- الإعلانات -

ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا

لداخ اور گلوان وادی گنوانے کے بعد بھارت انتہائی خفت کا شکار ہے ۔ اس رسوائی کے داغ کو دھونے کےلئے بھارت کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ بظاہر پاکستان اس کے لئے آسان ٹارگٹ ہے ۔ ایل او سی پر پچھلے چند ماہ سے مسلسل گولہ باری جاری ہے ۔ پھر کچھ ہی دن پہلے بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے گیدڑ بھبکی لگاتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم نریندرا مودی نے پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کی اجازت دیدی ہے ۔ بھارت کی انہی دھمکیوں کے پیش نظر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کور کمانڈر کانفرنس میں پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ کانفرنس میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کی صورتحال پر غور کرتے ہوئے ملک کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا ۔ ہمارے وزیر خارجہ ن امیت شاہ کو واضح طور پر تنبیہ کی کہ بھارت نے حملے کی غلطی کی تو اسکا منہ توڑ دیں گے ۔ بھارت نے حملہ کیا تو فوری جواب دیا جائےگا ۔ بھارت یہ گیڈربھپکیاں بند کرے ۔ امیت شاہ کا بیان غیرذمے دارانہ ہے ۔ دنیا بھارتی زویر داخلہ کے بیان کا نوٹس لے ۔ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے ۔ بھارت معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے ۔ امیت شاہ کالداخ کے بارے میں کیا خیال ہے ۔ بھارت لداخ پر سرجیل سٹرائیک کیوں نہیں کرتا ۔ لداخ کے معاملے پر بھارتی میڈیا کیوں خاموش ہے ۔ بھارت اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے ۔ بھارت کی اس گیدڑ بھبکی پر رد عمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ بھارت فروری میں پاکستان کی جانب سے دئیے گئے موثر جواب کو یاد رکھے ۔ 27 فروری 2019ء کو پاکستان نے اپنے عزم اور صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا ۔ بھارت کی طرف سے ایسے ہی بیانات سامنے آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی عالمی دنیا کو بتا رہے ہیں کہ بھارت فالس فلیگ آپریشن کی تیار کر رہا ہے ۔ بھارت پلوامہ کی طرح ایسی شرارتیں کرتا رہتا ہے جس میں پاکستان پر الزام تراشی کرنا آسان ہو ۔ بھارت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کےلئے ایسے ڈرامے کرتا رہتا ہے ۔ کبھی سرجیکل سٹرائیک ، کبھی آزاد کشمیر پر حملہ تو کبھی مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کی مدد کرنے کا الزام ۔ مگر اس کے ڈراموں میں کوئی نہ کوئی ایسا واضح نقص ہوتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی اس کی بات پر دھیان نہیں دیتا ۔ حقیقت میں بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی دہشتگردی کا سرپرست ہے ۔ بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بھارت اپنے اداروں سے دہشتگردی کی منصوبہ بندی کرتا ہے ۔ مسلمانوں کو شامل کرکے حقیقت کا رنگ دیتا ہے ۔ رواں سال جنوری میں بھارت کی ایک فالس فلیگ آپریشن کی چال بری طرح ناکام ہو گئی ۔ فالس فلیگ آپریشن کی ناکامی پر پولیس آفیسر کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ۔ یونیفارم آفیسر کی دہشتگردوں کے ہمراہ گرفتاری ناکام فالس فلیگ منصوبہ بندی کی آئینہ دار بھارتی انٹیلی جینس کی فالس فلیگ آپریشن کی منصوبہ بندی سے مقامی ادارے لاعلم رہے ۔ بھارتی میڈیا نے انکشاف کیاہے کہ بھارتی پولیس نے ڈی ایس پی دویندر سنگھ کو دہشتگردوں کو کمک فراہم کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ۔ دویندر سنگھ حزب المجاہدین کے دو مبینہ دہشتگردوں کیساتھ پایا گیاتھا ۔ اسی ڈی ایس پی کو بہادری پر 15 اگست 2019ء کو صدارتی طلائی تمغہ دیا گیا ۔ ڈی ایس پی رویندر سنگھ سری نگر ایئرپورٹ پر تعینات تھا ۔ دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ سامنے آنے پر مقبوضہ کشمیر میں چھاپے مارے گئے اور رویندر سنگھ کے گھر سے اے کے 47، 3 پستول برآمد کرلی گئی ۔ بھارتی پولیس رویندر سنگھ اور دہشت گردوں کے گٹھ جوڑ کی تحقیقات کررہی ہے ۔ بھارتی میڈیا ایک دور کی کوڑی بھی لایا کہ افضل گرو نے بھی 2013 میں خط میں رویندر سنگھ کا ذکر کیا تھا ۔ افضل گروہ نے لکھا تھا رویندر سنگھ نے دہلی میں رہائش دی، مل کر پارلیمنٹ پر حملے کا کہا ہے ۔ موجودہ صورتحال میں بھارت کے پاس صرف یہی چارہ بچا ہے کہ وہ پاکستان کو کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے ۔ چین سے پنگا لے کر تو دیکھ لیا اپنے فوجی بھی گنوائے اور علاقہ بھی ۔ نیپال بھوٹان سے اس لئے نہیں لڑ سکتا کہ وہاں بھی ساتھ چین ہے اور چین نے اروناچل پردیش پر بھی قبضہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ اگر بھارت نیپال ، بھوٹان یا بنگلہ دیش سے لڑائی کرتا ہے تو یہ تینوں ممالک بھارتی چکن نیک کا علاقہ بند کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں بھارت کی سات ریاستیں جہاں پہلے ہی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں وہ آزادی کا اعلان کر سکتی ہیں اور یوں بھارت کے مزید ٹکڑے ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی ۔ بھارت کو بعض محاذوں پر بہت بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ وہاں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے معیشت کو دھچکے لگ رہے ہیں ۔ بھارت میں اقلیتیں حکومت سے نالاں ہیں ۔ وہاں معاشی حالات بگڑ چکے ہیں ۔ کشمیر میں بھارت نے ظلم کی انتہا کی ہوئی ہے ۔ بھارت افغانستان کے امن عمل کو سبوتاژکرنا چاہتا ہے ۔ بھارت میں انسانی حقوق کی شدید پامالی کی جارہی ہے ۔ وہ چاہتا ہے ان تمام چیزوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کی طرف لائن آف کنٹرول پرایڈوانچرازم کیا جائے ۔ اپنے اندرونی حالات سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کو دھمکیاں دے رہا ہے ۔ عرصے سے صورتحال بہت تشویشناک ہے، ۔ دشمن ملک کو کہنا چاہتے ہیں کہ آگ سے نہ کھیلیں ۔ کسی بھی فوجی مہم جوئی کے نتاءج ناقابل کنٹرول ہوں گے ۔ بھارت میں اسلامو فوبیا کی اٹھنے والی لہر کو پوری دنیا نے محسوس کیا ہے ۔ اس ساری صورتحال پر نظر ہٹانے کے لیے ایل او سی پر کوئی کارروائی کرنا چاہتا ہے جس کے لیے وہ سٹیج بنا رہا ہے ۔ رواں سال بھارت نے کئی مرتبہ جاسوس ڈرونز کے ذریعے پاکستانی علاقوں کی جاسوسی کرنے کی کوشش بھی کی، لیکن ناکام رہا ۔ رواں سال کے دوران پاک فوج بھارت کے 8 جاسوس ڈرون گرائے جا چکے ہیں ۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت بھی مسلسل الرٹ ہے ۔ پاک فوج کو بھی بھارت کی کسی بھی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے الرٹ پر رکھا گیا ہے ۔