- الإعلانات -

بھارت کے دن گنے جاچکے

یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ وہ ابن آدم جو تخلیق کائنات کا محرک بنا جس کی خاطر شمس و قمر کی بزم سجائی گء روئے زمین پر بحروبر کی چادر بچھائی گئی لالہ و گل کو عشوا و ناز کی حکمرانی عطا فرمائی گئی نسیم سحر کے پاؤں میں ترنم خیزیوں کی پائل چھنکائی گء جس کے دل کو رب العالمین نے اپنا تجلی کدہ بنایا اور جس کے حضور فرشتوں نے سجدہ تعظیم ادا کیا وہ حضرت انسان آج اپنے مقام و منصب کو پس پشت ڈال کر حیوانیت بربریت اور جبر و ستم کی تاریکیوں میں ڈوب چکا ہے انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ دنیا کو تباہی کی طرف کشت وخون کی طرح دھکیلے انسان کو تخلیق کرنے کا مقصد یہ نہیں ;245; انسانیت دکھ دینے کا نام نہیں دکھ بانٹنے کا نام ہے انسانیت موت کی نیند سلانے کا نام نہیں زندگی کی حرارت کا نام ہے اللہ تعالی نے انسانوں کو انسان کے دکھ کے مداوے کے لیے پیدا کیا ہے زندگی میں آسانیاں اور آسائشیں بانٹنے کے لیے پیدا کیا ہے دنیا کو نیست و نابود کرنے کے لیے پیدا نہیں کیا ہے لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہندوتوا کی پرچارک بھارت کی مودی سرکار کے جنگی جنون اور اسکے شرارتی ذہن نے اس وقت پورے خطہ اور اقوام عالم کے امن و سلامتی کو سنگین خطرات پیدا کر دیئے ہیں ۔ بھارت کے سابق آرمی چیف بپن راوت اکھنڈ بھارت کے ایجنڈا کے تحت بیجنگ اور اسلام آباد کو 96 گھنٹے میں بیک وقت ’’ٹوپل‘‘ کرنے کی ڈینگیں مارتے رہے اور کنٹرول لائن پر پاکستان کیخلاف محاذ گرمائے رکھا ۔ ہندو انتہاء پسندوں کی نمائندہ بی جے پی کی مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارتی توسیع پسندانہ عزائم مزید بڑھ گئے اور بپن راوت نے مودی سرکار کی کابینہ میں شامل ہو کر پاکستان کیخلاف جنگی جنون مزید بھڑکایا ۔ بھارت کو 1962ء میں اروناچل پردیش میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے ہاتھوں سخت ہزیمت اٹھانے کے بعد چین کیخلاف جارحیت کے ارتکاب کا سوچنے کی بھی جرات نہیں ہوئی تھی مگر پاکستان کی سالمیت کمزور کرنا بھارت کا شروع دن کا ایجنڈا تھا جس کی بنیاد پر اس نے کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دیا اور فوج کشی کرکے اسکے غالب حصے پر اپنا تسلط جمالیا اور پھر یہ تسلط برقرار رکھنے کیلئے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں ‘ اسے سانحہ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کیا اور باقیماندہ پاکستان پر بھی شب خون مارنے کی نیت سے 1974ء میں ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کی اور پاکستان پر آبی دہشت گردی کا بھی ارتکاب شروع کر دیا ۔ اس حوالے سے بھارت کی کوئی حکومت بھی پاکستان دشمنی میں پیچھے نہیں رہی ۔ تاہم پاکستان اور مسلم دشمنی کی انتہاء کو پہنچی ہوئی بی جے پی سرکار اپنے جنگی جنون میں پاکستان ہی نہیں ‘ پورے خطے اور پوری دنیا کے امن و سلامتی کے درپے ہوچکی ہے اور اندھی طاقت کے زعم میں اس نے خطے کے چھوٹے ممالک نیپال‘ بھوٹان‘ سری لنکا کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ بھی چھیڑچھاڑ کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ اس مقصد کے تحت ہی مودی سرکار نے گزشتہ سال 5 اگست کو بھارتی آئین کی دفعات 370‘ اور 35اے حذف کراکے مقبوضہ وادی کے بڑے حصے لداخ کو بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنا دیا تاکہ وہاں سے اسے چین میں مداخلت کا راستہ نکالنے میں آسانی ہوسکے ۔ اسی مقصد کے تحت بھارت نے لداخ میں چین کی سرحد کے قریب بھارتی فوجیوں کی نقل و حرکت بڑھائی اور جدید جنگی آلات وہاں منتقل کئے جبکہ بھارتی فوجوں کی جانب سے سرحد پار موجود چینی فوجوں کو مسلسل اشتعال دلایا جاتا رہا ۔ کنٹرول لائن پر اور مقبوضہ کشمیر میں تو مودی سرکار کی جنونیت کی کوئی حد نہ رہی اور کنٹرول لائن پر پاکستان کی جانب روزانہ کی بنیاد پر بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کیا گیا بھارتی فورسز نے کنٹرول لائن پر باکسر سیکٹر میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کی بلا اشتعال فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہوا اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کا تسلسل جاری ہے اور تین ہفتے پہلے ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج نے بے دریغ فائرنگ کرکے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا ۔ مودی سرکار کی جنونیت نے تو آج بھارت کی اپنی سلامتی بھی خطرے میں ڈال رکھی ہے جہاں مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو راندہ درگاہ بنا کر عملاً بھارت کے ہر مکتبہ فکر کو آمادہ بغاوت کیا جاچکا ہے جبکہ بھارتی سفاکانہ پالیسیوں کیخلاف دنیا بھر میں احتجاج اور مودی سرکار کی مذمت کا سلسلہ بھی جاری ہے مگر اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھنے والی مودی سرکار ٹس سے مس نہیں ہو رہی اور اسکے برعکس آزاد کشمیر اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات پر چڑھائی کے عزائم بھی اعلانیہ پروان چڑھا رہی ہے ۔ ۔ اسکے ساتھ ساتھ مودی سرکار کے شرارتی ذہن نے گزشہ ماہ چین کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ شروع کردی جس کا چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے مثبت جواب دیا اور لداخ کے اندر جاکر بھارتی فوجوں کی خوب ٹھکائی کی ۔ اسکے باوجود بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے باز نہیں آیا اور بھارتی فوجیں چینی فوجیوں کو مسلسل اشتعال دلا رہی ہیں جس پر چین نے بھارت کو عملاً چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ۔ اس چینی کارروائی پر اب مودی سرکار کو سانپ سونگھ گیا ہے مگر کوئی بعید نہیں کہ اس کا شرارتی ذہن اسے نچلا نہ بیٹھنے دے اور وہ چین کے ساتھ پھر آمادہ شرارت ہو جائے ۔ پاکستان کی سلامتی کیخلاف تو اس نے سازشوں کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا ہوا ہے اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے عملہ کو ہراساں کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ بھارت کی پیدا کردہ اس صورتحال میں خیر کا کوئی پہلو موجود نہیں اگر عالمی قیادتیں اور ادارے بھارتی جارحانہ عزائم کو بھانپ کر بھی اسی طرح خاموش تماشائی بنے رہے تو مودی سرکار تیسری عالمی جنگ کی نوبت لا کر رہے گی جو لازماً ایٹمی جنگ ہوگی جس کی تباہ کاریاں پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہیں بھارت کے اس جارحانہ رویے سے نہ صرف انڈین عوام بیزار ہو چکی ہے بلکہ ہمسایہ ممالک بھی چین کی فضا محسوس نہیں کر رہے ہیں مودی کی اس جارحیت کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے انڈین دانشور دفاعی تجزیہ کار اشوک سوائن نے ٹوءٹر پر کہا ہے کہ بھارت کے ہاتھ سے کشمیر نکل چکا ہے بھارت کے دن گنے جاچکے ہیں اس کے گرد گھیرا مزید تنگ ہو رہا ہے اب تو نئی دہلی حکومت چین کے سامنے آنے کی پوزیشن میں بھی نہیں دریں اثنا چین نے بھی نیا نقشہ جاری کیا ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھایا گیا ہے کیوں کہ سچائی کو دبایا جاسکتا ہے نہ دھونس دھاندلی سے حقائق تبدیل کیے جا سکتے ہیں اقوام متحدہ سمیت ہرادارہ اور پوری دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے آگاہ ہے البتہ چین کا پاکستان کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑا رہنا قابل تحسین ہے چین نے نئے نقشے میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھا کر دنیا کو آئینہ دکھا دیا ہے اب وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی سیاہ رات جلد ختم ہوجائے گی اور آزادی کا سورج طلوع ہو جائےگا ۔