- الإعلانات -

بلو چستان جل رہا ہے!

بلوچستان کے راہنماء جو وفاق کے ساتھ الحاق میں ہیں ۔ آج اُن کے گلے شکوے بہت زیادہ شدت اِختیار کر چُکے ہیں جو وعدے اُن کے ساتھ کیے گئے تھے ایک بھی وعدہ وفا نہ ہوا ۔ نہ اُن کے ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے اور نہ اُن کے دیگر گلے شکوءوں کو حل کرنے کےلئے حکومت پاکستان نے مخلصانہ کوشش کی ہے ۔ آج بلو چستان جس آگ میں جل رہا ہے اگر ہم نے سست روی ،صرف قومی کانفرنسوں اور زبانی کلامی نعروں تک اِس کے مسائل حل کرنے کی منافقانہ کوششیں کی تو ہمارے دیس کے دُشمن جانے کب سے یہ گھا ت لگائے ہوئے ہیں کہ اِن کے اپنوں کے ہاتھوں سے ہی اِس جلتی آگ پر تیل چھڑک کر ہم اپنی خوابو ں کوشرمندہ تعمیر ہوتے دیکھیں مشرقی پاکستان کی جدائی سے ہم نے کچھ سبق حاصل نہیں کیا ہے مگر آج وہ وقت آگیا ہے جب اس کے مسائل کو حل کرنے کےلئے صدرِپاکستان ،وزیرِاعظم اور اپوزیشن رہنماءو ں کو خود چل کر اُس سرز میں پر جا کر اُن کے مسائل سُن کر اُ ن کی صوابد ید پر حل کرنے کی فوری اور اشد ضرورت ہے تاکہ جو بلوچی بھائی عرصہ دراز سے ہم سے ناراض ہیں اُ ن کی اِس جائز ناراضگی کا کچھ تو ازالہ کیا جاسکے آج ہم کتنی بد قسمتی دیکھ رہے کہ بلوچستان جو معدنیات،تیل ،گیس ،یورنیم ،سونا ،کوئلہ اور دیگر معدنیا ت سے مالا مال سرزمین ہے مگر حالات اور واقعات کی وجہ سے ہم بے بس ہیں اور اس پر کام نہیں کر سکتے اور آج کچھ ہمارے دُشمن اِس خزانے پر للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہیں اِس مہمان نوازخطہ کو قیامِ پاکستان سے لیکر آج تک اُس کا حق وفاق نے بھی نہیں دیا اور نہ ہی بلوچ لیڈران نے اُس زور سے اپنے حق کی آواز اُٹھائی ہر آنے والی حکومت میں شامل تو ہر جماعت سے وابستہ بڑے بڑے لیڈران رہے مگر اِس 62سالہ ملکی تاریخ میں کوئی ایسا ریکارڈ بھی تو درج نہیں ہے کہ جو بلوچ قوم کے حق کےلئے ایک تحریک کی شکل میں موجود ہو اور نہ ہی پاکستا ن کی بڑی سیاسی جماعتو ں نے اس میں کبھی اپنے دورِحکومت میں کوئی عملی اقدامات کر کے حقِ ادا کیا ہوبلوچستان کی ترقیاتی ترقی کو ایک نظر دیکھا جائے تو ہر لحاظ سے افسوس ناک ہے بنیادی سہولتیں تک نہیں پوری پوری تحصیل میں ایک بھی سرکاری ڈاکٹر نہیں سڑکیں پورئے بلوچستان میں ایسی کہ جیسے کھنڈرات کا سلسلہ ہو تعلیم ،پانی ،بجلی سب ایسی نعمتیں جن سے عام لوگ محروم ہیں اپنی مدد آپ کے تحت بھی اِن اپنے لوگوں کے ساتھ کسی نے وفا نہ کی ورنہ ہر ضلع تحصیل سطح پر ایسے بڑئے بڑے سردار موجود جن کے لیے سکول ،ہسپتال اور سڑکیں کچھ بہتر بنانا شاید مشکل نہ ہو ۔ چند سال پہلے ایک سنیٹرز نے ایک پرائیوٹ چینل پر ایک ٹاک شو میں میزبان کو کہا کہ بابا میری پُوری تحصیل میں ایک بھی ڈاکٹر نہیں ہے اس پر اُس میزبان نے کہا کہ سینٹرز صاحب آپ کتنے سال سے سینٹر ز ہیں اُس نے کہا کہ پانچ سال سے اور آپ خود بھی پروفیشن کے لحاظ سے ڈاکٹرز ہیں چھوڑیے ایک لمحہ کو وفا ق کو بحیثیت ایک بلوچی و پاکستانی آپ نے کیا اپنا فر ض ادا کیا آپ بطورِ سینٹرز تمام مراعات تو لیتے رہے اور آپکی پارٹی کی حکو مت بھی رہی پھر بھی آپ ایک ہسپتال تک منظور نہ کرا سکے آپ کی کوئی نہیں سن رہا تھا تو آپ استعفی دے دیتے کم از کم آن دی ریکارڈ تو یہ با ت رہیتی کہ ایک بلوچ رہنما ء نے بلوچ قوم کےلئے پارلیمنٹ کے فورم پر استعفی دے دیا پھر دُوسرا آپ خود پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں آپ خود بھی تو ایک فلاحی ہسپتال کھو ل سکتے تھے اور مہینے میں چند دن وہاں عوام کو یہ سہولت دے سکتے تھے کہنے کامقصد یہ کہ بلوچستان کی حد تک عملی کاموں میں وہاں کی مقامی قیادت نے بھی کو ئی ایسا کردار ادا نہیں کیا جس کو بلو چی قوم مثال بنا سکے کہ ہاں ہمارئے حقوق کی آواز اُٹھانے والوں نے یہ اپنی مدد آپکے حوالے سے ہمارئے علا قے میں کیا ہے آج وقت تقاضا کر رہا ہے کہ ہم فورابلوچستان کو مکمل خودمختاری دیں اُس کو وفاق کی جانب سے ملنے والا ترقیاتی بجٹ 10گنا بڑھا دیا جائے اور اُ س کے ہر ضلعے میں سکولز ہسپتالز سڑکو ں کے بنانے اور صاف پانی کی دستیابی کے پر اجیکٹ وہاں کے مقامی قبائل سردارز اور مقامی سیاسی قیادت کے مشوروں سے مگر تمام تربجٹ کا استعمال شفاف طریقے سے ہونے کےلئے وفاق کو ایک بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی بنا نی چاہیے جو اِن تمام پراجیکٹ اور مزید کاموں کےلئے ذمہ دار ہو اور اُس میں اُن ریٹائرڈ لوگوں کو شامل کیا جائے جن کا ماضی ایماندرانہ حب الوطنی سے بھر پُور ہو اور وہ اپنا فرض نبھانا جانتے ہوں آج وہ وقت آگیا ہے جب بلوچستان کو ہم کو ملکی ترقی میں شانہ بشانہ چلانے کےلئے ہم کو منافقانہ حصا ر سے نکل کر وہاں کے عوام کی عملی ترقی کےلئے ٹھوس اِقدامات کرنے ہونگے صدرِپاکستان نے جو بلوچی قوم سے اُن سے 62سالہ ملکی تاریخ میں معافی مانگی ہے اِس کی جھلک میں بلوچی عوام کی ترقی نظر آئے اور تمام بلوچ راہنما جو سیاسی بنیادوں پر قید ہیں اُن کی فوری رہائی بھی ہونا ضروری ہے بلوچ راہنما آج تک جو مارئے گئے اُن کی تحقیقات اور مقد مات کا فیصلہ آزاد عد لیہ کے ذریعے سپریم کورٹ کے ججزذریعے ہونا بھی انصاف کے تقاضو ں ذریعے ہونا بھی ضروری ہے تا کہ اصل مجرم واقعی سزا پا سکیں آج بلوچستان کے30 مقام سے گیس نکل رہی ہے مگر کتنی بد قسمتی کہ وہاں کے 26ایسے علاقے ان میں سے ہیں جو اپنے علاقے سے اس نعمت سے فائیدہ نہیں اُٹھا رہے ہیں اوریہ بھی قانون بنایا جائے کہ جس علاقے میں سے گیس نکالی جا رہی ہو گی وہاں کے عوام کو یہ سہولت مفت فراہم کی جائے گی اور جس علاقے میں سوئی