- الإعلانات -

وطن عزیز کا تیسرا بڑا آبی منصوبہ

وزیر اعظم عمران خان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کے ہمراہ دو روز قبل گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی سرحد پر بننے والے پاکستان کے سب سے بڑے میگا پراجیکٹ دیا میر بھاشا ڈیم کی مختلف ساءٹس کادورہ کیا ۔ یہ منصوبہ 29;245;2028ء میں مکمل ہونے کی توقع ہے ۔ ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے سے ملک میں ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہوگی ۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام کو ترقی اور خوشحالی کی نوید سناتے ہوئے کہا کہ وہ قو میں ترقی کرتی ہیں جو انسانوں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں ۔ قوموں کو مشکل وقت میں اہم فیصلے کرنے ہوتے ہیں ۔ پاکستان کی بدقسمتی رہی کہ کم وقت کیلئے فیصلے کیے گئے طویل المدتی نہیں ۔ بھاشا ڈیم منصوبے سے چیلاس کو مفت بجلی ملے گی ۔ یہ منصوبہ ملک کی تقدیر بدل دے گا ۔ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے دیا میر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے آغاز کو بہت بڑی خوش خبری قرار د یتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو اس منصوبے سے 16500 نوکریاں ، جب کہ 4500 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہو گی ۔ وزیر اعظم نے بڑے ڈیموں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈیم بنانے کی طرف جا رہے ہیں ۔ یہ پاکستان کا تیسرا بڑا ڈیم ہو گا ۔ چین نے مجموعی طور پر آٹھ ہزار ڈیم بنائے ہیں ، جن میں پانچ ہزار بڑے ڈیم ہیں ۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہم نے ماضی میں کتنی بڑی غلطی کی ۔ ڈیم کےلئے اس سے بہتر کوئی اور جگہ نہیں ہو سکتی ۔ یہ ڈیم کےلئے قدرتی جگہ ہے ۔ اس ڈیم کو تعمیر کرنے کا فیصلہ پچاس برس پہلے ہوا تھا اور اس پروجیکٹ پر کام آج شروع ہوا ہے ۔ ہمارے ترقی نہ کرنے کی وجوہات میں سے یہ ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے ۔ دیامیر بھاشا ڈیم کا منصوبہ کئی دہائیوں سے زیر غور رہاہے ۔ پہلی مرتبہ اس منصوبے کی تجویز 1980 کی دہائی کے آغاز میں دی گئی تھی ۔ پہلی مرتبہ ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ 2004 میں تیار کی گئی جبکہ2005 سے 2008 کے عرصے میں دوبارہ اس کی فزیبلٹی اور ڈیزائین پر کام ہوا تھا ۔ دیامیر بھاشا ڈیم کو پاکستان کا تیسرا میگا ڈیم سمجھا جاتا ہے ۔ اس ڈیم کے پانی کو زراعت کےلئے بھی استعمال کیا جائے گا ۔ واپڈا کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کا 6 لاکھ ایکڑ کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر 3 ملین ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہو سکے گا ۔ اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 12 ٹربائن لگائی جائیں گیں اور ہر ایک ٹربائن سے متوقع طور پر 375 میگا واٹ بجلی، جب کہ مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی ۔ ڈیم دریائے سندھ کے پانی کا قدرتی بہاوَ استعمال کرتے ہوئے اس پانی کا 15 فیصد استعمال کرے گا جب کہ اس مقام پر دریائے سندھ کا سالانہ اخراج پانچ کروڑ ایکڑ فیٹ ہے ۔ ڈیم مجموعی طور پر 110 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوگا جبکہ 100 کلومیٹر مزید رقبے پر ڈیم کے انفراسٹرکچر کی تعمیر ہو گئی ۔ بھاشا ڈیم پاکستان کے شمالی علاقے گلگت بلتستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے بھاشا میں تعمیر کیا جائے گا ۔ اس کا کچھ حصہ خیبر پختونخوا کے علاقے کوہستان میں جبکہ کچھ حصہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں آتا ہے اور اسی وجہ سے اسے دیامیربھاشا ڈیم کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا ۔ یہ تعمیر تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر کی بلندی پر جبکہ گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165 کلومیٹر اور چلاس سے 40 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے نچلی طرف ہو گی ۔ ڈیم کی بلندی 272 میٹر ہو گی ۔ اس کے 14 سپل وے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے ۔ اس میں مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8;46;10 ملین ایکٹر فٹ ہو گی جبکہ اس میں ہمہ وقت 6;46;40 ملین ایکٹر فٹ پانی موجود رہے گا ۔ ڈیم کی حفاظتی تعمیرکےلئے ضلع دیامیر میں دسمبر 2020ء تک پاک فوج کے 120 دستے تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ محکمہ داخلہ گلگت بلتستان نے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج طلب کرنے کی درخواست کی تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین کے حصول کے دوران تھریٹ الرٹ موصول ہوئے ۔ ڈیم پر کام کرنے والوں اور دیگر وسائل کی سیکیورٹی پاک فوج دیکھے گی ۔ 1974ء میں اپنی تکمیل کے بعد تربیلا ڈیم پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے ۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی عمر میں مزید 35 سال کا اضافہ ہو جائے گا ۔ یہ پراجیکٹ مقامی لوگوں کیلئے بھی ایک نعمت ثابت ہوا ہے ۔ سماجی ترقی کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت 78 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں ، مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے ۔ پاکستان دیامیر بھاشا ڈیم کو بجلی اور پانی کی ضرورت کےلئے ناگزیر سمجھتا ہے ۔ 60 کی دہائی کے بعد اب تک پاکستان نے کوئی بھی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا ہے ۔ ملک میں پانی کا بحران اس لیے پیدا ہوا کہ ڈیمز بنانے پر توجہ نہیں دی گئی ۔ ہ میں ڈیم بنانا ہے جس کی حفاظت عوام کو کرنا ہوگی اور تمام سازشوں کو کچلنا ہوگا ۔ ہم جانتے ہیں کہ بھارت پاکستان دشمنی میں تمام حدیں عبور کرچکا ہے اور اس کی کوشش ہے یہ ڈیم نہ بن سکے ۔ بھارت کبھی بھی پاکستان کو ترقی کرتے اور اپنے مسائل کو حل کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت ہرطرح کے حربے آزمانا شروع ہو گیا ہے ۔ قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے بھاشا ڈیم کی منظوری دیتے ہی بھارت نے واویلا شروع کر دیا ۔ بھارت کا کہنا ہے کہ ڈیم کا منصوبہ نہ صرف غیر قانونی اور مقبوضہ علاقے میں قائم کیاجارہا ہے بلکہ جموں و کشمیر میں سیلاب کا باعث بھی بنے گا ۔ یہ مکمل طورپر پاکستانی علاقے میں بنایا جائے گا تو پھر بھارت کا واویلا کیوں کہ یہ مقبوضہ علاقے میں بنایا جارہا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی یہ شور بھی بلند کیاجارہا ہے کہ اس ڈیم کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں سیلاب کی سی صورتحال پیدا ہو جائے گی ۔