- الإعلانات -

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے

وفاقی کابینہ نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کےلئے اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں مجوزہ ترامیم، ضابطہ فوجداری قوانین میں ترامیم سنگل ٹریژری بینک اکاءونٹ کے قواعد میں تبدیلی اور نیشنل ہیلتھ ایمرجنسی ریسپانڈ ایکٹ کی منظوری دی ہے ،وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری وقف املاک ایکٹ کی بھی منظوری دی ۔ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق پہلی مرتبہ معاونین خصوصی نے بھی اپنے اثاثے ظاہر کر دیئے ہیں ، وزیراعظم نے واضح ہدایت کی کہ گندم اور آٹے کی دستیابی و فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے ،نیب زیادتی کا واویلا کرنے والوں نے قوانین تبدیل کرنے میں رکاوٹیں ڈالیں ، انہی لوگوں نے ماضی میں نیب کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا،کمزور پراسیکیوشن سے عدالت سے بری ہونے والے فرشتہ نہیں بن گئے، کراچی میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال ایک سے 2روز میں بہتر ہو جائے گی ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن)نے ریاستی اداروں میں بدانتظامی اور میرٹ کے برعکس بھرتیوں سے اداروں کو زمین بوس کر دیا ہے جس ادارے کو دیکھیں اس کا یہی حال ہے ، موجودہ حکومت سرکاری ٹی وی ،اسٹیل مل سمیت تمام اداروں کو دوبارہ اپنے پاءوں پر کھڑا کرنا چاہتی ہے، انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے اشتہارات کے بقایا جات کی عدم ادائیگی پر برہمی کا اظہار کیا اورتمام وزارتوں کو بقایا جات کی ادائیگی کےلئے ایک ہفتے کا وقت دیاہے ،وزارت اطلاعات کو دوسری وزارتوں سے جیسے ہی فنڈز ملتے ہیں بقایا جات ادا کر دیئے جائیں گے ۔ عیدالاضحی پر کورونا وائرس کے بچاءوکے قوائد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنا ہو گا ۔ کابینہ کو احساس پروگرام سے متعلق بریفنگ دی گئی یہ ایسا پروگرام ہے جس کی شفافیت پر سیاسی مخالفین نے بھی سوال نہیں اٹھایا ۔ یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم عمران خان وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے دن سے ہی عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کی سوچ پرعمل پیراہیں اور وہ اسی جذبے کے لئے مختلف اقدامات کررہے ہیں ۔ وہ کابینہ کے ہر اجلاس میں بڑھتی مہنگائی کا نوٹس لیتے اور اس پر قابو پانے کی ضروری ہدایات بھی جاری کرتے رہتے ہیں ۔ بلاشبہ وزیراعظم عمران خان خلوص نیت کےساتھ عوام کو مسائل سے نجات دلانے کیلئے سرگرم عمل ہیں ۔ حکومت کو بہرصورت سخت اقدامات اٹھانا ہونگے ۔ سب سے بڑامسئلہ حکومتی فیصلوں پرعملدرآمدکانہ ہونا ہے جس وجہ سے ریلیف عوام تک صحیح طرح پہنچ نہیں پاتا اورعوام ریلیف سے محروم رہتے ہیں ۔ اس وقت عوام کو ریلیف دینے کی اصل ضرورت عام اور کھلی مارکیٹوں میں ہے جہاں بدستور لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔ یہ صورتحال مہنگائی پر کنٹرول کرنے کیلئے حکومت کے سخت اقدامات کی متقاضی ہے ۔ وزیراعظم اس حوالے سے یقینا فکرمند بھی ہیں تاہم جب تک انکی معاشی اور مالیاتی ٹیم عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات میں مخلص نہیں ہوگی اس وقت تک عوام مہنگائی میں پستی رہے گی ۔ اس لئے ;200;ج اصلاح احوال کے سخت اقدامات کی زیادہ ضرورت ہے جس کیلئے حکومت کو بہرصورت پیرامیٹرز متعین کرنے چاہئیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی فرض کی بھرپور ادائیگی کرتے ہوئے مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کیا ۔ وہ کرپشن اور مافیاز کے خاتمہ کے نعرہ پر اقتدار میں آئے کیونکہ کرپشن اور مافیاز معیشت کے بہت سے شعبوں میں گھسے ہوئے تھے ۔ انہوں نے مافیاز کا پیچھا کیا اور ان کا قلع قمع کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے منفی افواہوں کی پرواہ کیے بغیر نئے پاکستان کی راہ پر اپنا سفر جاری رکھا جس میں معاشی مواقع اور ہر شہری کی مجموعی خوشحالی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ آج ضرورت اس امرکی ہے کہ وفاقی کابینہ کے فیصلوں پرعملدرآمدکیاجائے تاکہ عام آدمی کی زندگی پراس کاگہراثرپڑے اور مہنگائی پرکنٹرول ہو کیونکہ جب تک مہنگائی پرکنٹرول نہیں کیاجائے گا عا م آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آئے گی اس کے لئے انتظامیہ کوحرکت میں آناہوگا ۔ لہٰذا کسی لیت و لعل کے بغیر حکومتی فیصلوں پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے ۔

