- الإعلانات -

سید منور حسن کی عملی سیاست کی کچھ یادیں

سید منور حسن پہلے اسلام مخالف گروپ کی سیاست میں تھے ۔ وہاں نام اور کام میں شہرت حاصل کی ۔ پھر جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ میں شریک ہوئے ۔ جہاں بھی کام اور نام میں عروج پر پہنچے ۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے پہلے کارکن پھر کراچی کے ناظم اور آخر میں پورے پاکستان کے ناظم اعلیٰ بنے ۔ جماعت اسلامی میں شمولیت کے بعد حلقہ کراچی جماعت کے سیکر ٹری رہے ۔ پھر حلقہ کراچی جماعت اسلامی کے امیر بنے ۔ ہم ان ہی دنوں کی یادداشتوں پرسید منور حسن;231; کے متعلق کچھ بیان کرینگے ۔ قاضی حسین احمد ;231; امیر جماعت اسلامی پاکستان کے ساتھ سید منور حسن;231; نے ایک لمبا عرصہ سیکر ٹری جرنل رہے ۔ قاضی حسین احمد;231; صاحب کے بعد جماعت اسلامی پاکستان کے امیر رہے ۔ سید منور حسن;231; جہاں بھی رہے روشن چراغ کی طرح روشن رہے ۔ واقعی ہی سید منور حسن;231; روش ستارہ تھے جو اب ہم میں نہیں ہیں ۔ روشن ستارے کی ماند ہی آپنے رب کے حضور چلے گئے ۔ جو روح بھی اس دنیا میں آئی ہے اسے واپس اپنے رب کے پاس ہی جانا ہے ۔ اے نفس مطمئن چل ا پنے رب کے پاس والی بات ہے ۔ پاکستان سے محبت کرنے والے اورسید منور حسن;231; کے ہم وطن دہلی شہر کے باسی شہید حکیم محمد سعید;231; جو پاکستان کی محبت میں ہمیشہ ۴۱;241; اگست کی بجائے یوم پاکستان ۷۲ رمضان المبارک کومنایا کرتے تھے ،نے کسی موقع پر ایک تقریب میں فرمایا تھا کہ اے پاکستانیوں ،اللہ نے تمہیں ایٹم بم تشری میں رکھ کر پیش کردیا ہے ۔ اب یہ تمہارا ظرف ہے کہ تم اس عصا موسوی ;174; کو کس طرح استعما ل کرتے ہو ۔ ان کا اشارہ مسلم ریاست قزقستان کے طرف تھا ۔ قازقستان رشیا کی سب سے بڑی ایٹم بم رکھنے والی اسلامی ریاست تھی ۔ افغانستان میں ریشیا کی شکست کے بعد آزاد ہوئی تھی ۔ وسط ایشیا کو سمندر سے ملانے والی کراچی کی بندرگاہ اور عصا موسویٗ سے گریٹ گیم کے اہلکاروں امریکا، اسرائیل اور بھارت نے پاکستان کو فائدہ نہیں اُٹھانے دیا ۔ کراچی میں مصنوعی مہاجر قومیت کے نام دہشت گرد الطاف حسین کو سامنے لائے ۔ الطاف حسین نے پاکستان کو ستر فیصد ریوینیو دینے والے کراچی شہر،جو وسط ایشیا کو ملانے والی بند گاہ اور ترقی کی نئی رائیں کھولتی، کو تیس سال تک قبضہ کر کے اسے تباہ برباد کر دیا ۔ یہ منور حسن;231; تھے ۔ جو مہاجر ہوتے ہوئے بھی دہشت گرد الطاف حسین کے سامنے عصا موسوی ;174; کی شکل میں ڈٹ گئے ۔ ایک ظلم و ستم کی لمبی داستان ہے جس کا میں چشم دید گواہ ہوں ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے کہ جب الطاف حسین فوج کی حمایت اور سندھ کے وزیر اعلیٰ غوث علی شاہ کی سرپرستی میں کراچی بلکہ پورے سندھ میں خون کی ہولی کھیل رہا تھا ۔ میں نے خود دیواروں پر پنٹینگ دیکھی تھی ۔ مہاجر کارکن ہاتھ میں بندق پکڑے ہوئے ہے ۔ ایک طرف کٹا ہوا انسانی سر پڑا ہے ۔ نیچے لکھا ہوا ہے حقوق یا موت ۔ یہ الطاف حسین کی اس ہدایت کے بعد ہواجب اس نے ایم کیو ایم کے مہاجروں کو ہدایت دی تھیں کہ وی سی آر اور فریج فروخت کر کے اسلحہ خریدو ۔ اُس زمانے میں ساری سیاسی دینی جماعتیں دبھک کر گھروں میں بیٹھ گئیں تھیں ۔ صرف سید منور حسن;231; امیر جماعت اسلامی کراچی نے بھارتی ایجنٹ دہشت گرد فاشسٹ الطاف حسین کے سامنے آگے بڑھ کر بند باندھا تھا ۔ سید اسلا م الدین صاحب جو اُس وقت کراچی ضلع جنوبی کے ایک حلقہ وسطی کے امیر ہوا کرتے تھے ۔ میں ان کے گھر واقعہ شاہرہ قائدین میں بیٹھا تھا ۔ ان سے ایم کیو ایم کے بارے میں سوال کر رہا تھا ۔ میں نے ان سے سوال کیا ۔ ہم پہلے جی ایم سید اور ولی خان اور دوسرے قوم پرستوں کی سیاست کی مخالفت کرتے تھے ۔ اب ہم ایم کیو ایم کے خلاف ہو گئے ہیں ۔ کیا ہمارایہی کام ہے کہ ہر کسی سے لڑتے رہیں ۔ انہوں نے مجھے جواب دیا ۔ ہم کسی کے بھی مخالف نہیں ۔ صرف ان کے پاکستان مخالف نظریات کے مخالف ہیں ۔ ایم کیو ایم بھی پاکستان مخالف ایجنڈہ لے کر سامنے آئی ہے اس لیے ہم اس کے مخالف ہیں ۔ واحد سیدمنور حسن ;231;ہیں کہ جس نے ایم کیو ایم کو ٹف ٹائم دیا ۔ شہر کراچی میں ملین مارچ کیے ۔ ان ملین مارچ میں خواتین ،مرد، بچے، بوڑھے جوان شریک ہوا کرتے تھے ۔ ان ملین مارچ کا مقبول نعرہ ہوتا تھا ۔ بھارت کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ۔ امریکا کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ۔ سیدمنور حسن;231; اپنے مدلل تقاریر میں الطاف حسین کو چیلنج کیا کرتے تھے ۔ سید منور حسن;231; کی تقریر سن کر کارکنوں کا جذبہ بڑھتا تھا ۔ جب قاضی حسین احمد;231; قافلہ دعوت و محبت لے کر کراچی پہنچے ۔ ناظم آباد میں جلسہ عام منعقد ہوا ۔ قاضی حسین احمد;231; نے الطاف حسین کو للکار کر کہا، کہ میں جماعت اسلامی کے دشمن جیے سندھ کے قوم پرست آریسر کے علاقے سے ہو کر کراچی آیا ہوں ۔ الطاف حسین بند گلی کی سیاست سے باہر نکلو ۔ کلاشکوف کی باڑ سے باہر آءو ۔ الطاف حسین میں آپ کو دعوت دیتا ہوں ۔ آپ بھی پشاور آکر اپنا جلسہ کرو اپنا نکتہ نظر بیان کرو ۔ تم مسلم لیگیوں کی اُولاد ہو ۔ ہم آپ کی حفاظت کی ذمہ داری لیتے ہیں ۔ مگر اس کے جواب میں دہشت گردلطاف حسین نے اس قافلہ پر شہر میں محصوم بچوں سے پتھراءو کرایا گیا تھا ۔ میں نے یہ نظارا اُس وقت دیکھا جب میں وعوت و محبت قافلے کو کوءٹہ جانے کے الواع کرنے والے جلوس میں شامل تھا ۔ سید منور حسن;231; اس ظلم کو بند کرانے کےلئے اُس وقت کے فرعون الطاف حسین کے دفتر عزیز آباد ۰۹ گئے اورکہا کہ ہم نے آپ کی سیاسی آپ جیت مان لی ۔ پھر یہ ظلم و ستم کی چکی کیوں چلائی جا رہی ہے ۔ سارے شہر کے تعلیم اداروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں پر ظلم و ستم کیا جارہا ہے ۔ وقت کے فرعون نے کہا کہ اب آپ گھر بیٹھ جائےں ۔ مگر سید منور حسن ;231;نے کہا ہم نے نظریات میں تو ہار نہیں مانی ہے ۔ وہ الطاف حسین کے قومیت کے بت کا سامنے سینا تان کے کھڑے رہے ۔ ایک ہی دن جماعت اسلامی کے نصف درجن کارکنوں کو شہید کیا ۔ ہم صبح کسی ایک علاقہ میں کسی مظلوم کارکن کی نماز جنازہ میں شریک ہوئے ۔ دوپہر کو کسی دوسرے اور رات گئے کسی تیسرے کارکن کا جنازے میں شریک ہوئے ۔ قاضی حسین احمد ;231; صاحب نے یہ سارے جنازے خود پڑھائے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔ آخر میں ایک کارکن کا جنازہ دہشت گرد الطاف حسین گھر کے بل لکل سامنے عزیر آباد گراءونڈ میں قاضی حسین احمد;231; نے پڑھایا تھا ۔ قاضی حسین احمد ;231; صاحب نے دعا کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے اللہ آپ نے کسی کو بھی بد دعا دینے سے منع کیا ہے ۔ مگر اس ظالم نے جماعت اسلامی کے کارکنوں پر ظلم کے انتہا کر دی ہے ۔ تو مظلوم کی فریاد سنتا ہے ۔ تو ہی ان مظلوم کا بدلہ ظالموں سے لے ۔ اس کے بعد ایم کیوایم میں اختلاف پیدا ہوئے ۔ ا یجنسیوں نے بھی آفاق اور عامر کو اطاف حسین سے علیحدہ کروا دیا ۔ الطاف حسین کے لالوکھیت چوک پر نصب پورٹریٹ کے گلے میں جوتوں کے ہار ڈ ال دیے ۔ چہرے پر پان کی پھینکیں ،پھینک دی گئیں ۔ شہر میں الطاف حسین را کے ایجنٹ کے بینرز لگا دیے گئے ۔ آفاق اورعامر کے لانڈھی کے واءٹ ہاوس ہیڈ کواٹر اور الطاف حسین ۰۹ کے کارکنوں میں لڑائی شروع ہوئی ۔ سیکڑوں بے گناہ مہاجروں کو تہ وتیغ کر دیا گیا ۔ صاحبو! ظلم کی ایک لمبی داستان ہے جس کو سید منور حسن;231; نے برداشت کیا ۔ کس کس کو بیان کیا جائے ۔ سیدمنور حسن ;231;سرخرو ہوئے ۔ الطاف حسین کو اللہ نے نشان عبرت بنا دیا ۔ اب ہندو مذہب اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے ۔ مودی سے پناہ مانگ رہا ہے ۔ اس کے پرانی ساتھی وعدہ معاف گواہ بنے پر آمادہ ہو گئے ہیں ۔ سید منور حسن;231; کہا کرتے تھے ۔ ظلم پھر ظلم ہے ۔ بڑھتا تو مٹ جاتا ہے ۔ واقعی ظلم مٹ گیا ۔ اے اللہ تو سید منور حسن;231; کی قربانیاں قبول فرما کر اُسے اپنی جنت فردوس میں جگہ دے آمین ۔