- الإعلانات -

ہندو توا کے دہشت گرد مقبوضہ وادی میں داخل

بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وادی میں مزاحمت کو روکنے کے لیے مکمل سیکیورٹی لاک ڈاوَن اور مواصلاتی نظام معطل ہے ۔ اب تک مقبوضہ وادی میں کم از کم 4 ہزار افراد، جس میں زیادہ تک نوجوان ہیں انہیں حراست میں لیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں ہزاروں کی تعداد میں اضافی بھارتی فوجی مقبوضہ وادی میں مرکزی چیک پوائنٹس پر بھیجے گئے جبکہ یہ علاقہ پہلے ہی دنیا کا سب سے بڑا عسکری زون ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وادی کے 80 لاکھ لوگوں کے لیے لین لائن رابطہ، موبائل فون، بروڈبینڈ انٹرنیٹ اور کیبل ٹی وی سروسز کو معطل کردیا ۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کے بھارتی منصوبے کے تحت ہندوتوا دہشت گردوں کی ایک تربیت یافتہ فورس کے ذریعے بڑے پیمانے پر مسلم کش منصوبے پر کام جاری ہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران 30ہزار سے زائد ہندوتوا تربیت یافتہ دہشت گرد کشمیر پہنچے ہیں جبکہ مزید دہشت گرد سڑک اور ہوا ئی راستے سے کشمیرآرہے ہیں ۔ یہ لوگ آر ایس ایس، وی ایچ پی، شیو سینا، ہندو واہنی اور پنن کشمیر جیسے مختلف ہندو دہشتگرد گروہوں سے وابستہ ہیں اورانہیں تلواروں اور آتشیں اسلحہ کے استعمال کے ساتھ ساتھ آتش زنی اور لنچنگ کی تربیت دی گئی ہے جس کا مظاہرہ رواں سال فروری میں نئی دہلی میں مسلم کش فسادات کے دوران کیاگیا تھا ۔ یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب بھارتی فوج کی طرف سے گزشتہ سال 05 اگست کے بعدسے کشمیری مسلمانوں کے خلاف کئے گئے کریک ڈاوَن کو ایک سال مکمل ہو رہا ہے اور کورونا وائرس کی آڑ میں اس میں مزید سختی آئی ہے ۔ بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں نے سیکڑوں قصبوں اور دیہاتوں کو سیل کردیا ہے اور لاکھوں کشمیریوں کو گھروں کے اندر محصورکردیا ہے اوروسیع پیمانے پران ظالمانہ اقدامات کو وبا سے نمٹنے کے لئے احتیاطی تدابیر قرار دیا جارہا ہے ۔ کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ بھارت کی ہندوتوا سے متاثر ہ حکومت مقامی مسلم آبادی کے خلاف فسادات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ بڑے پیمانے پرہندو آبادی کو کشمیر میں داخلے کے لیے راہ ہموار کی جائے ۔ اس سے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا دیرینہ بھارتی منصوبہ پورا ہوجائے گا ۔ ایک مقامی پولیس افسر کے مطابق ہندوتوا دہشت گردوں کے بڑے پیمانے پر داخلے کی براہ راست نگرانی بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کررہے ہیں ۔ خوفناک بات یہ ہے کہ ان ہندوتوا دہشتگردوں کو بھارتی فوج کی چھاوَنیوں اور کیمپوں کے اندر بسایا جارہا ہے جوپوری وادی کشمیر میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ ایک صحافی نے بھی ہندوتوا دہشت گردوں کے بڑے پیمانے پر داخلے کی خبروں کی تصدیق کی ہے جس سے مقامی مسلمانوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ دنیا میں نسل کشی کی روک تھام کے لیے وقف عالمی ادارے جینوساءڈ واچ نے اقوام متحدہ اور اس کے اراکین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کو خبردار کریں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی نہ کرے ۔ 1999 میں ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن کی جانب سے بنائی گئی یہ تنظیم نسل کشی کی پیش گوئی، روک تھام اور اس پر سزا دینے کے لیے موجود ہے ۔ اس تنظیم کی جانب سے حالیہ نسل کشی کا انتباہ مقبوضہ کشمیر کے لیے جاری کیا گیا جس میں نسل کشی کے عمل کی نشاندہی کی گئی جو ڈاکٹر اسٹینٹن کی جانب سے نسل کشی کے 10 مراحل پر مبنی ہے ۔ نریندر مودی اور بی جے پی کہتے ہیں کہ ان کا مقصد مقبوضہ وادی میں ;39;خوشحالی لانا;39; اور ;39;دہشت گردی کو ختم;39; کرنا ہے، وہ کسی بھی قتل عام سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی بھی بھارتی فوجی یا پولیس نے کبھی تشدد، ریپ یا قتل کی کوشش نہیں کی ۔ دوسری جانب جینوساءڈ واچ نے بھارت کی اس ریاست آسام کے لیے بھی انتباہ جاری کیا، جہاں لاکھوں بنگالی مسلمان شہریت کھونے کا سامنا کر رہے ہیں ۔ آسام ریاست میں 70 لاکھ سے زائد لوگ، جن میں زیادہ تر بنگالی نسل کے مسلمان ہیں ، انہیں بھارتی شہریت کھونے اور ;39;غیر ملکیوں کے لیے خصوصی حراستی مراکز;39; میں قید کیے جانے کا خطرہ ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تقریباً ایک سال سے کرفیو نافذ ہے ۔ وہاں فوج کی اضافی نفری تعینات ہے ۔ رابطوں کے تمام ذراءع پر پابندی ہے ۔ پہلے ہی سے فوجی کثرت والے مقبوضہ علاقے میں مزید فوجوں کی تعیناتی، آر ایس ایس کے غنڈوں کو مقبوضہ وادی میں بھجوانے، اطلاعات و وسائلِ ابلاغ کی مکمل بندش اور گجرات میں مودی کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام کی نظیر سامنے رکھتے ہوئے کیا دنیا خاموشی سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی اور سربرینیکا جیسے ایک اور قتل عام کا نظارہ کرے گی;238;‘عمرا ن خان نے عالمی برادری کو خبردار کیا کہ اگر مقبوضہ وادی میں ایسا کرنے کی اجازت دی گئی تو اس کے اثرات پوری مسلم دنیا پر پڑیں گے جس کا شدید رد عمل سامنے آئے گا جبکہ انتہا پسندانہ اور تشدد کی سوچ پروان چڑھے گی ۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے سامنے کشمیر کا مسئلہ اٹھا رہا ہے اور اب یہ اقوامِ متحدہ پر ہے کہ وہ کشمیر سے متعلق قراردادوں پر کیسے عمل کرواتا ہے ۔ بھارت کشمیر میں ہونے والے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ;39;ایکشن;39; کر سکتا ہے ۔