- الإعلانات -

وزیراعظم کا دورہ لاہور،کرپشن کے خلاف اقدامات پر زور

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ لاہور کے دوران پنجاب حکومت کی کارکردگی اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بے خوف ہو کر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے جسکے بعد عثمان بزدار کو عہدے سے ہٹائے جانے کی افواہیں یقینی طور پر دم توڑ جائیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب اس حوالے سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں ہرکڑے وقت میں وزیراعظم عمران کی حمایت ملتی ہے، تاہم انہوں نے پنجاب میں کرپشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ کرپشن پر قابو کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ۔ وزیراعظم کی یہ تنبیہ ضروری بھی تھی کہ پارٹی جس منشور کو لے کر اقتدار میں آئی اس پر پیش رفت نہیں ہو رہی خصوصاً کرپشن کے حوالے سے شکایت عام ہیں ۔ دوسری طرف ارکان اسمبلی کی شکایات بھی بجا ہیں ۔ اگر حلقے میں عوامی مسائل حل نہیں ہونگے تو اس سے حکومت کی ساکھ پر منفی اثر پڑتا ہے ۔ وزیراعظم نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو ارکان اسمبلی کے مسائل حل کرنے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ لاہور بہت اہمیت کا حامل تھا، اس موقع پر انہوں نے پنجاب اسمبلی کے کئی ارکان سے بھی ملاقاتیں کیں اور ان کے مسائل حل کرنے پر زور دیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ اراکین نے وزیراعظم عمران خان کے سامنے تحفظات کی بھر مار کردی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صوبائی اسمبلی اراکین کو زیادہ قومی اسمبلی کی اراکین کو کم ملتے ہیں ، ہمارے حلقوں کے مسائل حل نہیں ہو رہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ کو ممبران اسمبلی کے تحفظات دور کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی رکاوٹیں ہیں انہیں فوری ختم کیا جائے،ممبران اسمبلی کے تحفظات درست ہیں ، ترقیاتی اسکی میں جہاں ممکن ہیں وہ شروع کی جائیں گی، ممبران اس ضمن میں عوام الناس سے مستقل رابطے میں رہیں اور کسی بھی مسئلے کے حل کے حوالے سے درپیش انتظامی مشکل کی صورت مجھے فوری طور پر آگاہ کیا جائے ۔ ملاقات میں جنوبی پنجاب کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی نے وزیر اعظم عمران خان کا جنوبی پنجاب کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کی تعیناتی پر شکریہ ادا کیا ۔ وزیراعظم نے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے انتظامی اختیارات کی منتقلی کی جانب ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے ۔ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کے حوالے سے بھر پور تیاری اور آئینی تقاضے پورے کرینگے ۔ وزیراعظم نے عوامی ریلیف کیلئے حکومت پنجاب کے اقدامات پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے انسداد کورونا کیلئے بہترین کام کیا ہے، حکومتی اقدامات کے باعث کورونا وائرس کے کیسز میں واضح کمی ہوئی ہے اوراب حالات بہتر ہورہے ہیں ، اسمارٹ لاک ڈاوَن پر حکومت کی جانب سے ایس او پیز پر زبردست عملدآمد کروایا گیا ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے لاہور میں قائد اعظم بزنس پارک کا سنگ بنیاد بھی رکھا ۔ قبل ازیں اجلاس میں وزیراعظم کو راوی ریور فرنٹ اتھارٹی کی دبئی طرز پر ایک لاکھ ایکڑ رقبہ پر نیا شہر بنانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، وزیراعظم کو بتایا گیا کہ اس منصوبے میں نجی شعبہ5ارب کی سرمایہ کاری کریگا ۔ بعد ازاں قائداعظم بزنس پارک کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی سمت درست ہے، بزنس پارک منصوبے پر پنجاب حکومت کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نظام کی خرابی کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے ناکام ہوتے ہیں ۔ بزنس مین کیلئے تمام آسانیاں پیدا کرینگے، بدقسمتی سے ہمارا سسٹم رکاوٹ بنا ہوا ہے، ہاوَسنگ اسکیم کی راہ میں رکاوٹیں ختم کیں ۔ عمران خان نے کہا کہ پچھلے تین چارماہ میں اندازہ ہوا ہے کہ سسٹم ایسا ہے ڈویلپمنٹ نہیں ہونے دیتا ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قوم انڈسٹریلائزیشن کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی،انہوں نے سنگا پور کی ترقی کی مثال دی کہ اس کی وجہ پلاننگ تھی، 1960 کے بعد پاکستان کی پلاننگ ختم ہو گئی تھی ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پلاننگ الیکشن جیتنے کیلئے ہوتی ہے ۔ وزیراعظم نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ پنجاب کے تمام مسائل کو حل کرینگے، کنسٹرکشن انڈسٹری پر بہت محنت کی، غریبوں کیلئے 50 لاکھ گھر بنانے ہیں اور یہ کر کے دکھائینگے ۔ چینی کمپنیاں بھی پیسہ لگانا چاہتی ہیں ۔ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہوگی کہ نظام کو درست کیا جاسکے تاکہ وہ متوسط اور مزدور طبقہ جو برطانیہ یا دیگر ممالک میں جا کر بڑی بڑی صنعت لگاتے ہیں ، پاکستان میں ایسا ماحول مل سکے کہ نئی نسل ادھر ہی منصوبے شروع کرے ۔ دورہ لاہور کے موقع پروزیراعظم کی زیر صدارت صوبہ پنجاب میں صحت کے شعبہ کی ترقی کے حوالہ سے بھی اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان، صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد و دیگر شرکت کی ہے ۔ اجلاس کے دوران وزیر اعظم عمران خان کو پنجاب میں صحت کے شعبہ میں جاری اور نئے تجویز کردہ صحت کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی ۔ وزیر اعظم نے صحت کے شعبہ میں جاری منصوبوں کی جلد اور معیاری تکمیل اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تمام بڑ ے اسپتالوں میں معیاری سہولیات کی فراہمی اور صفائی ستھرائی کے حوالے سے فوری اقدامات کئے جائیں ۔ بلاشبہ ہمارے ہسپتال مسائل کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں ،عام مریض دکھے کھا رہا ہوتا ہے ۔ وزیراعظم تواتر کےساتھ پنجاب حکومت کی کارکردگی کاجائزہ لینے لاہور کا دورہ کرتے رہتے ہیں ،یہ ایک اچھی روایت ہے لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ پنجاب حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے میں اس طرح کامیاب نہیں ہو پا رہی جس طرح کہ وزیراعظم عمران خان کو توقع تھی یا عوام امیدیں لگائے بیٹھی ہے،پنجاب بڑا صوبہ یقیناً یہاں مسائل بھی بڑے ہیں لیکن عوام نے حکومت کو مینڈیٹ دیا ہے تو ان کو اس کا پھل بھی ملنا چاہیے ۔

