- الإعلانات -

دیامربھاشاڈیم کی تعمیرتاریخی اقدام

گزشتہ دو دہائیوں سے ہ میں توانائی کے جس سنگین بحران کا سامنا ہے اور پانی کی قلت کا مسئلہ بھی ہمارے لئے گھمبیر صورتحال پیدا کرتا نظر ;200;رہا ہے اسکی بنیادی وجہ ہماری جانب سے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ نہ دینا ہے ۔ ماضی میں کچھ سیاستدانوں نے کالاباغ ڈیم کی مخالفت کیلئے بے سروپا پراپیگنڈہ کیا کہ اس سے نوشہرہ ڈوب جائیگا ۔ اس طرح یہ ڈیم متنازعہ بنا کر اسکی تعمیر رکوا دی گئی ۔ ہمارے ملک میں جیسے جیسے توانائی کی کھپت بڑھی ہے اسکے پیش نظر نئے ڈیمز تعمیر کرکے ہی توانائی کی ضروریات پوری کی جا سکتی تھیں جبکہ نئے ڈیمز کی تعمیر تو کجا پہلے سے موجودمنگلا اور تربیلا ڈیم بھی سلٹ جمنے سے ناکارہ ہونے لگے چنانچہ ملک میں توانائی کے سنگین بحران کا ;200;غاز ہوگیا جو تاحال جاری ہے اور ملک کے عوام گزشتہ بیس سال سے بجلی کی اعلانیہ اور غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی اذیت برداشت کررہے ہیں ۔ اسی صورتحال کومدنظررکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے دیامر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی کام کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کہاہے کہ دیامر بھاشا ڈیم ہمارے ملک کا سب سے بڑا ڈیم ہوگا ڈیم کی تعمیر سے گلگت بلتستان بالخصوص چلاس میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، حکومت گلگت بلتستان سمیت ملک کے پسماندہ علاقوں اور لوگو ں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے دیامر بھاشا ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ 50سال قبل بنایا گیا لیکن پروجیکٹ پر کام کا آغاز اب کیاجارہاہے ۔ بدقسمتی سے ماضی میں قلیل المدتی فیصلے کیے گئے ووٹ بینک کیلئے الیکشن سے پہلے مکمل ہونےوالے منصوبے بنائے گئے، نوے کی دہائی میں تیل سے بجلی بنانے کے غلط فیصلے کئے گئے غلط فیصلوں نے ملک کو کمزورکیامشکل فیصلے کرنےوالی قو میں ہی ترقی کرتی ہیں درآمدی ایندھن سے بجلی پیداوار متاثرصنعتیں تباہ ہوئیں ہم نے ماضی میں ڈیم تعمیر نہ کر کے بڑی غلطی کی سخت فیصلوں سے ماضی کی کمزور معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا گلگت بلتستان کی حکومت ایس او پیز کے ساتھ سیاحت کے شعبے کو کھولے چلاس کے لوگو ں کو مفت بجلی فراہم کی جائے گی ۔ قبل ازیں عمران خان نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران دیامر بھاشا ڈیم ساءٹ کا معائنہ کیا اور انہیں متعلقہ حکام کی جانب سے مذکورہ منصوبہ پر پیشرفت سے متعلق بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی جنرل فیض حمیدچیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ اورچیئرمین واپڈالیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین بھی موجود تھے ۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے سکیورٹی کیلئے ضلع دیامر میں دسمبر2020تک پاک فوج کے 120جوان تعینات کرنیکی منظوری دی ۔ عمران خان کی ہدایت پر وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کے ذریعے منظوری حاصل کی گئی ۔ وزیراعظم کاکہناتھا کہ ماضی میں جب تربیلا اور منگلا ڈیم بنائے گئے تو اس سے سستی بجلی پیداہوئی اور صنعتوں کو فروغ ملا تاہم بجلی کے منصوبوں کو ایندھن پر منتقل کرنے سے مہنگی بجلی پیدا ہوئی ۔ کرنٹ اکاءونٹ خسارہ میں اضافہ ہوا ۔ روپے پر دباءو بڑھنے سے روپے کی قدر کم ہوئی ۔ معیشت کو نقصان پہنچا، زیادہ ڈالر باہر جانے سے بھی روپے پر دباءو بڑھا جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ۔ جب ہم اقتدار میں آئے تو ملک کا کرنٹ اکاءونٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا ۔ ہم نے مستقبل میں ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی ہے ۔ پاکستان ان 10 ملکوں میں شامل ہے جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے ۔ ہم نے گلوبل وارمنگ سے بچنے کےلئے 10 ارب درخت لگانے ہیں ۔ اس منصوبے سے نوجوانوں کےلئے ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ دیا مر بھا شا ڈیم پرتعمیرات کا آغاز تاریخی اقدام ہے منصوبے سے اسٹیل سیمنٹ تعمیراتی شعبوں کوفروغ حاصل ہوگا اور 16ہزارنوکریاں پیداہونگی ۔ 64لاکھ ایکڑفٹ پانی کے ذخیرے سے 12 لاکھ ایکڑزرعی علاقہ سیراب ہوگا،منصوبے سے 4500 میگا واٹ سستی،ماحول دوست بجلی پیداہوگی ۔ دریں اثناواپڈا ترجمان کے مطابق یہ منصوبہ دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم سے تقریبا 315 کلومیٹر بالائی جانب جبکہ گلگت سے تقریبا 180کلو میٹر اور چلاس شہر سے 40کلو میٹر زیریں جانب تعمیر کیا جارہا ہے ۔ منصوبہ 2028-29 میں مکمل ہوگا ۔ ڈیم میں مجموعی طور پر 81لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا جس کی بدولت 12لاکھ 30ہزار ایکڑ اضافی زمین سیراب ہوگی ۔ منصوبہ کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4ہزار 500میگاواٹ ہے ، یہ نیشنل گرڈ کو ہر سال اوسطاً18ارب یونٹ بجلی مہیا کرےگا ۔ ڈیم کی تعمیرکا بڑا مقصد پانی ذخیرہ کرنا اور سستی ہائیڈل بجلی پیدا کرنا ہے جبکہ اس سے روزگار کے 16 ہزارمواقع پیدا ہونگے اور ملک میں سیمنٹ اور سٹیل کی صنعتوں کو بھی ترقی ملے گی ۔ اسکے علاوہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی زندگی میں 35 سال کا اضافہ ہو جائیگا اور اس سے 12 لاکھ 20 ہزار ایکڑ زمین سیراب ہوگی ۔ یہ ڈیم سیلاب کی روک تھام میں بھی مددگار ثابت ہوگا اور ہر سال سیلاب سے ہونیوالے اربوں روپے کے نقصان سے بھی لوگوں کو بچائے گا ۔ یہ حقیقت ہے کہ نئے ڈیمز تعمیر کئے بغیر لوگوں کو سستی بجلی فراہم کی جاسکتی ہے نہ ملک توانائی اور پانی کی قلت کے بحرانوں سے نکل سکتاہے ۔ اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لے کر ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر کا خود بیڑہ اٹھایا تھا جس کیلئے انہوں نے مہمند اور بھاشا ڈیمز کی تعمیر کیلئے سپریم کورٹ میں فنڈ بھی قائم کیا جس میں اندرون اور بیرون ملک سے 12 ارب روپے سے زائد کی رقم جمع ہوئی ۔ پی ٹی ;200;ئی کے قائد عمران خان اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے بھی اور پھر اقتدار میں ;200;کر بھی جسٹس ثاقب نثار کی ڈیمز تعمیر مہم کا ساتھ دیتے رہے اور یہ خوش ;200;ئند صورتحال ہے کہ ;200;ج وہ قوم کو دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کاباقاعدہ افتتاح کرکے نوید سنا رہے ہیں جبکہ مہمند ڈیم کی تعمیر کا کام پہلے ہی جاری ہے ۔ اگر ہم اپنی ضرورت کے دیگر ڈیم بالخصوص کالاباغ ڈیم تعمیر کرنے میں بھی کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے نہ صرف ہم توانائی کے بحران سے باہر نکل ;200;ئینگے اور عوام کو سستی ہائیڈل بجلی وافر مقدار میں فراہم کرنے اور یہ بجلی بر;200;مد کرنے کی بھی پوزیشن میں ہونگے بلکہ اس سے ہم اپنے دشمن بھارت کے پاکستان پر ;200;بی دہشت گردی کے سازشی منصوبے کو بھی ناکام بنا دینگے ۔ یہ نیک کام اب بہرصورت جاری رہنا چاہیے اور یکسو ہو کر ملک کی ضرورت کے تمام ڈیمز کی تعمیر شروع اور مکمل کی جانی چاہیے ۔ ہ میں ملکی اور قومی مفاد سے زیادہ کوئی اور چیز بہرحال عزیز نہیں ہو سکتی ۔

افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا ء شروع

امریکا نے امن عمل کے تحت افغانستان میں 5امریکی فوجی اڈے خالی کردئیے،امریکی فوج کے زیر استعمال پانچوں فوجی اڈے افغان شراکت داروں کے سپرد کر دئیے گئے ہیں ،یہ اڈے صوبہ ہلمند، ارزگان، پکتیا اور لغمان میں قائم تھے ۔ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کا غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پینٹاگون نے طالبان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی روشنی میں اپنے 5 فوجی اڈے بند کیے ہیں ۔ قبل ازیں امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد نے اپنے حالیہ ٹوئیٹ میں کہا تھا کہ امریکا اور طالبان کے مابین ہونےوالے معاہدے کی رو سے واشنگٹن کو 135 دنوں کے اندر افغانستان کے فوجی اڈوں سے اپنے تمام فوجیوں کو نکالنا ہوگا ۔ خیال رہے کہ افغانستان میں اب بھی 8 ہزار کے قریب امریکی فوجی موجود ہیں ۔ افغان میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدے کے تحت افغانستان میں امریکی فورسز کے پانچ اڈے ختم کر دیے گئے ہیں ۔ امریکا کے جن فوجی اڈوں کا بند کیا گیا ہے وہ صوبہ ہلمند، ارزگان، پکتیا اور لغمان میں قائم تھے ۔ یاد رہے کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان امن معاہدے پر 29 فروری کو دوحہ میں دستخط کیے گئے تھے ۔ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہونےوالے امن معاہدے کے چار حصے تھے جن میں سے ایک حصہ افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا پر مشتمل تھا ۔ غیرملکی افواج کے انخلاء سے متعلق معاہدے میں لکھا گیا تھا ضمانتیں ، اس پر عملدر;200;مد کرنے کا طریقہ کار اور وقت کا اعلان جس کے تحت تمام غیرملکی فوجیں افغانستان سے واپس چلی جائیں گی ۔ فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا تھا کہ معاہدے کے 135 دنوں کے اندر اندر امریکی افواج کی تعداد ;200;ٹھ ہزار چھ سو پر لانے کے بعد امریکہ اور اس کے شراکت دار اپنی بقیہ افواج کو افغانستان سے 14 ماہ کے دوران نکال لیں گے اور فوجی اڈوں میں رہ جانے والے بقیہ فوجیوں کو بھی نکال لیا جائے گا ۔