- الإعلانات -

نئے ڈیم کی تعمیر ۔ اچھے دنوں کا آغاز

سبھی جانتے ہےں کہ چین 5ہزار سے زیادہ ڈیم تعمیر کر چکا ہے اور اس کی حیرت انگیز ترقی کی بنیادی وجوہات میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ 5ہزار ڈیموں کی تعمیر کا بھی بڑا حصہ ہے ۔ اسی تناظر میں مبصرین کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم کے تعمیراتی کام کا آغاز ہو گیا ہے، یاد رہے کہ وزیر اعظم نے سپہ سالارکے ہمراہ اس تعمیراتی کام کا افتتاح کیا ۔ ماہرین کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کا منصوبہ جہاں ایک ماحول دوست منصوبہ ہے وہاں اس سے 81لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہو سکے گا، ڈیم میں ذخیرہ پانی میں سے 64لاکھ ایکڑ فٹ استعمال میں لایا جا ئے گا ۔ اس منصوبے سے پاکستان کے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 30سے بڑھ کر 48دن ہو جائے گی، اس ڈیم سے سالانہ 18ارب 10کروڑ یونٹس سستی ترین بجلی بھی میسر آئے گی ۔ ڈیم لاکھوں ایکڑ رقبے کو سیراب کرنے کے لیے پانی فراہم کرے گا، ڈیم سے بجلی پیدا کر کے تیل کی مد میں سالانہ 2;46;48ارب ڈالرز کی بچت ہونے کی امید ہے ۔ بجلی کی پیداوار سے موجودہ بجلی کے ٹیرف میں کمی آئے گی جبکہ بجلی پیداوار کے لئے تیل کی درآمد کا بل کم،زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا ۔ انشا اللہ منصوبہ 2028;245;29 میں مکمل ہوگا، دریائے سندھ پر تعمیر ہونے والا یہ ڈیم دنیا کا سب سے بڑا آر سی سی ہوگا، منصوبہ دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم سے تقریباً 315 کلومیٹر بالائی جانب جبکہ گلگت سے تقریباً 180کلو میٹر اور چلاس شہر سے 40کلو میٹر زیریں جانب تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ منصوبے سے اسٹیج ون میں نیشنل گرڈ میں 2160میگاواٹ بجلی شامل ہوگی، منصوبے کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی زندگی 35سال بڑھ جائے گی اور منصوبے سے 16500افراد کو روز گار کے مواقع میسر آئیں گے ۔ دیامیربھاشاڈیم کی تعمیر سے مقامی افرادکے معیار زندگی میں بہتری آئیگی اور سستی اور ماحول دوست ہائیڈل پاور حاصل ہوگی جبکہ اسٹیل، سیمنٹ سمیت مجموعی تعمیراتی شعبہ ترقی کرے گا ۔ اس موقع پر ’’چلاس ‘‘ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جس طرح چین نے ترقی کی ہے،دور اندیشی پر عمل کرنے والی قو میں اسی طرح ترقی کرتی ہیں ۔ ہم نے ماضی میں ڈیم تعمیر نہ کر کے بڑی غلطی کی ۔ چین میں 5 ہزار بڑے ڈیم اور مجموعی طور پر 80 ہزار ڈیم ہیں ۔ چین میں 30سالہ منصوبے بنائے گئے جبکہ ہمارے ملک میں کم مدتی منصوبے بنائے گئے ۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات و چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ٹویٹ میں دیامربھاشاڈیم پرتعمیرات کے آغاز کو تاریخی اقدام قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے سے سٹیل، سیمنٹ، تعمیراتی شعبوں کوفروغ حاصل ہوگا اور 16 ہزارنوکریاں پیداہوں گی ۔ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ آبی ذخائر کی تعمیر کے ذریعے پانی اور توانائی میں خود کفالت کی جانب ایک اہم پیش قدمی ہے ۔ یاد رہے کہ رواں سال مئی میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل(ر)عاصم سلیم باجوہ نے دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان ہماری نسلوں کے لیے تاریخ ساز خوش خبری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈیم پراجیکٹ پر تعمیراتی کام کا کنٹریکٹ پاورچائنا اور ایف ڈبلیو او پر مشتمل جوائنٹ ونچر کو ایوارڈ کیا گیا ہے، کنٹریکٹ کی مالیت442ارب روپے ہے جس میں ڈائی ورشن سسٹم، مین ڈیم، پل اور پن بجلی گھر کی تعمیرات شامل ہیں ۔ وزیر اعظم کا خواب ہے کہ پاکستان خود 50ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرسکے ۔ یہ منصوبہ اسی سلسلے کی کڑی ہے جسے 2028تک مکمل کر لیا جائے گا ۔ دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ مختلف وجوہات کی بنا پر تاخیر کا شکار تھا تاہم موجودہ حکومت نے اپنی حکمت عملی میں پانی اور پن بجلی کے وسائل کو ترجیح قرار دیتے ہوئے اِس اہم منصوبے کی تعمیر کی راہ میں حا ئل رکاوٹوں کو دور کرکے اس کی تعمیر شروع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ واپڈا کے ترجمان کے مطابق پراجیکٹ پر عملدرآمد کیلئے حکومت کی جانب سے بروقت فیصلہ سازی کی گئی جبکہ واپڈا نے اس منصوبے کی تعمیر کیلئے ایک ایسا قابل عمل فنانشل پلان ترتیب دیا جس میں قومی خزانے پر کم سے کم بوجھ پڑے گا ۔ اب یہ منصوبہ اپنی تعمیر کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، یاد رہے کہ گزشتہ سال میں مہمندڈیم پر تعمیراتی کام کے آغاز کے بعد دیامر بھاشا ڈیم دوسرا کثیر المقاصد ڈیم ہے جس کی تعمیر شروع کی گئی ہے ۔ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈاور انرجی سیکیورٹی کی ضروریات کیلئے نہایت اہم منصوبہ ہے ۔ یہ منصوبہ دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم سے تقریباً 315 کلومیٹر بالائی جانب جبکہ گلگت سے تقریباً 180کلو میٹر اور چلاس شہر سے 40کلو میٹر زیریں جانب تعمیر کیا جارہا ہے ۔ دیامربھاشا ڈیم کے تین بنیادی مقاصد ہیں جن میں زرعی مقاصد کیلئے پانی کا ذخیرہ،سیلاب سے بچاءو اور کم لاگت پن بجلی کی پیداوار شامل ہیں ۔ یہ ڈیم نیشنل گرڈ کو ہر سال اوسطاً18ارب یونٹ بجلی مہیا کرے گا ۔ اگر بجلی کی یہی مقدار تھرمل ذراءع سے پیدا کی جائے تو قومی خزانے کو ہر سا ل تقریباً 270ارب روپے خرچ کرنا پڑیں گے ۔ تھرمل ذراءع سے بجلی کی پیداوار کی اوسط لاگت تقریباً 15روپے فی یونٹ ہے ۔ اس کی تعمیرسے زیریں جانب واقع تربیلا اور غازی بروتھا سمیت دیگر پن بجلی گھروں کی سالانہ پیداوار پر بھی اس نئے منصوبے کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ان پن بجلی گھروں سے ہر سال اڑھائی ارب یونٹ اضافی بجلی حاصل ہو سکے گی ۔ 1974 ء میں اپنی تکمیل کے بعد تربیلا ڈیم پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے ۔ منصوبے کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کی عمر میں مزید35سال کا اضافہ ہوجائے گا ۔ دیا مر بھاشاڈیم پراجیکٹ مقامی لوگوں کیلئے بھی ایک نعمت ثابت ہوا ہے ۔ پراجیکٹ ایریا میں سماجی ترقی کیلئے اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت 78ارب 50کروڑ روپے خرچ کیے جارہے ہیں ۔ پراجیکٹ کی تعمیر کے دوران اور تکمیل کے بعد مقامی لوگوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ منصوبے پر تعمیراتی کام کے آغاز کے ساتھ ہی سکیورٹی کے سلسلے میں ضلع دیامیر میں دسمبر 2020تک پاک فوج کے 120دستے تعینات کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے ۔ ضلع دیامیر میں پاک فوج کے دستوں کی تعیناتی کی منظوری،محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کی طرف سے فوج طلب کرنے کی درخواست پر آئین کے آرٹیکل 245کے تحت دی گئی ہے ۔ ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین کے حصول کے دوران انتظامیہ کو بعض تھریٹ الرٹ موصول ہوئے تھے ۔ ڈیم پر کام کرنے والوں اور دیگر وسائل کی سیکورٹی کیلئے یہاں پاک فوج خدمات انجام دے گی ۔ وفاقی وزیر اْمور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈا پور نے گلگت بلتستان میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیرکے آغاز ایک کوبہت بڑی کامیابی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اہمیت کے اس منصوبے کے ماضی میں کئی بار افتتاح کیے گئے لیکن بالآخر حقیقی تعمیراتی کام کے آغاز کا سہرا موجودہ حکومت کے سر جاتاہے ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ مہمند ڈیم، داسو ڈیم اور دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے پاکستان میں توانائی اور پانی کے مسائل کوکافی حد تک حل کرلیا جائیگا ۔ وفاقی وزیرتوانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ 2040ء تک ایک لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے اہداف ہیں ،صوابی میں 220 کے وی کے گرڈ سٹیشن کے ساتھ مزید علاقہ منسلک کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے بجلی کی ترسیل اورتقسیم کے نظام کو اپ گریڈ کرنے پرتوجہ دی ہے ۔ ٹرانسمشن سسٹم پہلے 18 ہزار میگاواٹ تک لوڈداشت کر سکتا تھا اب اسے 23 ہزار میگا واٹ تک لوڈ کے قابل بنا دیا گیا ہے ۔