- الإعلانات -

سبسڈی کے نظام کے حوالے سے وزیراعظم کی فکرانگیزگفتگو

وزیراعظم عمران خان نے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سبسڈی کے سلسلے میں جو خصوصی سیل تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے وہ وقت کی انتہائی اہم ضرور ت تھی کیونکہ ماضی میں اور حتیٰ کہ حال میں بھی یہ چیزیں دیکھنے میں آئی ہیں کہ حکومت سبسڈی توفراہم کردیتی ہے لیکن یوں لگتا ہے کہ وہ اس نظام پرقربان ہوجاتی ہے اسی وجہ سے وزیراعظم نے کہاکہ سبسڈی کے پورے نظام کاتفصیلی جائزہ لیاجائے ۔ اصل بات یہ ہے کہ جو سبسڈی دی جارہی ہے آیا وہ اس مد میں استعمال بھی ہورہی ہے یانہیں پھراہم بات یہ ہے کہ سبسڈ ی کی رقم کی مکمل طورپر شفاف طریقے سے تقسیم بنیادی مسئلہ ہے کیونکہ ہمار ے ملک میں کرپشن رگ وپے میں رچ بس چکی ہے تواس سے نکلنابھی محال ہے جہاں جس کاموقع چلتاہے وہ اپنی بساط اوراختیارات کے مطابق کرپشن کرتاہے اس کرپشن کو بھی روکنا انتہائی ضروری ہے ۔ اسی لئے وزیراعظم نے اس خاص نکتے پرمختلف امورکے حوالے سے قائم تھنک ٹینک کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے توجہ دی ۔ اجلاس میں بجلی، گیس، فرٹیلائزرز، یوٹیلٹی سٹورز، ایکسپورٹس، ہاءوسنگ، احساس ، این ایچ اے اور دیگر سرکاری اداروں کے حوالے سے بجٹ اور بجٹ سے باہر دی جانے والی سبسڈیز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے سبسڈی فراہم کرنے کا مقصد غریب اور مستحق افراد کی معاونت اور ریلیف کی فراہمی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سبسڈی کے پورے نظام کا بغور جائزہ لیا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سبسڈی کی رقم مکمل طور پرشفاف طریقے سے نہ صرف ضرورت مندوں کو میسر آئے بلکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سہولت سے مستفید ہوں ۔ وزیراعظم نے مشیر خزانہ کو ہدایت کی کہ مختلف مد میں حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سبسڈیز کا تفصیلی جائزہ لینے کےلئے ایک خصوصی سیل قائم کیا جائے تاکہ وہ ہر شعبے میں فراہم کی جانے والی سبسڈی کا جائزہ لیکر اس میں مزید بہتری اور اسکی افادیت بڑھانے کےلئے جامع سفارشات پیش کر سکے ۔ وزیر اعظم نے کرونا کی حالیہ صورتحال میں احساس پروگرام کی جانب سے ضرورتمندوں کو کیش ٹرانسفر کے پروگرام کی افادیت، پہنچ اور شفافیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرے کے غریب اور ضرورت مند افراد کو بجلی گیس، یوٹیلٹی سٹورز و دیگر سبسڈیز کی فراہمی کے حوالے سے احساس کیش پروگرام کے ڈیٹا بیس سے بھی استفادہ کیا جائے ۔ ادھروزیراعظم عمران خان نے عید کے فوری بعد ٹائیگر فورس ڈے منانے کا اور رضا کاروں کی تعداد بڑھانے کےلئے رجسٹریشن دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کی ملک امین اسلم اور عثمان ڈارسے ملاقات میں اہم فیصلے کئے گئے ۔ ٹائیگر فورس رضاکار ملک بھر میں شجر کاری کی مہم میں حصہ لیں گے اور نوجوان مون سون پلانٹیشن کے دوران ایک کروڑ درخت لگائیں گے ۔ اس حوالے سے وزیراعظم بدھ کو نوجوانوں کیلئے خصوصی ویڈیو پیغام بھی جاری کریں گے، جس میں نوجوانوں سے شجرکاری مہم میں حصہ لینے کی اپیل کریں گے ۔ رجسٹریشن آئندہ چند روز میں ایپ کے ذریعے کھول دی جائے گی ۔ معاون خصوصی عثمان ڈار نے کہا کہ نوجوان تیاری کریں ، وزیراعظم نئی ذمے داریوں کا اعلان کرنے والے ہیں ۔ ٹائیگر فورس نے کرونا وبا میں ذمہ داریاں زبردست انداز میں نبھائیں ۔ نوجوان سیاسی وابستگی اور نظریات سے بالاتر ہوکر صرف ملک کا سوچیں ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی طبیعت ناسازی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان سے وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے بھی ملاقات کی ملکی و سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نالج اکانومی کے فروغ ، سیرت النبیﷺ پر تحقیقی سنٹر کے قیام اور اعلی تعلیم کے حوالے سے مختلف مجوزہ منصوبوں کی پیش رفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں ہری پور ہزارہ میں پاک آسٹرئین فاخوشولے کے قیام ، سیرت النبی سنٹر ، انڈسٹری اور یونیورسٹیوں میں بہتر کو;200;رڈینیشن کےلئے ریسرچ سنٹر کے قیام، تعلیم کے فروغ کےلئے انٹرنیٹ کی آسان رسائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلقہ ایشوز کے حوالے سے معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ سیرت النبی سنٹر کو جلد از جلد مکمل کر کے فعال بنایا جائے تاکہ سیرت النبی کے حوالے سے تحقیقی سرگرمیوں کا آغاز کیا جاسکے ۔ اعلیٰ تعلیم خصوصا نالج اکانومی، آرٹفیشل انٹیلی جنس اور انڈسٹری اور یونیورسٹیوں میں بہتر کوارڈینیشن کے حوالے سے ریسرچ سنٹر کے قیام سے متعلق منصوبوں پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ جدید تعلیم کا فروغ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صلاحیت کے فروغ کے لئے موافق ماحول فراہم کیا جائے ۔