کورکمانڈرزکانفرنس میں درپیش صورتحال پرغور

پاک فوج نے عظیم قربانیاں دے کر امن کے قیام کو ممکن بنایا ۔ دشمن کوپاکستان میں امن نہیں بھارہا اور وہ سازشوں میں مصروف رہتاہے ۔ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا اور اس کے پروردہ عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں کیفرکردار تک پہنچانا ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے اور سب سے ایسے ہی کردار اور جذبے کی امید رکھی جاتی ہے ۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی کو درپیش ہر خطرے کا موثر جواب دیا جائے گا، کورونا وائرس کی وباکے دوران عیدالاضحی اور محرم الحرام کے دوران زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے، وباء کے خلاف کامیابیوں کو احتیاط سے ہی برقرار رکھا جا سکتا ہے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی سربراہی میں 233ویں کور کمانڈرزکانفرنس جی ای ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی ۔ کور کمانڈر کانفرنس کے دوران ملک کی اندرونی و بیرونی سیکورٹی کے تناظر میں آپریشنل تیاریوں پرغور کیا گیا اور اس پر اظہار اطمینان کیا گیا جبکہ خطے کی سکیورٹی صورتحال پر پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے تمام فارمیشنزکی تیاریوں کو سراہا ۔ کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ کور کمانڈرز نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو خراج تحسین پیش کیا، آئندہ ماہ اگست کو بھارتی غیر قانونی اقدام کو ایک سال ہو جائے گا ۔ موجودہ حکومت نے بھارتی مظالم کیخلاف اب تک جرات مندانہ پالیسیاں اختیار کی ہیں ۔ بھارت نے مقبوضہ وادی میں کشمیری عوام کا عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے اور اسی طرح کنٹرول لائن پر بھی پاکستان کیخلاف اسکی اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے ۔ پوری دنیا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے آگاہ ہے ۔ کشمیری بھی اپنی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر روز اپنے حصے کی نئی شمع جلاتے ہیں ۔ لہٰذا دنیا کشمیر کی آزادی کےلئے بھارت کیخلاف مضبوط لاءحہ عمل اختیار کرے تا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی سیاہ رات جلد ختم ہو اور آزادی کا سویرا طلوع ہو جائے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ٹڈی دل اور کورونا وائرس کیخلاف سول انتظامیہ کی مدد کرنے پر فارمیشنز کے تعاون کو سراہا ۔ آرمی چیف نے کورونا وباکے خلاف لڑائی میں سول انتظامیہ کی مدد کی کوششوں کو بھی سراہا جبکہ کمانڈرز نے ملک بھر میں ڈاکٹروں اور طبی عملہ کی کوششوں کو سراہا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوروناوائرس کے مریضوں میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے پھربھی احتیاط کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑناچاہیے ۔ کسی بھی لمحہ غیر سنجیدگی اور بے احتیاطی کا مظاہرہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ حفاظتی تدابیر اور ایس او پیز پر پہلے سے زیادہ سختی کے ساتھ عملدر;200;مد کی ضرورت ہے ۔

ایس کے نیازی کی پروگرام’’ سچی بات‘‘ میں دوررس گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی آئی اے میں شفافیت سے تو انسانی جانوں کی حفاظت ہوگی، اداروں میں چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے،ہر گاءوں ،شہر میں شاملات زمینیں ہوتی ہیں ،شاملات زمینوں کی تقسم ضروری ہے،اگرن لیگ اورپیپلزپارٹی اکٹھی ہوجائیں تو حکومت کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں ، اپوزیشن جماعتیں کوشش کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب کو گھرنہ بھیج سکیں ،عدالت کو ڈاکٹرعبدالقدیر خان کیس کافیصلہ جلد کرلینا چاہیے تھا،ڈاکٹرعبدالقدیر خان محسن پاکستان ہیں ،ڈاکٹرعبدالقدیر خان قوم کے ہیرو ہیں ،ڈاکٹرعبدلقدیر خان نے وہ کام کیاجو اور کوئی نہیں کرسکا،ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے ملک کو محفوظ بنایا ۔ سابق صدر پاکستان وسیم سجاد نے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ کی طرح سپریم کورٹ نے ملکی معاملات پر نظررکھی ہوئی ہے،پی آئی اے کو دوبارہ اپنا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔ خواجہ برادرن سے متعلق سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ سامنے آیا،نیب قوانین پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