- الإعلانات -

وزیراعظم بلوچستان کا احساس محرومی ختم کرنے کیلئے پُرعزم

بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی دور کرنا،انہیں ملک کے دیگرترقی یافتہ علاقوں کے برابرلانا وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے ۔ بلاشبہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے،رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کے عوام کا معیار زندگی بلند کرنا حکومتی ترجیح ہے ۔ حکومت بلوچ عوام کےلئے روزگار کے مواقع کی فراہمی اور صحت و تعلیمی سہولیات یقینی بنانا اپنا فرض سمجھتی ہے، بلوچ عوام کی خوشحالی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لایاجائے گا ۔ وزیراعظم عمران خان نے ماضی کے حکمرانوں کی طرح شو بازی کے بجائے قوم کو مصائب کی دلدل سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم عوامی ریلیف اور بہتر سال سے درپیش مسائل کے حل کی مضبوط اور ٹھوس بنیاد رکھ چکے ہیں ۔ مشکل فیصلوں کی اس سے پہلے کوئی حکومت ہمت نہیں کر سکی، مشکل فیصلے عمران خان کی ملک وقوم سے وابستگی کا ثبوت ہے، وزیراعظم عمران خان کے جراتمندانہ اقدامات تبدیلی لائیں گے ۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل کے دوسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ معدنی وسائل بڑھا کر بلوچستان کا احساس محرومی دور کرینگے،ماضی میں بلوچستان کو مالی وسائل تو فراہم کیے گئے لیکن عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ان کے مناسب استعمال کو یکسر نظر انداز کیاگیا جس سے صوبے کا بڑا حصہ پسماندگی کا شکار رہا اور عوام میں احساس محرومی پیدا ہوا، بلوچستان میں روڈ نیٹ ورک، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور انفرا اسٹرکچر کے قیام پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ اجلاس میں قومی ترقیاتی ایجنڈے خصوصا بلوچستان کے پس ماندہ اور دوردراز علاقوں میں آمدو رفت، آبی وسائل کے بہتر استعمال، زراعت، توانائی، بارڈر مارکیٹوں کے قیام اور گوادر پورٹ سے مکمل طور پر استفادہ حاصل کرنے کیلئے مختلف منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا گیا ۔ اجلاس میں صوبے میں معدنیات کی تلاش کیلئے کمپنی بنانے کی منظوری بھی دی گئی ۔ وزیراعظم کامزیدکہناتھاکہ صوبہ بلوچستان میں مکمل امن وامان کو یقینی بنانا اور سماجی واقتصادی ترقی دیناحکومت کی اولین ترجیح ہے،گوادر کی تعمیر و ترقی کا منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے علاقہ کےلئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے، گوادر اور سی پیک کے منصوبوں سے مکمل طور پر مستفید ہونے کیلئے ضروری ہے کہ بلوچستان میں روڈ نیٹ ورک، عوام اور خصوصاً نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور انفراسٹرکچر کے قیام پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ سابقہ ادوار میں غلط طرز کے معاہدوں کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کا احساس محرومی بڑھا اور صوبہ پسماندگی کی طرف چلا گیا ہے ۔ سب سے بڑامسئلہ یہ بھی رہاہے کہ بلوچستان میں قوم پرست اور سیاسی جماعتیں ملکی، عالمی اداروں اور کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر تحفظات کا اظہار کرتی رہتی ہیں ۔ اسی وجہ سے بلوچستان میں غربت اور پسماندگی دور نہیں ہوئی ۔ معدنیات کے ذخائر بلوچستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کا سبب نہیں بن پائے ۔ آج تک استحصال اور احساس محرومی کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ۔ یہ استحصالی رویہ محض وفاقی حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ ہر طبقے کی طرف سے بلوچستان کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال بہت باصلاحیت شخص ہیں ۔ جام کمال کو اگر صوبے کی تقدیر بدلنی ہے تو انہیں لاہور اور کراچی جاکرسرمایہ کاروں کو قائل کرنا ہوگا کہ بلوچستان میں انڈسٹری لگائیں ۔ جب تک صنعتیں نہیں لگتیں ، کارخانے نہیں بنتے، جتنے مرضی فنڈز لگا لیں ، بلوچستان کا احساس محرومی اور غربت دونوں ختم نہیں ہونگے ۔ اب یہ بھی امیدروشن ہے کہ سی پیک کے تحت گوادر میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام ہو رہا ہے جن میں گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے،گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ،گوادر فری زون، پینے کے صاف پانی کا منصوبہ،پاک چین دوستی ہسپتال،ووکیشنل انسٹیٹیوٹ ، گوادر سمارٹ سٹی جیسے منصوبے شامل ہیں ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے بلوچستان کی معیشت میں بہتری آئے گی، اقتصادی زونز کے قیام سے مقامی صنعت ترقی کرے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ سی پیک میں بلوچستان کو کلیدی اہمیت حاصل ہے ۔ سی پیک کے تحت بلوچستان میں اقتصادی زونز قائم کئے جارہے ہیں جن سے اقتصادی شعبے میں بہتری سے مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا اورمقامی لوگوں کےلئے روزگار کے نئے مواقع پیداہوں گے ۔ سی پیک منصوبے سے بلوچستان کا نقشہ بدل جائے گا بلکہ ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ۔