خواجہ برادران کی ضمانت سے متعلق کیس کاتفصیلی فیصلہ جاری

سپریم کورٹ کی جانب سے خواجہ برادران کے کیس کے سلسلے میں جو تفصیلی فیصلہ جاری کیاگیا ہے اس میں جو عدالت عظمیٰ نے جن تحفظات کاذکرکیاہے ان پرچاہیے کہ حکومت توجہ دے اورجو جو نکات اٹھائے گئے ہیں ان کاحل انتہائی ضروری ہے ۔ تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ نیب کا رویہ ملکی مفاد کی بجائے ملک کو نقصان پہنچائے گا ۔ نیب سیاسی تقسیم کے ایک طرف کے افراد کے خلاف مالی الزامات ہونے کے باوجود کارروائی میں ہچکچا رہا ہے جبکہ دوسری طرف کے افراد کو مہینوں ، سالوں کیلئے گرفتار کیا جا رہا ہے ۔ جسٹس مقبول باقر نے 87 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان طویل جدوجہد کے بعد ;200;زاد جمہوری ریاست کے لیے حاصل کیا گیا ۔ ;200;ئین ہر شخص کی عزت و وقار کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ لوگوں کو ان کے حقوق سے تسلسل کیساتھ محروم رکھا جاتا ہے ۔ ملک میں احتساب کیلئے بننے والے مختلف قوانین کا استعمال سیاسی مخالفین کو دبانے اور وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے ہوتا رہا ہے ۔ اصول، رواداری اور جمہوری اصولوں کے احترام کو نظر انداز کیا گیا ۔ کرپشن، اقربا پروری، نا اہلی، عدم برداشت ہمارے معاشرے سرایت کر چکا ہے ۔ ہمارا معاشرہ کرپشن، اقربا پروری، نا اہلی، عدم برداشت اور دیگر مسائل میں ڈوب گیا ہے ۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ملک کا تحفظ عدلیہ اور انتظامیہ کی جانب سے قوانین پر عمل کرکے ہی محفوظ بنایا جا سکتا ہے ۔ کسی شخص کی آزادی ختم کرنا اس کو سزا دینے کے مترادف ہے جبکہ سزا صرف فیصلہ کے بعد ہی دی جا سکتی ہے ۔ ماتحت عدلیہ میں زیر التوا دیوانی کیس کو نیب کے ریفرنس میں شامل کیا گیا ۔ ملک میں اختیارات کی تقسیم کے تصور کو توہین کیساتھ روندا گیا ۔ یہ مقدمہ بنیادی حقوق کی پامالی، ;200;زادی سے محرومی اور انسانی عظمت کی توہین کی کلاسک مثال ہے ۔ موجودہ مقدمہ نیب کی قانون کی خلاف ورزی کا مظہر ہے ۔ کرپشن کا خاتمہ ایک منفرد کام ہے ۔ کرپشن کے خاتمہ کے اقدامات قانون کے مینڈیٹ کے مطابق ہونے چاہئیں ۔ لگتا ہے خواجہ برادران نے ایسا جرم نہیں کیا جس کا نیب ٹرائل ہو ۔ نیب خواجہ برادران کا پیراگون کمپنی کیساتھ کسی قسم کا تعلق جوڑ نہ سکا ۔ نیب کا خواجہ برادران کو حراست میں رکھنا نیب قانون سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ نیب کی جانب سے درخواست گزاروں پر پانچ مختلف الزامات لگائے گئے ۔ تاہم چیئرمین نیب نے کس میٹریل کی بنیاد پر کارروائی کا فیصلہ کیا وہ سامنے نہیں ۔ کوئی ادارہ جتنا بھی طاقتور ہو ;200;ئین میں دئیے گئے حقوق کو ختم نہیں کر سکتا ۔ ;200;ئین کی منشا ہے کہ شہریوں کے ان کے حقوق سے محروم نہ رکھا جائے ۔