- الإعلانات -

اربوں کے منصوبوں کی منظوری،تعمیروترقی کی طرف اہم پیشرفت

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہاءوسنگ، تعمیرات اور ترقی سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں تعمیراتی شعبہ کےلئے حکومت کی طرف سے اعلان کردہ حالیہ مراعاتی پیکج پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ تعمیراتی شعبے میں 400 ارب روپے کے پراجیکٹ شروع کرنے جا رہے ہیں ۔ یہ منصوبے ہاءوسنگ کے شعبہ کو تبدیل کر کے رکھ دیں گے ۔ آئی ایم ایف، فٹیف سمیت عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کو کرونا وبا کے باعث جو سہولت ملی ہے اس سے 31 دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ ہاءوسنگ منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کےلئے وفاقی اور صوبائی سطح پر ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے ۔ یہ ٹاسک فورس روزانہ کی بنیاد پر وزیر اعظم کو رپورٹ دیتی ہے ۔ اسی طرح قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس ہفتہ میں دو بار ہونگے تاکہ اس شعبے کو درپیش مشکلات کو دور کیا جا سکے ۔ ہاءوسنگ منصوبے سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، ملازمتوں کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، غریب اور کم آمدن افراد کو چھت میسرآئےگی، سرمایہ کارو ں کےلئے 31 دسمبر تک اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کا بہترین موقع ہے تمام بینک نجی شعبہ میں سرمایہ کاری کا 5 فیصد تعمیرات کے شعبہ کےلئے مختص کرینگے جو سالانہ 330 ارب روپے بنتا ہے ۔ جو غریب آدمی گھر نہیں خرید سکتا وہ اس منصوبے سے گھر کا مالک بنے گا ۔ ملک میں تعمیراتی شعبہ کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے ۔ میگا پراجیکٹس اور طویل المدتی منصوبہ بندی ہی پاکستان کا مستقبل ہے ۔ معیشت کی بہتری کا سفر پھر سے شروع ہورہا ہے، جلد نمایاں بہتری دیکھنے میں آئےگی ۔ بدقسمتی سے ماضی میں حکمرانوں نے ایسے منصوبوں پر توجہ نہیں دی، حکمرانوں کی توجہ ایسے منصوبوں پر رہی جہاں سے کک بیکس ملتے رہے ۔ یہ بات قابل تعریف ہے کہ حکومت نے تعمیراتی صنعت کے فروغ کےلئے مراعات دی ہیں ۔ غریب لوگ موجودہ مشکل دور میں اپنے گھربنانے کے قابل ہوں گے ۔ متوسط طبقے کے لوگوں کو اس موقع سے بھرپورفائدہ اٹھاناچاہیے ۔ موجودہ حکومت متوسط طبقے کے لوگوں کوچھت فراہم کرنے کےلئے موثر اقدامات کررہی ہے جو اپنے گھربنانے کی سکت نہیں رکھتے ۔ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے پہلے دن سے ہی عمران خان عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کی تڑپ دل میں لئے ہوئے ہیں اور اسی جذبے کی تکمیل کےلئے وہ مختلف شعبوں کو ریلیف دے رہے ہیں ۔ ہاءوسنگ اور تعمیراتی شعبے کےلئے ریلیف پیکج اسی سلسلے کی کڑی ہے تاہم اس اعلان کی روح کے مطابق عملدرآمد کےلئے انتظامی مشینری کو پوری طرح متحرک کرنا ہو گا جبکہ ریلیف پیکج اور سبسڈی کو ماضی کی طرح کی میگا کرپشن کی نذر ہونے سے بچانے کےلئے کڑی نظر رکھنا ہو گی تا کہ ریلیف پیکج سے عوام بھرپور مستفید ہوں ۔ اس حوالے سے قواعدو ضوابط پر یقینی عملدرآمد کےلئے بھی اقدامات کرنا ہونگے ۔ شاہراہوں کی تعمیرسے ملکی ترقی کوفرو غ ملے گا ۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے کے الیکٹرک صارفین کےلئے بجلی کی قیمتوں میں فوری اضافہ کی اجازت نہیں دی تاہم کراچی کےلئے بجلی کی قیمتوں میں مرحلہ وار اضافہ کیا جائیگا ۔ انہوں نے متعلقہ وفاقی وزرا کو ایک بار پھر کراچی میں لوڈشیڈنگ کا معاملہ فوری طور پر حل کرنے کےلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ کراچی میں لوڈشیڈنگ کے معاملے پر کڑی نظر رکھیں ۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ کی توانائی کمیٹی کا اجلاس اسلام ;200;باد میں ہوا ۔ اجلاس میں طے پایا کہ فی الحال کے الیکٹرک صارفین کےلئے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جائے ۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اجلاس میں کے الیکٹرک صارفین کےلئے بجلی ٹیرف میں 2 روپے 89 پیسے تک اضافے کے منظوری دی تھی ۔ وفاقی کابینہ نے بھی بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا فیصلہ موخر کر دیا تھا ۔ وزیراعظم نے اس معاملے پر خصوصی اجلاس بلایا تھا کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی امین الحق اور وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اسد عمر نے کے الیکٹرک صارفین کےلئے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی مخالفت کی ۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ گیس کی قیمتوں میں تعین کے مسئلے کو پائیدار بنیادوں پر حل کرنے کےلئے اس اہم ایشو پر مشاورت کی جائے اجتماعی حکمت سے اس مسئلے کا مستقل بنیادوں پر حل تلاش کیا جائے ۔

