- الإعلانات -

یوپی میں نماز عید اور قربانی پر پابندی

مودی حکومت کی مسلمان دشمنی پالیسی کھل کر سامنے آنے لگی کہ مسلمانوں کے مذہبی تہوار عیدالاضحیٰ کے موقع پر ریاست اترپردیش میں گائے کی قربانی پر پابندی لگا دی ۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ادتیہ ناتھ یوگی نے پولیس کوخصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والوں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے ۔ اس پابندی کو مسلم رہنماؤں نے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے ۔ بھارت میں مذہبی انتہاپسندوں نے گائے کے گوشت کے خلاف ایک زہر آلود مہم کا آغاز کر رکھا ہے جس میں متعدد مسلمانوں کو قتل کیا گیا ہے ۔ اس مہم میں اترپردیش کی یوگی حکومت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے ۔ قربان عید کے موقع پر یوگی حکومت نے مقامی پولیس انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ علمائے دین اور مسلم رہنماؤں کو اس بات کےلئے راغب کریں کہ عید الاضحیٰ کی نماز اور قربانی گھر پرہی ادا کی جائے ۔ اس کےلئے بہانہ کورونا وائرس کو بنایا جا رہا ہے ۔ عید الاضحیٰ کے موقع پرکھلی جگہوں پر قربانی کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ اس دوران حساس علاقوں کی نگرانی ڈرون کیمرے کے ذریعے کرنے اور علاقے میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے ۔ مقامی حکومت کا کہنا ہے کہ غیر مسلم علاقوں میں کھلے طور پر قربانی کا گوشت لانے اور لے جانے پر بھی پابندی عائد رہے گی ۔ غیر مسلم مذہبی مقامات یا علاقوں میں قربانی کی باقیات چھوڑے جانے پر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے لہٰذ اس بارے میں مقامی پولیس انتظامیہ پوری طرح سے چوکسی برتے گی ۔ فرقہ وارانہ ہاٹ اسپاٹ کی نشاندہی اور ان حساس مقامات پر مجسٹریٹ تعینات کئے جائیں ۔ گائے ہلاک کرنے اور اسکی ممنوعہ تجارت پر سختی سے روکا جائے ۔ اس سال عید الاضحی کا تہوار 31 جولائی سے شروع ہونے کا امکان ہے ۔ اس موقع پر قربانی کا بھی اہتمام کیا جائے گا لیکن یو پی میں ہفتہ کے آخری دو دنوں میں مکمل لاک ڈاوَن کا نفاذ عمل میں لایا جا رہا ہے ۔ ایسے میں عید الاضحی کے موقع پر نماز اور قربانی کے اہتمام کے ساتھ ساتھ قربانی کے گوشت کی تقسیم میں بھی دشواری پیش آئے گی ۔ ان تمام پریشانیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے جمعیت علما ء ہند نے ضلع انتظامیہ اور حکومت سے رعایت کی اپیل کی ہے ۔ حکومت ہند نے 21 جولائی سے شروع ہو رہی امرناتھ یاترا کیلئے یاتریوں کے قافلہ کو اجازت دی ہے لیکن 21 جولائی سے بابا برفانی کے درشن کیلئے جانے والے یاتریوں کی تعداد کو 500 تک محدود کر دیا گیا ہے اور ان پانچ سو یاتریوں میں انہی عقیدتمندوں کو شامل کیا جائے گا جن کا کووڈ 19 ٹیسٹ نیگٹو ہوگا ۔ یعنی یاتریوں کی روانگی سے پہلے ان کا کویڈ 19 ٹیسٹ کیا جائے گا ۔ اسی طرز پر جمعیت علما ء ہند نے بھی عیدگاہ میں نماز کیلئے ٹیسٹ کے بعد جانے کی اجازت دئے جانے اور پانچ افراد کے نماز میں شامل ہونے کی پابندی کو ختم کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بھارت میں بڑھتے ہوئے مذہبی انتہاپسندی کے اصل محرک نریندر مودی کو سمجھا جاتا ہے جن کے مسلمان اور اسلام مخالف بیانات کے باعث ہندو قوم پرست جماعت آرایس ایس کے حامیوں نے گائے کے گوشت کے خلاف ایک زہر آلود مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ آرایس ایس کا دعویٰ ہے کہ ان کے مخبر شہروں اور گاؤں میں پھیل چکے ہیں جو گائے کو ذبح یا اس کا گوشت بیچنے والوں کی خبریں جمع کررے ہیں ۔ اسی ضمن میں گزشتہ چند برس سے گائے ذیح کرنے کا الزام لگا کر متعدد مسلمانوں کو تشدد کے بعد جان سے مار دیا گیا ۔ رواں برس 20 جون کو بھارت کی ریاست اتر پردیش میں مشتعل ہجوم نے گائے ذبح کرنے کا الزام لگا کر 2 مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک ہلاک اور دوسرا شدید زخمی ہوگیا تھا ۔ جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 45سالہ قاسم کے نام سے کی گئی جبکہ مقامی ہسپتال میں زیر علاج زخمی شخص کی شناخت 65سالہ سامایودین کے نام سے ہوئی تھی ۔ جہاں تک گائے کی قربانی کا تعلق ہے تو بھارت کی مختلف ریاستوں میں گائے کو ذبح کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی ۔ مدیحہ پردیش میں گائے ذبح کرنے پر ملزم کو 7سال قید اور 5 ہزار روپے جرمانے کی سزا کا قانون راءج ہے ۔ ریاست نے اس حوالے سے 2012 میں قانون میں ترمیم کی تھی ۔ ہندو اکثریتی آبادی والے بھارت میں گائے کے ذبح اور اسمگلنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی لہر دیکھی جاچکی ہے جہاں جھارکھنڈ سمیت متعدد ریاستوں میں گائے کو ذبح کرنا قابل سزا جرم ہے ۔ بھارت میں گائے کے مبینہ ذبح اور اس کا گوشت کھانے پر متعدد افرادبالخصوص مسلمانوں اور دَلتوں کو قتل کیا جاچکا ہے ۔ 20جون کو ریاست مدیحہ پردیش کے ضلع ساتنا میں گائے ذبح کرنے کے الزام میں مشتعل ہجوم نے 45سالہ ریاض کو لاٹھی اور پتھر سے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ جاں بحق ہوگیا، جبکہ اس کا دوست 33سالہ شکیل واقعے میں شدید زخمی ہوا ۔ انہی دنوں مذکورہ علاقے کی سیکیورٹی انتہائی سخت تھی جہاں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ 2 روزہ دورے پر موجود تھے ۔ 2015 میں بھی ایک مسلمان شخص کو اس کے پڑوسیوں نے اس شبے میں قتل کردیا تھا کہ اس نے گائے کو ذبح کیا ہے تاہم بعد ازاں پولیس کا کہنا تھا کہ مقتول کے گھر سے برآمد ہونے والا گوشت بکرے کا تھا ۔ 5اپریل 2017کو بھارت میں گائے ذبح کرنے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے گائے کی ترسیل کرنے والا مسلمان شخص جاں بحق ہوگیا تھا ۔ یکم مئی 2017کو بھارتی ریاست آسام میں گائے چوری کے شبہ میں 2مسلمان نوجوانوں کو مشتعل افراد نے تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ۔ 25جون 2017کو بھارتی پولیس نے دارالحکومت نئی دہلی کے قریب چلتی ٹرین میں ایک مسلمان کو چاقو کے وار سے ہلاک کرنےوالے ہندو کو گرفتار کرلیا تھا ۔ 28 اگست 2017کو بھارت کی مشرقی ریاست بنگال کے ایک گاؤں میں ٹرک پر مویشی لے جانے والے 2مسلمانوں کو مشتعل دیہاتیوں نے تشدد کرکے ہلاک کردیا تھا ۔