- الإعلانات -

آنے والوں کے لئے پیڑ لگادیتے ہیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے مستقبل اور نئی نسل کیلئے جنگلات کا رقبہ بڑھانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اس مقصد کیلئے ہماری حکومت نے 10 بلین ٹری منصوبہ شروع کیا ہے ۔ اس منصوبہ کے تحت 2 سال میں 30 کروڑ پودے لگائے گئے ہیں جبکہ آئندہ سال جون تک یہ تعداد ایک ارب تک پہنچ جائے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کہوٹہ میں مون سون کی شجرکاری مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم اور وزیر مملکت زرتاج گل بھی اس موقع پر موجود تھیں ۔ وزیراعظم پاکستان کے شجر کاری کے حوالے سے کئے گئے اقدامات انتہائی خوش کن ہیں اگر ان میں شفافیت کا عنصر شامل ہو دیکھنے میں آیا ہے کہ اس طرح کے منصوبوں کے لیے رکھی گئی رقم کا عشر عشیر بھی نہیں لگتا ہے اور اس کی کوئی باز پرس بھی نہیں ہوتی ہے پہلی بات یہ ہے کہ اس کام کا کوئی طریقہ کار طے نہیں کیا جاتا ہے بغیر کسی پیش بندی کے کام شروع کر دیا جاتا ہے اور نتیجہ سوائے ضیاع کے کچھ نہیں نکلتا ہے خان صاحب نے فرمایا ہے کہ دو گھنٹے اسکولوں میں اس کام کے لیے رکھے جائیں گے خان صاحب کو اس بات کا بخوبی علم ہونا چاہیے کہ پنجاب میں ان کے چہیتے وزیر تعلیم مراد راس نے جو پرائیویٹ سیکٹر سے متھا لگا رکھا ہے اور ذاتیات پر اتر آئے ہیں وہ سکول کھلنے دیں گے تو طبیعت زیراعظم صاحب کی یہ مراد پوری ہو سکے گی وزیر اعظم صاحب کا شجر کاری کا یہ منصوبہ قابل صد تحسین ہے اگر اس کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تو بیرون ممالک کی طرح شجر کاری کے حوالے سے قانون سازی کرنا ہوگی اور زیادہ سے زیادہ جنگلات پیدا کرنے ہوں گے کیونکہ جنگلات کی افادیت و اہمیت مسلمہ ہے نئے جنگلات لگانے کے لیے جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کا استعمال ازحد ضروری ہے ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ اور انسان کو صاف وشفاف ہوا فراہم کرنے والے من جملہ ذراءع میں ایک اہم ذریعہ درخت اور درختوں سے بھرے گھنے جنگلات ہیں ، قرآن مجید میں درختوں اور نباتات کے نظام کو اللہ نے اپنی رحمت قرار دیا ہے، چنانچہ ایک جگہ آسمان سے برسائے جانے والا پانی اور اس کے فوائد پر روشنی ڈالتےہوئےفرمایا وہی(خدا) ہے جو تمہارے فائدہ کے لئے آسمان سے پانیبرساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اس سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو، اس سے وہ تمہارے لئے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے، بیشک ان لوگوں کیلئے تو اس میں نشانی ہے جو غوروفکر کرتے ہیں ۔ آیاتِ بالا میں درختوں کے فوائد ذکر کئے گئے کہ ان سے جانوروں کو غذا حاصل ہوتی ہے اور ان کے پھلوں اور غلہ سے انسان بھی اپنی غذائی ضروریات کی تکمیل کرتے ہیں ، ایک جگہ شہد کی مکھیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ مختلف درختوں اور پودوں سے رس چوس کر شہد جیسی نعمت کے وجود میں آنے کا ذریعہ بنتی ہیں ، ارشاد ربانی ہے: آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ پہاڑوں میں درختوں اور لوگوں کی بنائی ہوئی اونچی اونچی ٹہنیوں میں اپنے چھتے بنا اور ہر طرح کے میوے کھا ۔ نیز اللہ تعالیٰ درختوں اور دیگر اشیاء کے سایہ کا تذکرہ بطور احسان کے کررہا ہے ۔ ارشاد ہے: اور اللہ ہی نے تمہارے لئے اپنی پیداکردہ چیزوں میں سے سایے بنائے ہیں ،) درختوں اور پودوں سے جہاں پھل فراہم ہوتے ہیں غلہ اور اناج حاصل ہوتا ہے، شدید دھوپ میں راہ گیروں کےلئے سایہ کا انتظام ہوتا ہے، پکوان کےلئے ایندھن اور فرنیچر کےلئے لکڑی فراہم ہوتی ہے وہیں درخت بھرے جنگلات اور آبادیوں میں موجود سرسبزوشاداب درخت ماحولیاتی کثافت کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور صاف وشفاف ہوا فراہم کرتے ہیں ، اسی لئے اسلام میں ایک طرف درختوں کی کٹائی سے منع کیا گیا اور دوسری جانب شجر کاری کی ترغیب دی گئی، چنانچہ ایسے منافق جو دنیا میں فساد مچاتے ہیں اور کھیتی اور نسل انسانی کو تباہ کرتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا: جب وہ لوٹ کر جاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کی اور نسل اور کھیتی کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے، اور اللہ تعالیٰ فساد کو ناپسند کرتا ہے، گویا کھیتی اور پودوں کو برباد کرنا منافقوں کا شیوہ ہے، مومن اس کا ارتکاب نہیں کرسکتا، اللہ تعالیٰ نے درختوں کو زمین کی زینت قرار دیا ہے، پھر کیوں کر ان کے ناحق کاٹنے کی اجازت ہوسکتی ہے، ارشاد ربانی ہے: روئے ز مین پر جو کچھ ہے (حیوانات، نباتات، جمادات وغیرہ) اسے ہم نے زمین کے لئے رونق بنادیاہے، درختوں کی کٹائی کی ممانعت کیوں نہ ہو، جب کہ درختوں اور پودوں کا نظام آسمان سے پانی برسنے کا سبب بنتا ہے، درختوں سے کائنات کا قدرتی حسن دوبالا ہوتا ہے، درخت جانداروں کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں ، درختوں سے ہواؤں کی رفتار میں اعتدال پیدا ہوتا ہے، نیز ان سے درج;63; حرارت میں تخفیف ہوتی ہے، وہ فضائی آلودگی کا سبب بننے والے ہر طرح کے جراثیم کو اپنے اندر جذب کرلیتے ہیں ، عرب میں بالعموم ببول یا بیری کے درخت ہوا کرتے تھے، نبی کریمﷺ نے بیری کے درخت کے بارے میں فرمایا: من قطع سدرۃ صوب اللہ راَسہ فی النار;46;(مجمع الزوائد:۸;63;۱۱۵)جو بیری کا درخت کاٹے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے مُنہ جہنم میں ڈالیں گے، علماء نے حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جنگل کے ایسے درخت جن سے لوگوں کو سایہ حاصل ہوتا ہے یا جن سے چوپائے غذا حاصل کرتے ہیں انہیں جو کوئی ناحق کاٹے گا وہ جہنم رسید ہوگا(تفسیر القرطبی:7;63;87) ایک ضعیف حدیث میں ایسے شخص پر لعنت بھیجی گئی ہے، درختوں کی حفاظت پر اس قدر زور دیا گیا کہ جنگوں میں تک کھیتیوں اور درختوں کے جلانے کو ممنوع قرار دیا گیا، چنانچہ ترمذی کی ا یک روایت میں جسے حضرت صدیق اکبر;230; نے روایت کیا ہے: آپﷺ نے مجاہدین کو خاص طور پر درختوں اور کھیتوں کے برباد کرنے سے منع فرمایا، سلف صالحین کے وصایا میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے تھے لا تقطعوا شجرا کسی درخت کو مت کاٹو، موجودہ دور میں فضائی آلودگی میں اضافہ کی ایک اہم وجہ درختوں کی کٹائی اور جنگلات کا خاتمہ ہے، بڑھتی آبادی کے پیش نظر جنگلات کا صفایا ہوتا جارہا ہے، دیہی آبادی شہروں کا رخ کررہی ہے، اورجنگلی علاقے انسانی آبادی کے سبب ختم ہوتے جارہے ہیں ۔ اسلام میں جہاں درختوں کی کٹائی سے منع کیا گیا و ہیں شجر کاری کی بھی تلقین کی گئی اور شجر کاری کرنے والوں سے جانور وغیرہ کھاجانے کی صورت میں اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا، چنانچہ ارشادنبوی ہے کہ مسلمان کوئی درخت یا کھیتی لگائے اور اس میں سے انسان درندہ، پرندہ یا چوپایا کھائے تو وہ اس کےلئے صدقہ ہوجاتا ہے ۔ (مسلم شریف:۵;63;۲۸) اس حدیث سے شجر کاری کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، نیز یہ پتہ چلتا ہے کہ شجر کاری میں کافی خیر ہے، اور دین ودنیا کےلئے بے شمار فوائد ہیں ، ایک موقع پر آپ نے شجرکاری کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: من نصب شجرۃ فصبر علی حفظہا والقیام علیہا حتی تثمر ف;202;ن لہ فی کل شیء یصاب من ثمرہا صدقۃ عند اللہ;46;(مسند احمد:4;63;61) جو کوئی درخت لگائے پھر اس کی حفاظت اور نگرانی کرتا رہے یہاں تک کہ و ہ درخت پھل دینے لگے اب اس درخت کا جو کچھ نقصان ہوگا وہ اس کے لئے اللہ کے یہاں صدقہ کا سبب ہوگا، ایک اور موقع پر آپ نے کاشتکاری اوربنجر وبے استعمال زمین کو کاشت کےلئے استعمال کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو اسے اس زمین میں کاشتکاری کرنی چاہیے، اگر وہ خود کاشت نہ کرسکتا ہو تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے، تاکہ وہ کاشت کرے ۔ (مسلم شریف، حدیث نمبر: 1536) رسول اللہﷺ کی انہی ترغیبات کا نتیجہ تھا کہ حضرات صحابہ شجرکاری کا خاص اہتمام فرماتے تھے شجرکاری اور کاشت کے انہی فوائد کے پیش نظر اسلام نے افتادہ سرکاری زمین کے بارے میں یہ اصول مقرر کیا ہے کہ جو شخص بھی اس میں کاشت کرنا چاہے حکومت کی اجازت سے کرسکتا ہے ۔