- الإعلانات -

عوامی و قومی سیاست

موجود ہ حکومت پاکستان کی سب سے بد دیانت حکومت ہے ۔ یہ الزام سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری ،اورسابق وزیراعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو کے فرزند بلاول زرداری ممبر قومی اسمبلی نے خبرنامہ کی شہ سرخی میں لگا گیا ہے ۔ میڈیا موجودہ حکومت کو گرانے کی بھر پور کوشش کررہا ہے ۔ موجودہ حکومت میڈیا نہ گرا سکا تواسے سادہ لوح عوام کی نظروں سے گرانے کی بھرپور کوشش کرے گا! موجودہ حکومت فرشتوں کی حکومت نہ ہے ۔ بلکہ ہر دور کے لیٹروں کے ساتھی موجودہ حکومت میں شامل ہوکر اپنے کرتوتوں میں ضرور مصروف ہونگے ۔ جو موجودہ حکومت کی بدنامی کا ضرور سبب بنیں گے ۔ اوروزیراعظم پاکستان کے پرانے ساتھی عامر کیانی ممبر قومی اسمبلی پر کرپشن کے الزامات لگے جنکی وجہ سے عمران خان نے ان کو وزارت سے فارغ کیا ۔ خیبر پختونحواہ کے وزیر اجمل وزیر پر کرپشن کے الزامات لگے سابق وزیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پر کرپشن کے الزامات لگے عمران خان کے سب سے قریبی ساتھی جہانگیر ترین پر کرپشن کے الزامات لگے ۔ یقینا بہت سارے اور لوگ بھی ہوں گے جو موجودہ حکومت میں کرپشن کے ذمہ دار ہوں گے ۔ مگر وہ حضرات تاڑنے والوں کی نظروں سے تا حال بچ نکلے ہیں ،جو ہوئے تو ضرور پکڑے جائیں گے حکومت اور نیب سے بچ بھی نکلے تو وہ عوام اور اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ پائیں گے ۔ ایک بات جو بڑی معنی خیز ہے اب پیپلز پارٹی والے بھی کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں حالانکہ مسلم لیگی اور پیپلزپارٹی کی گزشتہ 30 سالہ حکومتوں کے درمیان ملکی معیشت اور قومی دولت کو جس بے دردی سے لوٹا گیا مثال پیش کرنا نا ممکن ہے ہر سابقہ حکومت نے خوب عوام کی خدمت کے نعرے لگائے ۔ ہر دور میں غیر ملکی قرضوں کے پہاڑ کھڑے کیے گئے ۔ ہاں دنیا سے بڑی دولت میرے دیس میں پہنچی مگر یہ دولت حکمرانوں اور حکمرانوں کے پالشی و مالشیوں کے اثاثے بڑھانے،انکی مالی ،سیاسی حیثیت بڑھانے میں ضرور صرف ہوئی مگر قومی وملکی حالت نہ بدلی نواز شریف اور زرداری گروپ عوام پر حکمرانی کی باریا ں بدلتے رہے ۔ ہر دور میں خوب مال کمایا گیا مگر ہر آنے والے حکمران نے سابقہ حکمرانوں کی کرپشن پر شور مچایا ۔ مگرکسی نے بھی چوروں کو قانون کے حوالے کرنے کی کوشش تک نہ کی ۔ یوں چور چوریاں کرتے رہے اور قانون اور حکمران ہر چور کی چوری پر خاموش تھاتما شائی بنا رھا ۔ عمران خان اب تبدیلی آئی ہے کہ بلاول جیسا جوان بھی چوری کے خلاف میدان میں اتر آیا ہے جس کے بڑے چوروں کے سر پرست ، محافظ ، معاون تھے بلاول زرداری کو کون سمجھائے کہ چوروں کے خلاف کاروائی تیز ہوئی تو ان کے تمام ساتھی اوربزرگوں کے وفادار جیلوں میں ہوں گے اور کاروائی مبنی بر انصاف ہو ئی تو موجودہ حکومت میں کئی دوسری جماعتوں کے بھگوڑے بھی جیلوں میں منہ چھپاتے پھریں گے کرپشن میں سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ،سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور جناب خاقان عباسی کے ہی کیسز کی پڑتال کی جائے تو ان پر الزامات اربوں روپے کی کرپشن کے ہوں گے ۔ چیلوں اور مالشیوں کا حساب کتاب کرنامشکل ہوجائے گا ۔ ہمارے میڈیا نے موجودہ حکومت پربلاول زرداری کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو اسطرح بیان کیا گویا عمران خان کرپشن میں رنگے ہاتھوں گرفتار ہوگیا ہے ۔ بلاول تو جوالزام لگائے اپوزیشن اور مخالفین کو حق پہنچتا ہے کہ وہ مخالفین کو بدنام کرکے اپنی راہ بنائے اور عوام کی ہمدردیاں حاصل کرے ۔ مگر میڈیا کا اسطرح موجودہ حکومت پہ بمباری کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ۔ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ موجودہ حکومت نے مختلف اخباروں اور چینلز کے بل روک رکھے ہیں ۔ جسکی وجہ سے میڈیا مالکان مالی مشکلات کاشکار ہیں اور جب تک اخبارات اور چینلز کے بلز موجودہ حکومت ادا نہیں کرتی میڈیا اپوزیشن کا کردار ادا کرتا رہےگا ۔ عمران خان وزیراعظم میڈےا کے غلط بلز تو دستخط نہیں کرے گا ہاں عمران خان کے چاپلوس عمران خان کو چکر دے کر عمران خان سے میڈیا کا ہاتھ پنجہ کراسکتے ہیں ۔ لیکن یہ دوستی بھی عارضی ہوگی کیونکہ میڈیا والے ہمیشہ کی خوراک پسند کرتے ہیں اورعمران خان بارباردھوکے میں آنے والے نہیں جسطرح عامرکیانی نے ایک پرانی دوستی کی بناء پر وزارت تو حاصل کرلی ۔ مگر کرپشن کے الزامات کے بعد وہ عمران خان سے پبلک میں ملنے سے گزیراں ہے ۔ لیکن جو بات عمران خان کے انتہائی خلاف جاتی ہے عمران خان متعدد دفعہ میانوالی گئے اور ملک بھرکے جن اضلاع وعلا قوں کادورہ کیا اسے مفاد پرست عناصر نے نہ وکلاء ،نہ تاجر ،نہ صنعتکاروں ،نہ طلبہ،نہ ڈاکٹر،اور نہ کسانوں سے ملنے دیا تاکہ عمران عوام کے مختلف طبقات میں اپنی جڑیں مضبوط نہ کر پائے ۔ بلاول ہوکہ حمزہ،عمران خان ہوکہ نوازشریف جب تک عوامی اور قومی سیاست نہیں کریں گے حکمران اور عوام ذلیل ہوتے رہینگے ۔