- الإعلانات -

یومِ الحاقِ کشمیر اور دہشت گرد بھارت !

انیس جولائی کو لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب اور پاکستان میں یومِ الحاقِ کشمیر منایا جاتا ہے کیونکہ 1947 میں اسی روز کشمیریوں نے اپنا مستقبل ہمیشہ کےلئے پاکستان سے وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ بھارتی حکمرانوں کا روزِاول سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اکھنڈ بھارت اور رام راجیہ کے قیام کا خواب دیکھتے چلے آ رہے ہیں ۔ اپنی اس مذموم روش کے زیرِاثر انہوں نے حیدر آباد دکن،جونا گڑھ اور مناور کو ہڑپ کیا ، گوا اور سکم پر قبضہ کیا اور ان سب سے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر پر اپنا نا جائز تسلط جمایا اور اسے قائم رکھنے کےلئے دہلی سرکار بد ترین قسم کی ریاستی دہشتگردی جاری رکھے ہوئے ہیں اور ابھی تک ایک لاکھ کے لگ بھگ معصوم کشمیریوں کو تہہ تیغ کیا جا چکا ہے ۔ مگر مقبوضہ کشمیر روَیاست کے نہتے مگر جری عوام اپنی لازوال جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اسی پس منظر میں ایک جانب انیس جولائی کو پوری کشمیری قوم یومِ الحاق کشمیر مناتی ہے تو دوسری طرف 27 اکتوبر کا دن ’’یومِ سیاہ ‘‘ کے طور پہ منایا جاتا ہے ۔ کیونکہ 27 اکتوبر1947 کوتمام اخلاقی بین الاقوامی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انڈین آرمی نے ریاست جموں کشمیر پر ناجائز قبضہ کر لیا اور بھارت کا یہ غاصبانہ تسلط 73 برس گزر جانے کے بعد بھی ہنوز جاری ہے ۔ حالانکہ اس نا جا ئز قبضے کے بعد کئی برسوں تک بھارت یہ وعدہ کرتا رہا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی غرض سے حق خودرادیت کا موقع فراہم کیا جائے گا ۔ بلکہ اسی ضمن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کو باقاعدہ قراردادوں کے ذریعے اس امر کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے تا کہ وہ فیصلہ کر سکیں کہ وہ بھارت کی غلامی میں رہنا چاہتے ہیں یا اپنے مخلص ترین دوست پاکستان کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کرنا چا ہتے ہیں جس کے ساتھ ان کا مذہبی،ثقافتی رشتہ صدیوں سے برقرار ہے ۔ ہندوستانی حکمرانوں کی وعدہ شکنی کا یہ عالم ہے کہ ابتدائی برسوں میں اس وقت کے بھارتی وزیر ِاعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ایک سے زائد مرتبہ واضح طور پر اعتراف بھی کیا اور کھلے لفظوں میں اعلان بھی کہ کشمیریوں کو ہر حال میں رائے شماری کا حق دیا جائے گا ،مگر بھارتی حکمرانوں کی کہہ مکرنیوں کی اس سے بڑی اور بدترین مثال کیا ہو گی کہ وقت گزرنے کے ساتھ پنڈت نہرو نے مقبوضہ ریاست کی بابت ’’اٹوٹ انگ‘‘ کا راگ الاپنا شروع کر دیا اور یہ بے بنیاد دعویٰ ان دنوں بھی جاری ہے ۔ مبصرین نے بھارتی حکومت کی اس بے معنی مگر مذموم روش پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہتے وقت دہلی کے حکمران یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ مظالم کے ذریعے کیسے آزادی کے سورج کو طلوع ہونے سے روکا جا سکتا ہے;238;کئی غیر ملکی سر براہوں نے بھی مختلف مواقع پر پاکستان کی ان کاوشوں کی تعریف کی ہے جو وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کر رہا ہے ،اس ضمن میں بھارت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر معقولیت کی راہ اپنائے اور اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر رضا مند ہو جائے وگرنہ یہ تو طے ہے کہ کسی قوم کو محض دہشت گردی کے ذریعے ہمیشہ کےلئے غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا خصوصاً جب وہ قوم اپنے ایک لاکھ سے زائد فرزند شہید کروا چکی ہو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ غیروں کی غلامی کو قبول کر لے گی ۔ ایسے فضول خواب صرف دہلی کے حکمران ہی دیکھ سکتے ہیں ۔ مگر شاید ہندوستانی بالادست طبقات نے انسانی تاریخ سے کوئی بھی سبق حاصل نہیں کیا ۔ تبھی تو وہ کشمیر کے حریت پسندوں کودہشت گرد قرار دینے کی سعی لا حاصل میں مصروف ہیں حالانکہ خود بھارت کے کئی دانشوروں نے کہا ہے کہ برطانوی اقتدار سے آزادی کی خاطر کانگریس اور کئی دوسرے ہندوستانی طبقات نے لمبی جدوجہد کی اس دوران سبھاش چندر بوس،بھگت سنگھ،چندر شیکھر آزاد وغیرہ کوبرطانوی حاکموں نے دہشتگرد قرار دیا مگر آج خاص وعام بھارتی تک سبھی لوگ’’بھگت سنگھ‘‘ وغیرہ کی سمادھی پر پھول چڑھاتے ہوئے انھیں تحریک آزادی ہند کے عظیم سپاہی قرار دیتے نہیں تھکتے ۔ ’’سبھاش چندر بوس‘‘ جس نے آزادی کی خاطر جاپانی افواج سے مل کر متحدہ ہندوستان میں کئی متشدد کاروائیاں کیں ۔ انہیں بھارت کے حکمران طبقے ’’نیتا جی‘‘ کا خطاب دیتے ہیں ۔ مگر کشمیری حریت پسندوں کے خلاف ہر قسم کا ظلم روا رکھنا واجب سمجھا جاتا ہے،اب بھارتی حکمرانوں کو یہ کون سمجھائے کہ آزادی کے متوالوں کو دہشت گرد کہہ دینا تو شاید ممکن ہے مگر اس بابت حتمی فیصلہ تاریخ کرتی ہے اور وقت کے فیصلے ہی بالعموم درست قرار پاتے ہیں ۔ بھارتی حکمرانوں نے ریاستی دہشتگردی کا جو گھاءونا کھیل شروع کر رکھا ہے اس کا انجام اب زیادہ دور کی بات نہیں کہ قانونِ فطرت ہے کہ ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اور بھارتی سرکار کے ظلم کی رات بھی اب ڈھلنے والی ہے کیونکہ کسی بھی غاضب کے روکنے سے بھلا صبح آزادی کو طلوع ہونے سے کون روک پایا ہے;238;یقینا اس کا جواب نفی میں ہے ۔ مناسب ہو گا کہ ہندوستانی سرکار یومِ الحاقِ کشمیر کے موقع پر اس نوشتہ دیوار کو جتنی جلدی پڑھ لے اتنا ہی علاقائی امن کےلئے اچھی بات ہو گی ۔