گیس اور دُوسری معدنیات کا حکومتی کام ہو رہا ہو گا وہا ں مقامی لیبرز اوردُوسرے ٹیکنیکل اٖٖفراد کو بھر تی کیا جائے گا نوجوان نسل کو اِن شعبہ جات میں ٹریننگ دی جا سکتی ہے اور پورئے بلوچستان میں ٹیکنیکل ادارئے بنا کر وہاں کی نوجوان نسل کو فنی و ٹیکنیکل کام سکھا کر حکومت اُن کو چھوٹے قرضے دے کر اپنا کا م خود کر نے کا کام بھی دے سکتی ہے اور اساتھ ساتھ ہنر مند افراد کو بیرونِ ممالک بھیجنے کا بھی کوئی سرکاری سطح پر کو ئی مفت پروگرام دے تاکہ وہاں غربت بھی دُور ہو سکے ۔ مجھے میڈیا سے بھی گلہ ہے کہ آج 70سے زائد چینل ا س مملکت میں ہیں کیا کبھی کسی ایک چینل نے بھی بلوچستان میں بنیادی ضروریاتِ زندگی کی محرومیوں کو د کھایا ہے کہ کس طرح کی زندگی ایک اٹیمی طاقت کے ایک صوبے کے عوام کے نصیب میں اُسکے اپنوں نے لکھ دی ہے آج اِس صوبے کو آپ کو ترقی دینی ہو گی تاکہ وہاں کے لوگوں کو یہ محسو س ہونے لگے کہ وہ بھی اس ملک کے ترقیاتی بجٹ میں برابر کے حصہ دار ہیں آج نوجوان نسل کو سرحد سندہ اور پنجاب سے کالجز یونیورسٹیز سطح پر ناراض بلوچی نوجوان نسل کو منانے کا فریضہ سر اِنجام دینے کےلئے وہاں کے اداروں میں جانا چاہیے تو بہت بہتری آسکتی ہے ہم سب کو اور بلوچ راہنماءوں کو ایک بار پھر یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ہم سب ایک ہیں – تعلیم کو عام کرنے کےلئے کالجز اور ہر ڈویزن میں یونیورسٹی کا قیام بھی ضروری ہے اور اِس کے علاوہ ٹیکنیکل تعلیم کا بھی بلوچستان میں ہر ضلع میں ادارہ ہونا ضروری ہے ۔ خواتین کےلئے ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز کا قیام بھی ضروری ہے ۔ غربت مکاءو پروگرام کو ختم کرنے کےلئے وہاں انڈسٹری کو فروغ دینے کی بھی ضرورت ہے ۔ بجلی ،گیس ،پانی ہر ضلع میں ہر ایک کی دسترس میں ہو ۔ سڑکوں کا نیٹ ورک بھی وہاں بہتری مانگتاہے ۔ پاکستان کو خوشحال دیکھنا ہے تو بلوچستان کو سب سے پہلے اُس کا حق دیں ۔ بلوچستان میں غیر مُلکی نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جائے جو گروپس دُشمن مُلک کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں اِن سے بات چیت کرنا ہی سب سے بہترین حل ہے اُن کے پاکستانی حکومتوں سے گلے شکوے رہے ہیں تو وہ دُور کرنے ضروری ہیں ۔ آ ج کل کے خوشحال پاکستان کی بنیاد ہم کو اُس پاک بلوچی دھرتی کی سرزمین سے رکھنی ہو گی جسکے لوگوں کی اس پاکستانی پرچم وترانہ کےلئے آزادی پاکستان میں لازوال قربانیاں ہیں اور ہمارئے قائد اعظم ;231;نے اپنی اس پاک مٹی سے اپنی محبت کے اِظہار کےلئے اپنی زندگی کے آخری ایام زیارت(بلوچستان) میں گزارئے آج محبتوں کا وہ قرض ہم کو لٹانا ہے بلوچستانی بھائیوں کوساتھ لے کر چلنے کے عمل سے ،نہ کہ وعدوں سے بلکہ فوری وحقیقی طور پر ۔ ۔ ۔