- الإعلانات -

بھارتی مسلمانوں پر ہندووَں کے مظالم

بھارت کو ہندو ملک بنانے کی کوششوں میں تیزی مئی 2014ء کے بعد آئی جب انتہا پسند ہندو تنظیم، آر ایس ایس کے رہنما نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا ۔ مودی 2001ء میں ریاست گجرات میں ہزارہا مسلمانوں کو بیدردی سے شہید کرکے ہندو قوم کے ہیرو بنے تھے ۔ وزیراعظم بنتے ہی انہوں نے بھارت بھر میں مسلم مخالف مہم کا آغاز کردیا تاکہ ہندو برتری کا سّکہ چلایا جاسکے ۔ ہندو توا کی علمبردار تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے بانیوں کا خیال تھا کہ آریہ نسل کے لوگ اصل ہندوستانی ہیں اور ہندووَں کی دو اہم کتابیں ;39;مہا بھارت;39; اور ;39;راماین;39; صرف مذہبی کتابیں نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہیں اور ان کے کردار ہزاروں برس پہلے حقیقت میں وجود میں تھے ۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام، مسیحیت اور کمیونزم جیسے ;39;بیرونی;39; تصورات نے ہندو تہذیب و تمدن کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ آر ایس ایس اور بی جے پی جیسی ہندوتوا کی علمبردار تنظیموں کا خیال یہ بھی ہے کہ برطانوی سامراجی دور میں لکھی گئی ملک کی تاریخی کتابوں میں ہندو تہذیب و تمدن کے عظیم دور اور اس کی کامیابیوں کو کمتر کر کے پیش کیا گیا اور اسے مسخ کر دیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس بھارتی مسلمانوں کے خلاف ہے ۔ برطانوی جریدے دی اکنامسٹ نے متعصب ہندوستان کی شہ سرخی کے ساتھ اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی مسلم مخالف پالیسیوں نے دنیا کی بڑی جمہوریت کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے ۔ بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو ہند توا کا خوف ہے اور وزیراعظم نے ملک کا سیکولر اور جمہوری تشخص خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ بی جے پی کا انتخابی ایجنڈا بھارتی سیاست کیلئے زہر قاتل بن چکا ہے ۔ ہندوستان صرف ہندوں کا ۔ بھارتی وزیراعظم ایک ہی وژن پر عمل پیراہیں بھارت نام نہاد سیکولرازم سے ہندو پرستی، جنونیت اور انتہا پسندی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ نئی دہلی سمیت پورے بھارت میں سینکڑوں مساجد پرناجائز قبضہ کر کے تالے لگا دیے گئے ہیں اور بہت سی مساجد حکومت کے قبضے میں چلی گئی ہیں ۔ امن عامہ کی حالت مخدوش ہوتی جا رہی ہے ۔ خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف ہندو انتہا پسند کھل کر سامنے آرہے ہیں ۔ ان کے خلاف ہندو انتہا پسند ہندو عوام میں نفرت پر مبنی پمفلٹ تقسیم کر رہے ہیں ۔ دیگر اقلیتوں کے خلاف بھی یہ انتہا پسند ہندو پر تشدد کارروائیاں کر رہے ہیں ۔ سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی کے پروفیسر اشوک سوائن نے کہا بھارتی جمہوریت کی نوعیت سیکولر ہے مگر مودی اکثریت کی بنیاد پر طاقت حاصل کرنے میں لگے ہیں جس میں اقلیتی حقوق کی کوئی گنجائش نہیں ۔ بی جے پی کے ایجنڈے میں مذہبی اقلیتوں کے مخصوص قوانین تحلیل کر کے شادی، خاندانی امور اور موت سے متعلق یکساں سول ضابطہ راءج کرنا ہے ۔ امریکی تھنک ٹینک ولسن سنٹر کے مائیکل کوگل مین نے کہا بھارت میں ہندو قوم پرست ایجنڈے پر جارحانہ طریقے سے عمل کیا جا رہا ہے، جس کے مضمرات کئی عشروں سے راءج سیکولرازم اور اجتماعیت پر مبنی بھارتی جمہوریت کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں ۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ بھارتی جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔ انجہانی پنڈت نہرو کے دور میں زمینداری ختم ہوئی ۔ مسلمانوں کے قبضے سے ان کی زمین جائیدادجاتی رہی اور کل کا مسلمان زمیندار ہندوستان کی آزادی کے بعد وہاں کوڑیوں کا محتاج ہوگیا ۔ اس کی جو بھی پونجی بچی تھی وہ وکلاء کی نذر ہو گئی لیکن انہیں بھارتی عدالتوں سے انصاف نہ ملا ۔ مسلمانوں کی جائیداد کبھی کسٹوڈین کے قبضے میں گئی تو کبھی وکیل کے معاوضے کے نام پر رہن رکھی گئی ۔ ایک طرف مسلمانوں کی اراضی اور جائیداد جاتی رہی تو دوسری طرف نئے زمیندار پیدا کئے گئے اور مسلمانوں کے علاوہ دوسری قو میں دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں ایکڑ اراضی پر کاشت کاری کرنے لگیں ۔ ایک متعصب ہندو پروین تو گاڈیہ نے کہا کہ مسلمان کو غدار کے طور پر پیش کرو ۔ اس کا خون طلب کرو ۔ اس کے حصول کے ذریعے کے طورپر چالبازی کو تقدیسی عطا کرو ۔ مسلمانوں کو خوفزدہ کرو ۔ ان کو تشدد پر اکساؤ اور مناسب موقع پر نسل کشی کا آغاز کر دو ۔ بھارت کی سرزمین اور سیاست پر اب ہمارا قبضہ ہے ۔ یہ خالص گنگا اور جمنا کی سر زمین ہے ۔ تعلیمی لحاظ سے بھی مسلمانوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے ۔ شہروں میں 54;46;6 فیصد اور گاؤں 60;46;2 فیصد مسلمانوں نے سکول کا کبھی منہ تک نہیں دیکھا ۔ دیہی علاقوں میں صرف 0;46;3 فیصد مسلمان گریجوایٹ ہیں جبکہ شہروں میں 40 فیصد جدید تعلیم حاصل کرنےوالوں میں گریجوایٹ مسلمانوں کی تعداد 3;46;1 فیصد اور پوسٹ گریجوایٹ کی تعداد1;46;3 فیصد ہے ۔ بھارتی حکمرانوں نے اعلان کیا ہے کہ 25 کروڑ مسلمان اگر بھارت میں رہنا چاہتے ہیں تو انہیں ’’وندے ماترم‘‘کا گیت گانا ہوگا ورنہ وہ اپنا بوریا بستر یہاں سے گول کریں اور بھارت چھوڑ دیں ۔ حکمرانوں کی اس دھمکی سے بھارتی سیکولر ازم کا پردہ چاک ہوگیا ہے ۔ ہندو پیدا ہی مکارانہ ذہنیت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں پر روز بروز ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ خود کو زیادہ غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں ۔ ایسے میں بھارتی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے بھی اس بھارتی طرز عمل پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور بھارتی سرکار کو سیکولر ازم کی دھجیاں بکھیرنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