ادویات کی قیمتوں میں پھر اضافہ سمجھ سے بالا تر

پہلے ہی عوام معاشی تنگ دستی کا شکار ہے ، مہنگائی کی ماری عوام کےلئے وفاقی حکومت نے فارما سوٹیکل کمپنیوں کو ادویات کی قیمتوں میں 7سے10فیصد اضافے کی اجازت دے کر اسے دوہرے عذاب میں مبتلا کردیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے ادویہ ساز کمپنیوں کو کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی ;200;ئی)کے تحت ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دی ہے جو پہلے ہی عوام کی کھال ادھیڑ رہی ہیں ۔ ڈریپ کے نوٹی فکیشن کے مطابق ادویہ ساز کمپنیوں اور امپورٹرز کو بنیادی ادویات کی قیمتوں میں 7 فیصد جبکہ دیگر ادویات کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ کی اجازت دی گئی ہے ۔ ڈریپ نے وفاقی حکومت و ڈریپ کی پالیسی بورڈ کی منظوری و سفارش پر ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 میں ترمیم کی ہے ۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق ہر سال وزارت قومی صحت کرے گی ۔ اس پہ ظلم یہ کہ گذشتہ برس ہی سی پی ;200;ئی کے مطابق بنیادی ادویات کی قیمتوں میں 5;46;14 فیصد جبکہ دیگر تمام ادویات کی قیمتوں میں 7;46;34 فیصد اضافے کی اجازت دی گئی تھی ۔ جس سے عام ادویات کے ساتھ ساتھ جان بچانے والی ادویات میں بھی ہوشربا اضافہ ہو گیا تھا ۔ حکومت جس نے حالیہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا اس کے لئے ضروری تھا کہ وہ ڈریپ کی سفاشات کو رد کرتی ۔ شہریوں نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کو عوام پر ظلم قراردیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات کی قیمتیں پہلے ہی بہت زیادہ ہے، اب مزید اضافہ نہ کیاجائے ۔

یوم الحاق پاکستان،تجدید عہد کے طور منایا گیا

گزشتہ روزکنٹرول لائن کے دونوں جانب اوردنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے یوم الحاق پاکستان منایا،19 جولائی 1947 کوکشمیریوں کی حقیقی قیادت نے ;200;ل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے ایک اہم اجلاس کے میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد متفقہ طورپر منظور کی تھی ۔ اس تاریخی قرارداد میں ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان سے مذہبی ، جغرافیائی ، ثقافتی اورمعاشی رشتوں کے تناظر میں پاکستان کے ساتھ الحاق پرزوردیاگیا تھا ۔ کشمیری یہ دن تجدید عہد کے طور مناتے ہیں ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان اور وزیراعظم ;200;زاد کشمیر راجہ فاروق حیدرنے یوم الحاق پاکستان کے موقع پراپنے اپنے پیغامات میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہم کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کیلئے لڑتے رہیں گے ۔ وزیراعظم ;200;زاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ قرارداد الحاق پاکستان کے پیچھے کشمیری عوام کی منشا تھی،یہ قرارداد کسی جماعت کی جنرل کونسل کا اجتماع نہیں تھا بلکہ کشمیری عوام کی خواہش تھی انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک ;200;زادی کی بنیاد 19 جولائی کی قرارداد الحاق پاکستان ہے اور اس نے کشمیریوں کیلئے راستہ متعین کیا ۔