آیاصوفیہ مسجدکی بحالی میں ترک صدرکا اہم کردار

استنبول کی تاریخی آیا صوفیہ گرینڈ مسجد میں 86 برس بعد پہلی بار نماز ادا کی گئی ،صدر طیب اردوان نے ہزاروں افراد کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی ۔ صدر رجب طیب ایردوان نے عمارت پر نصب نئی تختی کی نقاب کشائی کی ۔ انہوں نے قرآن پاک کی تلاوت بھی کی ۔ اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ایردوان کا کہنا ہے کہ آیا صوفیہ کے بعد ہماری اگلی منزل مسجد اقصی ہے جسے ہم آزاد کروائیں گے ۔ ترک وزیر برائے مذہبی امور نے نماز جمعہ کا خطبہ دیا ۔ اس موقع پر انہوں نے ہاتھوں میں تلوار بھی تھامی ہوئی تھی ۔ خطبہ جمعہ اور دعا کے دوران روح پرور مناظر دیکھے گئے ۔ امام نے امت مسلم امہ کے دوبارہ عروج کی دعاکی ۔ نماز ادا کرنے کےلئے صبح ہی سے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے ۔ لوگوں نے کئی گھنٹے قبل ہی تلاوت قرآن پاک شروع کردی تھی ۔ فضا تکبیر کی صداءوں سے گونجتی رہی، کچھ لوگ رات کو ہی آیا صوفیہ پہنچنے کے بعد بیرونی احاطے میں سوگئے تھے جبکہ ہزاروں نے گھاس پر ہی کھانا کھایا ۔ صبح میں دھوپ کی تپش سے بچنے کےلئے لوگ درختوں کے سائے میں رہے اور اس موقع پر سیکڑوں لوگوں نے ترکی اور عثمانی پرچم اٹھا رکھے تھے ۔ نمازیوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے بڑے فخر کی بات ہے ۔ لوگوں نے ترک صدر اور عثمانی خلیفہ کی تصاویر والی شرٹس پہن رکھی تھیں ۔ اس تاریخی موقع پر وبا سے بچنے اور سکیورٹی کےلئے سخت انتظامات کیے گئے تھے ۔ لوگوں نے اشکبار آنکھوں سے دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم سے نجات اور دوبارہ ایک امت بننے کی التجا کی ۔ آیا صوفیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کو دنیا کے متعدد نشریاتی اداروں نے براہ راست دکھایا اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے مسجد میں نماز کی ادائیگی کو دیکھا ۔ آیا صوفیہ میں مسجد بحال کرنے میں ترک صدراردوان کا اہم کردارہے ۔

راولپنڈی میں خاندانی دشمنی کا افسوسناک واقعہ

راولپنڈی کے تھا نہ چو نترہ کے علا قے میال میں خاندانی دشمنی کے نتیجے میں سفاک شخص کی ساتھیوں سمیت گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں 5 خواتین اور5 بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہو گئے ۔ فائرنگ کا واقعہ اظہر ،نذر، امتیار گروپ اور رب نواز گروپ کے مابین پیش آیا ،دونوں خاندانوں میں پرانی دشمنی چل رہی ہے ،تین روز قبل رب نواز کی بیوی قتل ہو ئی تھی جس کا بدلہ لینے کیلئے ملزم ضمانت پر آیا اور اس نے خونی کھیل کھیل دیا ،پولیس کی فرانزک ٹیم شواہد اکھٹے کرنے کیلئے موقع پر پہنچ گئی ۔ سی پی او نے ملوث افراد کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مخالفین نے گھر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی ۔ تھانہ چونترہ کے علاقے میں مسلح گروپوں کیخلاف سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے آپریشن کلین اپ کروایا تھا، ان کے بعد ایک بار پھر مسلح افراد نے منظم نیٹ ورک قائم کرلیا ۔ متاثرہ علاقہ پولیس لائن ہیڈ کوارٹر زسے ڈیڑھ دوگھنٹے کی مسافت پر واقع ہے جبکہ متاثرہ گاءوں چونترہ تھانے کے درمیان 7 سے 8 کلومیٹر کی مسافت ہے، میال تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اور وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے حلقے میں آتا ہے جبکہ یہ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا بھی حلقہ ہے ۔ علاقے کے مکین خو نی سانحے کی تمام ذمہ داری سابق ایس ایچ ا و ظہیر بٹ پر ڈالتے ہیں جس نے غفلت اور ناہلی کا مظا ہرہ کیا اور افسران بالا کو اعتماد میں نہیں لیا ،اگر بروقت علا قے میں پولیس پہنچ جا تی تو یہ خونی کھیل نہ کھیلا جا تا ۔ پولیس کے اعلیٰ افسران ناتجربہ کار افسروں کو ایس ایچ او لگا کر تجربات کر رہے ہیں ۔