- الإعلانات -

کورونابحران سے نکلنے کی امید

کورونا کنٹرول ہونے لگا ہے، نئے کیسز اور اموات میں مسلسل کمی ہورہی ہے، صحت یابی کی شرح بھی بڑھنے لگی ہے اور اب تک ایک لاکھ اٹھانوے ہزارپانچ سونوافراد صحت یاب ہوگئے ہیں ۔ وائرس سے متاثرہ افرادکی مجموعی تعداد دولاکھ اکسٹھ ہزارنوسوسترہ ہے ۔ جاں بحق افراد کی تعدادپانچ ہزار522 ہے ۔ سمارٹ لاک ڈاءون اور ایس او پیز پر عملدر;200;مد کے نتاءج حوصلہ افزا ہیں ۔ رب کریم کے فضل و کرم سے کرونا کے خلاف احتیاطی تدابیر اور حفاظتی اقدامات کے باعث مریضوں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر کمی ;200;رہی ہے جبکہ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے ۔ اموات بھی کم ہوئی ہیں تاہم اس کے باوجود حفاظتی اقدامات احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز کی پابندی انتہائی ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں انتظامیہ کو بھی اپنے تمام وسائل بروئے کار لانا ہونگے تاکہ سمارٹ لاک ڈاءون سمیت کوئی اقدام بھی بے ثمر نہ رہے ۔ تاہم حفاظتی اور احتیاطی تدابیر پر مزید سختی سے عملدر;200;مد کی ضرورت ہے ۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی لمحہ غیر سنجیدگی اور بے احتیاطی کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ حفاظتی تدابیر اور ایس او پیز پر پہلے سے زیادہ سختی کے ساتھ عملدر;200;مد کی ضرورت ہے تاکہ رب کریم کے فضل و کرم سے اس وبا کا خاتمہ اور وطن عزیز سمیت تمام دنیا محفوظ و مامون ہو، معمولات اور معاملات زندگی دوبارہ عروج پائیں ۔ اسی سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان خوش قسمتی سے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا کے مریضوں کی شرح اموات میں کمی آئی ہے، عید الاضحی کے موقع پر عوام کو کورونا سے بچاءو کےلئے ضابطہ کار پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایس او پیز پر عملدرآمد جاری رکھا جائے اگر ہماری قوم نے احتیاطی تدابیر کی پابندی کی تو ہم اس بڑی آزمائش سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے ،جنگلات کے تحفظ کےلئے نگہبان تعینات کررہے ہیں بے ہنگم پھیلاءو روکنے کیلئے شہروں کے ماسٹرپلان بنائیں گےاسکولوں میں بچوں کو ہرہفتے 2گھنٹے شجر کاری سے متعلق آگاہی کیلئے وقف کیے جائیں گے ۔ ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل کمی آ رہی ہے عیدالاضحی سادگی سے منائی جائے، ایسا نہ ہوکہ جس طرح گزشتہ عید میں ایس او پیز کو نظر انداز کیا گیا اور ہمارے اسپتال کورونا کے مریضوں سے بھر گئے ۔ انتہائی نگہداشت اور وینٹی لیٹرز پر بھی مریضوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جبکہ بد قسمتی سے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں یہ شرح بہت زیادہ ہے ۔ ہماری کامیابی اسمارٹ لاک ڈاءون پالیسی کا نتیجہ ہے جبکہ قوم حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے ایس او پیز پر عملدرآمد کر رہی ہے ۔ دریں اثناعمران خان نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے حوالے سے انتظامات اور پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہنے والا پاکستانی ہماری ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے حوالے سے ہر کوشش کرتے رہیں گے ۔ عےدالاضحی کے موقع پر کوروناوباء کے پھےلاءو کی روک تھام کے تناظر میں قواعدوضوابط پر سختی سے عملدرآمد ےقےنی بنانے کےلئے تمام انتظامی اقدامات کئے جائیں ۔ پاکستان میں سلیکٹڈ لاک ڈاءون کے تجربہ سے بھی کافی فائدہ ہوا ہے ۔ روزانہ کی بنیاد پر مرض کی تشخیص کی صلاحیت بڑھی ہے تاہم گزشتہ کئی دنوں سے مریضوں کی تعداد کم ہوئی ہے جبکہ جاں بحق ہونےوالے افراد کی تعداد میں بھی کمی ہوئی ہے جو یقینا اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہی ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ حفاظتی تدابیر بھی کافی حد تک کارساز ثابت ہورہی ہیں ۔ اس لئے حالات کا تقاضا ہے کہ ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلوں سمیت تمام حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ رب ذوالجلال کے حضور اپنی بے بسی کا اظہار بھی کرتے رہیے تاکہ اللہ کریم جلد از جلد اس مرض کا خاتمہ فرما دے اور انسانی زندگی دوبارہ معمول پر ;200;جائے ۔ ادھر اقوام متحدہ نے امیرملکوں پرزوردیاہے کہ کوروناوائرس پرموثرطورپرقابوپانے کےلئے غریب ملکوں کی مدد کےلئے کوششیں تیز کی جائیں ۔ ایک بیان میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ مارک لوکوک نے کہاکہ اس سلسلے میں امیرملکوں کی طرف اب تک کاردعمل مجموعی طور پر ناکامی اور کوتاہ نظری پرمبنی ہے ۔ انہوں نے خبردارکیاکہ اقدامات نہ کرنے کی صورت میں عالمی وباء اوراس سے منسلک عالمی کسادبازاری سے چھبیس کروڑ پچاس لاکھ افرادبھوک کاشکارہوسکتے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں پہلے غریب ملکوں کی مدد کےلئے دس ارب ڈالر سے زائد امداد کی اپیل کی تھی تاکہ کوروناوائرس کے پھیلاءواوراس کے منفی اثرات سے نمٹاجاسکے ۔ یہ حقیقت ہے کہ کوروناوائرس کی وباء سے ترقی پذیرملکو ں کو اس وقت مشکل حالات کاسامنا ہے ۔ اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے ترقی یافتہ ملکوں سے اپیل کی تھی کہ وہ ترقی پذیرملکوں کےلئے امدادی پیکجز دیں تاکہ مشکل صورتحال سے نکلاجاسکے جس کے فوراً بعد قرضوں کی چھوٹ اورامدادی پیکجز کا اعلان کیاگیا جس سے کچھ ریلیف حاصل ہوا مگر ابھی بھی معیشت کی بحالی کےلئے بہت سے مسائل کاسامنا ہے جس پرآہستہ آہستہ کام جاری ہے ۔ ایک خوش آئند امر یہ بھی ہے کہ بہت سی کمپنیاں کوروناوائرس کی وباء کےلئے ویکسین تیاری کے آخری مراحل میں ہیں ۔ اب امیدیہی کی جارہی ہے کہ اس وباء کامکمل طورپر خاتمہ ہونے کو ہے جس کے بعدحالات معمول پرآجائیں گے ۔

