- الإعلانات -

سی پیک منصوبوں پر تیزی سے کام جاری

پاکستان اور چین کے درمیان تقریباً 62 بلین ڈالر کے ان منصوبوں کو سی پیک کا نام دیا گیا ہے جن کا آغاز 2013 میں ہوا ۔ ان معاہدات کے تحت چین پاکستان کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا ۔ ان معاہدوں میں راہداری اور توانائی کے شعبے سے متعلق منصوبوں کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ کچھ بے خبر اور گمراہ عناصر یہ تاثر پھیلا رہے ہیں کہ چین بھارت کشیدگی کے باعث چینی توجہ کم ہو گئی ہے لہذا سی پیک پر کام کی رفتار بہت کم ہو گئی ہے ۔ اسی غلط فہمی کو دور کرنے کےلئے سی پیک سے متعلق خصوصی کمیٹی کا اجلاس میں چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کا کسی بھی جگہ کام رکا نہیں ہے اور ہ میں احکامات تھے کہ سی پیک ہمارے لیے بہت اہم ہے اس کا کوئی پراجیکٹ رکنا نہیں چاہیے ۔ قرض سے زیادہ سرمایہ کاری پر زور ہے اور 4 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری پچھلے 10 دنوں میں آئی ۔ گزشتہ چند ماہ کورونا کی وجہ سے کام میں کچھ سستی آئی ۔ اب تمام منصوبوں پر کورونا کی حفاظتی تدابیر اختیار کر کے کام شروع ہو چکا ہے اور امید ہے تمام منصوبے مقررہ مدت میں پورے ہو جائیں گے ۔ معاشی اور صنعتی ترقی کےلئے توانائی کے شعبے میں ترقی بہت ضروری ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس توانائی کی شدید کمی ہے ۔ اگر بجلی ہے بھی تو بہت مہنگی کہ انڈسٹریل سیکٹر کی برداشت سے باہر ۔ اسی لئے سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبوں کو اولیت دی گئی ۔ توانائی کے منصوبوں کےلئے حکومت آزاد کشمیر کے ساتھ 100 سےزائد پراجیکٹس سائن کیے ۔ منصوبہ یہ تھا کہ قرضے سے بہتر ہے سرمایہ کار لے کر آئیں ۔ صنعتی ترقی کےلئے سستی بجلی کی ضرورت ہے جس کےلئے ہائیڈل پاورپراجیکٹ لگایا جائے ۔ کوہالہ پاور پراجیکٹ پچھلے ہفتے سائن ہوا یہ گواردر کا 400 میگاواٹ کا پراجیکٹ ہے جو لیز کے مسئلے کی وجہ سے پھنسا ہوا تھا جب کہ بلوچستان کے علاقوں میں مسائل کے حل کیلئے پراجیکٹس لگا رہے ہیں ۔ وزیراعظم نے 17 بلین روپے سدرن گرڈ کے لیے منظور کیے ہیں ۔ گواردر پورٹ پر بجلی ایران سے آرہی ہے جس کے بہت سے مسائل ہیں ۔ اولین ترجیح اپنی سستی بجلی پیدا کرنا ہے ۔ ہم درآمدی کوئلے کے بجائے اپنے ذاتی کوئلے سے فیول کی پیداوار پر جائیں گے ۔ ہم کوئلے سے کیمیکلز نکالنے کے حوالے سے مشاورت کر رہے ہیں ۔ کوئلے کی کان لگانے کیلئے 105 کلومیٹر کی ریلوے لائن درکار ہے ۔ جس کےلئے پلاننگ کمیشن سے بات ہو رہی ہے ۔ تمام پراجیکٹس وزارتوں کے اشتراک سے ہو رہے ہیں ۔ ہائیڈرل بجلی کے حوالے سے گلگت بلتستان میں بجلی کا بڑا مسئلہ ہے ۔ اس پر قابو پانے کےلئے چینی کمپنیوں سے کمراٹ گاؤں میں سڑکیں اور بجلی کے حوالے مشاورت چل رہی ہے ۔ انرجی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں گودار ائیرپورٹ کی تعمیر کا کام شروع ہوگیا ہے ۔ یہ پاکستان کا ایک بڑا منصوبہ ہوگا ۔ اس منصوبے پر 23 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی یہ منصوبہ چینی گرانٹ سے مکمل ہوگا ۔ گودار میں 2400 ایکڑپر اکنامک زون بن رہا ہے ۔ گوادر ماسٹر پلان بھی منظور ہوچکا ہے جس میں 150 بیڈ کا اسپتال بھی بن رہا ہے ۔ ایم ایل ون 1870 کلومیٹرکامنصوبہ ہے ۔ ہم سڑکوں سے ریلویزپرشفٹ ہوں گے تو نظام بہتر ہوگا ۔ ایم ایل ون تمام اطراف سے سیل ہوگا اور حادثات کم ہوں گے ۔ ریلوے نے ایم ایل ون کو چلانا ہے ۔ والٹن اکیڈمی کو ساتھ شامل کیا گیا ہے ۔ ایکنک نے 7;46;2 ارب ڈالرز کی لاگت کے ایم ایل ون منصوبے کی منظوری دے دی ہے ۔ ریلوے کا ٹرانسپورٹ شیئر 4 فیصد سے بڑھ کر 20 فیصد ہو جائے گا ۔ ریلوے انجینئرز کو روس، جرمنی اور برطانیہ سے مل کر تربیت دی جائے گی ۔ اورینج ٹرین قطعی سیاسی منصوبہ نہیں اور ٹرین جلدعوام کے لیے کھول دی جائے گی ۔ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ ملک میں سی پیک روٹ پر جگہ جگہ ڈرائی پورٹس قائم کی جا رہی ہیں جس سے روزگار کے بہتر مواقع پیداہوں گے ۔ حویلیاں کے مقام پر بڑی ڈرائی پورٹ قائم کی جائے گی جہاں چین سے آنیوالا سامان پہنچے گا ۔ زراعت کو بھی سی پیک جوائنٹ ورکنگ گروپ میں شامل کیا گیا ہے ۔ رشکئی خصوصی اقتصادی زون کا افتتاح جلد کیا جا رہا ہے ۔ فیصل آباد اور دھابیجی بھی خصوصی اقتصادی زون بنیں گے ۔ مانسہرہ تھاکوٹ موٹر وے کو بھی جلد کھول دیا جائے گا ۔ ایسٹ وے ایکسپریس وے پر کام ہو رہا ہے اور ڈی آئی خان سے ژوب تک سڑک کا کام ہورہا ہے جس سے اسلام آباد براہ راست ڑوب سے منسلک ہوگا، اسلام آباد سے ڈی آئی خان تک سڑک بن رہی ہے ۔ یہ تاریخی موقع ہے جب ہم ملک میں صنعتی انقلاب کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ ہیوی مکینیکل کمپلیکس نے پاکستان کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ اس لیے سی پیک کے تناظر میں ایچ ایم سی پر بہت زیادہ انحصارکیا جا رہا ہے کہ بھاری زرعی مشینری یہیں پر تیار ہو اور برآمد نہ کرنی پڑے ۔ مقامی طور پر مشینری بننے سے بھاری زرمبادلہ بچے گا ۔ ہماری وزیراعظم عمران خان بھی یہی چاہتے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) کے زیر تعمیر منصوبے تیزی سے مکمل ہوں تاکہ پاکستان ترقی کی منازل طے کر سکے ۔ چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے اور سی پیک دونوں ممالک کے درمیان کثیرالجہتی شراکت داری کا مظہر ہے ۔ سی پیک کے علاوہ سماجی شعبوں خصوصاً غربت کے خاتمے اور زراعت کے فروغ کے سلسلے میں چین کے تجربات سے مکمل طور پر استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے تمام متعلقہ وزارتوں کو منصوبوں کی تکمیل کی مدت متعین کرنے اور بین الوزارتی تعاون کو مزید موثر بنانے کا بھی کہا تاکہ متعینہ مدت میں مطلوبہ نتاءج حاصل کیے جاسکیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ سی پیک فیز ٹو کے منصوبوں کے اگلے جائزاتی اجلاس میں منصوبوں کی تکمیلی مدت، عملدرآمد، درپیش رکاوٹوں کو دور کرنے اور مستقبل کے لاءحہ عمل پر بریف کیا جائے ۔