درمیان ایک سہ فریقی معاہدے پردستخط ہوئے تھے ۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی،ایرانی صدر حسن روحانی اور افغانستان کے صدر اشرف غنی کی موجودگی میں یہ اہم معاہدہ ہوا تھا ۔ اس وقت مودی پھولے نہیں سما رہا تھا،اور مکارانا مسکراہٹ اس کے چہرے سے عیاں تھی ۔ اس کا مقصد پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے افغانستان اور وسطی ایشیا کےلئے ایک متبادل تجارتی راستہ کھولنا تھا ۔ بھارت افغانستان میں بھی بغضِ پاکستان میں سرمایہ کاری میں مصروف ہے ۔ دریائے کابل پر افغانستان کو ڈیم کے لئے سرمایہ دے رہا ہے تاکہ دریائے کابل کا پانی روکا جا سکے جو پاکستان کی طرف بہتا ہے اور اٹک کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسطرح بھارتی ریاست گجرات کی کاندھلہ بندرگاہ چاہ بہار سے جڑ جاتی ۔ چاہ بہار منصوبے کے اعلان کے وقت سے ہی کہا جا رہا تھا کہ بھارت کی خواہشات کی یہ بیل منڈیر نہیں چڑھ سکے گی کیونکہ ایک تو اس سارے منصوبے کے پیچھے بدنیتی اور گوادر کے خلاف بھارتی سازش کا بڑا عنصر شامل تھا دوسرا ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اصل رکاوٹ بنیں گی ۔ پھر یہی ہوا کہ ایران امریکہ کشیدگی بڑھی تو اس پروجیکٹ پر بھارت اپنے منصوبے کے تحت ;200;گے نہ بڑھ سکا ، حتیٰ کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے بھارت جو ایران سے تیل در;200;مد کرتا تھا وہ بھی روک دیا ۔ یہ صورتحال ایران کے لئے بھی باعث تشویش تھی چنانچہ اس نے بھارتی بیساکھی کو ایک طرف رکھتے اس منصوبے پر خود کام شروع کردیا ہے ۔ ادھر ایران ایک اور بڑا اقدام کرنے جا رہا ہے کہ چین کے ساتھ 400 ارب ڈالر کے 25 سالہ اقتصادی اور سیکورٹی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جس کے تحت ایک درجن سے زائد ایرانی پروجیکٹ چین کے پاس چلے جائیں گے ۔ اس کے بدلے میں ایران، چین کو اگلے 25 برسوں تک رعایتی شرح پر تیل فراہم کرے گا ۔ اب ایران میں چین کی موجودگی نمایاں طور پردکھائی دے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے خلاف بچھائے گئے امریکی جال سے بچنے کے لئے چین ہی وہ واحد ملک ہے جو اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام سکتا ہے ۔ چاہ بہار کے علاوہ اگر ایران سی پیک سے بھی جڑتا ہے تو اسکے لئے کئی در کھل جائیں گے ۔ چین اور پاکستان قبل ازیں بارہا کہہ چکے ہیں کہ ایران کو سی پیک میں شمولیت اختیار کر لینی چاہیے لیکن تہران نئی دہلی سے ;200;س امید لگائے بیٹھا رہا ۔ اب بھی دیر نہیں ہوئی کیونکہ خطے کے حالات تیزی کے ساتھ بدل رہیں اور بدلتے حالات کا تقاضہ ہے کہ ریجنل شراکت داری کو مضبوط کیا جائے ۔ ایران اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات بھارت کےلئے یقینا تشویش کا موجب ہوں گے ۔ ایران چین نئی شراکت داری سے نہ صرف بھارت اور ایران کے تعلقات پر اثر پڑے گا بلکہ افغانستان میں بھی اس کے دیر پا اثرات محسوس کئے جائیں گے ۔ بھارت حالیہ دنوں میں تیزی کے ساتھ ریجن میں تنہائی کا شکار ہوا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ مودی کا’’ ہندوتوا‘‘ ڈاکٹرائن ہے ۔ چین اور پاکستان کو ایک طرف رکھا جائے تو نیپال ، بھوٹان ، اور مالدیپ جیسے چھوٹے ممالک بھی بھارت کو ;200;نکھیں دکھا رہے ہیں ۔ نیپال کے ساتھ تو تنازعے کی شدت بہت بڑھ چکی ہے ۔ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو بھانپتے ہوئے نیپال نے نیا سرکار نقشہ جاری کیا ہے ۔ کالا پانی کے وہ علاقے جن پر بھارت کی بری نظریں گڑھی ہوئیں ہیں ان کو اپنے سرکاری نقشے میں شامل کر کے بھارت کو سخت پیغام دیا ہے ۔ نیپال نے شہریت قانون میں بھی ترمیم کر ڈالی ہے جس کے بعد بھارتی خواتین کو نیپالی مردوں کے ساتھ شادی کے بعد شہریت کے حصول کےلئے اب سات برس انتظار کرنا ہوگا ۔ اُس ڈیم کی مرمت کا کام بھی بند کر دیا گیا جسکے ذریعہ نیپال سے بھارتی ریاست بہار میں پانی جاتا ہے اور سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ بھارتی چینلز کی نشریات بھی اب نیپال میں معطل ہیں ، جبکہ نیپالی وزیر اعظم کھڑک پرساد شرما اولی نے نیا کھڑاک کر دیا ہے ۔ نیپالی وزیر اعظم نے گزشتہ دنوں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت پر ثقافتی حملہ کرنے اور فرضی اجودھیا تخلیق کرنے کا الزام لگایا ۔ انہوں نے وثوق سے کہا کہ بھگوان رام نیپال کے اجودھیا گاؤں میں پیدا ہوئے تھے نہ کہ بھارت میں ۔ اصل اجودھیا نیپال کے بیر گنج ضلع کے مغرب میں واقع ہے ۔ قبل ازیں تو بھارت دعویدار چلا ;200; رہا ہے کہ بھگوان رام اترپردیش میں واقع بابری مسجد میں ٹھیک اسی جگہ پیدا ہوا تھا جہاں مسجد کا محراب ہے ۔ تاریخی بابری مسجد کے انہدام کے بعد اب وہاں رام مندر بن رہا ہے ۔ بھارت اور نیپال کے تعلقات کچھ عرصہ سے مسلسل کشیدہ چلے ;200; رہے ہیں مگر نیپال نے بھارتی ہندووَں پر نیا بم گرا دیا ہے ۔