کلبھوشن کو قونصلررسائی،بھارتی ڈرامہ بے نقاب

پاکستان نے بھارت کی درخواست پر بھارتی بحریہ کے افسر اور را کے ایجنٹ کمانڈر کلبھوشن یادیو کو دوسری قونصلر رسائی فراہم کی ۔ دفتر خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے قونصلر تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن(وی ۔ سی ۔ سی ۔ آر)1963 کے تحت پہلی رسائی 2 ستمبر2019 کو فراہم کی تھی ۔ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے دو افسران کو 1500 آورز پر بلا روک ٹوک اور کسی تعطل کے بغیر کمانڈر یادیو تک قونصلر رسائی دی گئی ۔ کمانڈر یادیو 3 مارچ 2016 کو کاءونٹر انٹیلی جنس آپریشن میں بلوچستان سے گرفتاری کے بعد سے پاکستان کی حراست میں ہے ۔ تحقیقات کے دوران کمانڈر یادیو نے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ۔ پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے میں را کے ملوث ہونے بارے اہم انکشافات بھی کئے ۔ پاکستان 17 جولائی 2019کے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کے عزم پر کاربند ہے ۔ امید ہے کہ بھارت اس فیصلے کے مکمل اطلاق میں پاکستانی عدالت سے بھرپور تعاون کرے گا ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کلبھوشن بار بار بھارتی سفارتکاروں کو پکارتا رہا لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور بھاگ نکلے ۔ بھارتی سفارتکاروں کا رویہ حیران کن تھا ۔ دونوں سفا رتکار خوفزدہ تھے سفارتکاروں نے کلبھوشن سے بات ہی نہیں کرنی تھی تو رسائی کیوں مانگی ۔ بھارتی سفارتکاروں کو درمیان میں شیشے پر اعتراض تھا وہ بھی ہٹا دیا ۔ بھارتی سفارتکاروں کی تمام خواہشات پوری کیں پھر بھی وہ چلے گئے ۔ دراصل بھارت خطے کے ممالک سے دور ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ بھارتی حکومت کی سوچ جنونی ہے ۔ اس کے رویے سے خطے کے دیگر ممالک بھی نالاں ہیں ۔ بھارت کا رویہ ہمیشہ منفی رہا لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان نے مثبت سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق دنیا کو دکھائے ۔ بھارت نے عالمی عدالت انصاف سے دوبارہ رجوع کیلئے نیا ڈھونگ رچا یا ۔ بھارت نے کلبھوشن کو قونصلر رسائی دینے پر پاکستان کا شکر گزار ہونے کی بجائے الزامات کی بوچھاڑ کر دی ۔ دو مرتبہ قونصلر رسائی ملنے کے باوجود اسے متنازعہ بنانا بھارت کی بدنیتی ہے ۔ اس بنیاد پر بھارت عالمی عدالت انصاف میں گیا تو اسے منہ کی کھانی پڑیگی ۔

امریکی ایوان نمائندگان کاکشمیرکی صورتحال پراظہارتشویش

امریکی ایوان نمائندگان نے مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال اور مذہبی آزادیوں پر لگائی جانیوالی قدغن پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اس کے علاوہ پاکستان کےلئے فنڈنگ کی سفارش بھی کی گئی ہے ۔ ایوان نمائندگان کمیٹی نے کہا کہ بھارت اورمقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی بگڑتی صورتحال اور شہریت سے متعلق قانون میں مذہب کا خانہ شامل کیے جانے پر تحفظات ہیں ۔ امریکی ایوا ن نمائندگان کو کمیٹی کی جانب سے محکمہ خارجہ، غیرملکی آپریشنز اور دیگر پروگراموں سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی جس میں مقبوضہ جموں وکشمیر اور بھارت میں انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی بگڑتی صورتحال پر کمیٹی نے شدید تشویش ظاہر کی ۔ بھارت جوخود کوسیکولرملک اوردنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے اس نے مقبوضہ کشمیر میں تمام انسانی آزادیوں پر گزشتہ ایک سال سے قدغن لگائی ہوئی ہے ۔ اب مقبوضہ کشمیر بالخصوص وادی کے علاقے میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کےلئے اسرائیل طرز کی ہندوبستیاں وادی میں بنانے کے منصوبے پرعمل شروع کردیا ہے جس کے تحت سینکڑوں سال سے وہاں راءج شہریت کاقانون بھی تبدیل کردیا اورعالمی ذراءع ابلاغ کے مطابق اڑھائی لاکھ ہندوءوں کوکشمیرکاڈومیسائل سرٹیفکیٹ دیکر انہیں کشمیرکاشہری بنادیاگیا ۔ یہ ایک منظم چال ہے کہ اگرمستقبل میں کشمیریوں کو حق خودارادیت کاموقع ملتا ہے توہندواکثریت کی وجہ سے وہ بھارت کے حق میں ووٹ دیں ۔ حریت قیادت نے بھارت کے اس فیصلے کی بھرپورمذمت کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کا اعلان کیاہے ،حریت قیادت کوپابندسلاسل کردیاگیاہے اورعوام پرظلم وجبرکے پہاڑتوڑے جارہے ہیں ۔