- الإعلانات -

جوہری ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کی بہتری

پاکستان کو بین الاقوامی برادری اسلامی دنیاکا پہلا اور مجموعی طور پر ساتواں جوہری ملک مانتی ہے ۔ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ ہمارے جوہری اثاثے محفوظ اور بہترین کمانڈر اور کنٹرول سسٹم کے تحت محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور ان کے تحفظ کےلئے جامع نظام تشکیل دیا گیا ہے ۔ اسی لئے امریکی ادارے کی رپورٹ میں ہمارے جوہری ہتھیاروں کی حفاظت کو سراہا گیا ہے ۔ مریکا کی سابق سفیر اورتخفیف اسلحہ سے متعلق کانفرنس کی مستقل مندوب لارا کینیڈی نے ا ین ٹی آئی انڈیکس میں پاکستان سے متعلق رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے ۔ حال ہی میں امریکی ادارے نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو نے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کو محفوظ کرنے والے ممالک پر ایک رپورٹ جاری کی جس میں جوہری ممالک کی درجہ بندی کے لحاظ سے پاکستان کی پوزیشن میں نمایاں بہتری آئی ہے اور سب سے زیادہ موثر اقدامات پر امریکی ادارے نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو نے پاکستان کی درجہ بندی میں 7پوائنٹس کا اضافہ کر دیا ۔ پاکستان نے پلس 25 پوائنٹس حاصل کیے ہیں جبکہ گلوبل نارمزکٹیگری میں بھی پاکستان کا پلس ون درجہ بڑھا ہے ۔ این ٹی آئی انڈیکس کے مطابق نئے ضوابط لاگو کر کے پاکستان نے زیادہ تر اقدامات سیکیورٹی اورکنٹرول سے متعلق کیے اور دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان نے سیکیورٹی اینڈ کنٹرول کٹیگری میں خود کو بہت زیادہ بہتر بنایا ہے ۔ ادارے کی رپورٹ میں جنوبی مشرقی خطے کے دو جوہری ممالک کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے اعتراف کیا گیاکہ جوہری اثاثوں کے تحفظ سے متعلق پاکستان کے اقدامات نے بھارت کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ بھارت کے41 کے مقابلے میں پاکستان نے 47 پوائنٹس حاصل کیے ۔ جوہری ہتھیار رکھنے والے تمام 22 ممالک کا موازنہ کیا جائے تو اثاثوں کے تحفظ میں پاکستان کا 19واں اور بھارت کا 20 واں نمبر ہے جبکہ تنصیبات کے تحفظ میں 47 میں سے پاکستان کا 33 واں جبکہ بھارت کا 38 واں نمبر ہے ۔ پاکستان سائبر سیکیورٹی سمیت مختلف امور میں نئے ضوابط کا اطلاق کر کے سیکیورٹی بتدریج بہتر بنا رہا ہے ۔ 2014 میں پلس 8 ، 2016 میں پلس 2، 2018 میں پلس 6 درجہ حاصل کیا گیا جبکہ 2018 میں اندرونی خطرات سے تحفظ کے لیے کیے گئے پاکستانی اقدامات کوخصوصی طورپر سراہا گیا ہے ۔ دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان نے سیکیورٹی اینڈ کنٹرول کٹیگری میں خود کو بہت زیادہ بہتر بنایا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں پلس 28پوائنٹس کا حاصل کیا جانا خود اس انڈیکس کی تاریخ میں دوسرا ایسا موقع ہے ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ جوہری مواد کے عدم تحفظ کے حوالے سے خصوصاً بھارت سرفہرست ہے جو دنیا کو سب سے زیادہ متاثر کر سکتا ہے ۔ بھارتی حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جوہری تنصیبات اور مواد کی حفاظت کے عالمی معیار کے مطابق انتظامات کر رکھے ہیں لیکن یہاں جوہری مواد کی چوری اور سمگلنگ کے واقعات عام ہیں ۔ خدشہ ہے کہ یہ موادانتہا پسندوں کے ہاتھ بھی لگ سکتا ہے ۔ بھارتی سائنسدان جوہری مواد، ہتھیار اور ٹیکنالوجی فروخت بھی کرتے رہتے ہیں ۔ بھارت میں ترشول اور آکاش بنانے والے کئی سائنسدانوں کو راز افشا کرنے پر حراست میں لے لیا گیا ۔ بھارت اب تک اپنے کئی سائنسدانوں کو سزائیں دے چکا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت دوسرے ممالک سے بھی جوہری ہتھیار، ان کی تیاری میں استعمال ہونے والے حساس پرزے اور ٹیکنالوجی کی چوری میں ملوث ہے ۔ بھارتی اخبارہندوستان ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نیپال کی سرحد سے تابکار مادے یورینیم کی بھاری مقدار سمگل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اس واقعہ کو بھارتی حکومت نے چھپانے کی کوشش کی مگر اس کے اپنے ہی ذراءع ابلاغ نے بھانڈا پھوڑ دیا ۔ اس انکشاف سے بھارتی حکومت کے ان دعووں کی قلعی بھی کھل جاتی ہے کہ بھارت ایک ذمہ دار جوہری ملک ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کا جوہری پروگرام آغاز سے ہی عدم تحفظ کا شکار رہا ہے ۔ بھارت کی جوہری تنصیبات سے اب تک متعدد بار جوہری مواد چرایا جا چکا ہے ۔ بھارت میں انڈر ورلڈ اتنا مضبوط ہے کہ سکیورٹی ادارے بھی اس کے سامنے بے بس ہیں ۔ جب وہ چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں چوری کرلیتے ہیں یا سائنسدانوں کو اغوا یا قتل کر دیتے ہیں ۔ دسمبر 2006ء میں ممبئی کے نواح میں قائم جوہری ریسرچ سنٹر سے ایک کنٹینر جوہری اسلحہ میں استعمال ہونےوالے پرزے لے کر روانہ ہوا اور غائب ہو گیا ۔ تاحال اس چوری کا پتہ نہیں چلایا جا سکا اور بھارت یہ بھی بتانے کو تیار نہیں کہ اس کنٹینر میں کیا کچھ تھا ۔ ان کے علاوہ 1984ء سے لے کر اب تک بھارت میں یورینیم کی چوری کے 152 کیس رجسٹر کرائے جا چکے ہیں ۔ جس کی پوری دنیا میں اور کوئی مثال نہیں ۔ بھارت میں 18ماہ تک 7سے 8کلو گرام یورینیم ایک سائنس دان کی تحویل میں رہا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہو سکی ۔ گویا وہاں انوینٹری کنٹرول کا نظام ہی نہیں کہ مواد کی گمشدگی کا پتا چلتا ۔ یہ تو صرف چند جھلکیاں تھیں کہ بھارت میں جوہری تنصیبات اور اس سے متعلقہ لوگ اور مواد کتنا محفوظ ہے اور یقینایہ کسی بھی وقت ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھ بھی لگ سکتا ہے جن کی زندگی کا واحدمقصد ہر غیر ہندو کو ختم کرنا ہے اور مسلمان تو ہر وقت ان کے نشانے پر رہتے ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود عالمی میڈیا نے ان خبروں کی نہ تو کوئی تشہیر کی نہ ہی بھارتی جوہری پروگرام کو نیزے کی نوک پر رکھا ۔