بھارتی فوج کی ایل او سی پرپھربلا اشتعال فائرنگ

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بھارتی فوج نے ایل او سی پر رکھ چکری اور بروہ سیکٹرز میں شہری آبادی پر فائرنگ کی ۔ بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ سے کِرنی اور گاہی گاءوں سے تعلق رکھنے والی 2 خواتین زخمی ہوگئیں ۔ بھارتی فوج رواں سال 1697 بار سیز فائر کی خلاف ورزیاں کر چکی ہے ۔ مسلح افوا ج پاکستان کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی پر دشمن فوج کو فوری بھاری ہتھیاروں سے دندان شکن جواب دیا گیا ۔ جس سے بھارتی توپیں خاموش ہوگئیں اوردشمن دم دبا کربھاگ نکلا ۔ ایک طرف پوری دنیا کرونا کے تدارک کیلئے اقدامات کررہی ہے تو دوسری طرف بھارتی ظالمانہ اور سفاکانہ رویوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ وہ نہ صرف لائن ;200;ف کنٹرول پر شرپسندی سے کام لے رہا ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی اس کی بربریت جاری ہے جہاں کشمیری بھارت کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔ بھارت ان کے ;200;زادی کے عزم و ارادے کو کچلنے میں ناکامی پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ وہ کشمیریوں کی تحریک میں کمی لانے اور دنیا سے اپنے مظالم چھپانے کیلئے پاکستان کیخلاف کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے بھارت کا دہشت گردی کے حوالے سے بھیانک چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جاتا رہا ہے ۔ اس میں اب مزید فعالیت کی ضرورت ہے ۔ دراصل ;200;ر ایس ایس کی نمائندہ مودی سرکار نے سیکولر بھارت کو ہندو انتہا پسند ریاست میں تبدل کرنے کےلئے کشمیری عوام اور بھارتی مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کو مظالم کے نت نئے ہتھکنڈوں کے زور پر عملاً زندہ درگور کر دیا ہے ۔ مودی کی بوکھلاہٹ نے اس کے ہوش اڑائے ہوئے ہیں کشمیری عوام کرفیو میں اپنے گھروں میں محصور ہو کر بے بسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں جن کےلئے ضروریات زندگی کی ہرچیز ناپید ہو چکی ہے ۔ عالمی قیادتوں کو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے زیادہ تشویش پاکستان بھارت کشیدگی پر لاحق ہے جو مودی سرکار ہی کی پیدا کردہ ہے جس نے کنٹرول لائن پر روزانہ کی بنیاد پر شہری ;200;بادیوں پر یکطرفہ فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ ;200;ج ضرورت اس امر کی ہے کہ مودی سرکار کی جنونیت کے ;200;گے بند باندھاجائے اوراور اس کے توسیع پسندانہ عزائم پر شٹ اپ کال دی جائے ۔ ایل او سی پر بھارتی فوج کی آئے روز بلا اشتعال فائرنگ وگولہ باری نے مکینوں کی زندگیوں کو مکمل اجیران بنادیا ہے ۔ ایل اوسی مکینوں نے عالمی برداری اور اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایل اوسی پر آباد سویلین آبادی پر بھارتی فوج کی جارحیت کا سختی سے نوٹس لے اور یہ سلسلہ فوری بند کروائے ۔