- الإعلانات -

بڑھکیں اور اعلاناتبڑھکیں اور اعلانات

ڈی جی سول ایوی ایشن نا اہل جعلی پائلٹوں سے ملاہوا ہے ذمہ دار افسران پر فوجداری مقدمات بنائے جائیں ۔ شاہد کرونا میں بہت کچھ غلط ہوا اور اس پر پردہ ڈالا جا رہا ہے ۔ لگتاہے کو ختم کرنا پڑے گا اور کے چیئرمین کو کیوں نہ تو ہین عدالت کا نوٹس دیں ۔ جعلی ادویات سازی اور فروخت پر سزا موت ہونی چاہیے ۔ چیف جسٹس نے پوچھا الحفیظ کمپنی کس کی ہے مالک کون ہے پائلٹ کے لائسنس جعلی ہیں کراچی کے نقیب اللہ قتل کیس کے گواہ انکاری ہو گئے ۔ سپریم کورٹ میں کرونا از خود نوٹس پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے بہت کچھ کہا ۔ ڈی جی سول ایوی ایشن چیئرمین چیئرمین ڈراپ وغیرہ پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے خوب غصہ کیا ۔ مگر یہ سب کچھ عوام کو قبول نہیں !جناب چیف جسٹس آپ جو کچھ جاننا چاہیں ۔ یہ ادارے آپ کے سامنے سب کچھ لا کھڑا کر دیتے ہیں ۔ آپ جس معاملہ کو ہاتھ میں لیں اس کی خوب پڑتال کرائیں اور انکوائری میں تمام پہلو وٗں کی انتہائی باریک بینی سے تحقیقات کر کے رپورٹ حاصل کریں اور پھر عدالت عظمٰی خوب تسلی سے فیصلہ کرے تاکہ جس کیس یا معاملہ کا سپریم کورٹ فیصلہ کرے چور ڈاکو لٹیرے توبہ توبہ کرتے پھریں ۔ ان کیلئے ایسی سخت سزائیں تجویز کریں کہ تاریخ کا حصہ بن جائیں آج کل فیصلے کم اور جج بولتے زیادہ ہیں عدالت کی رہنمائی کرنا مقصود نہیں عدالت کیلئے تجویز ہے کہ عدالت گفتگو اور بیانات سے گریز کرے بلکہ ایسے فیصلے کرے کہ جرائم پیشہ افراد سہم جائیں اکثروبیشتر سیاست دان ،اعلی افسران بڑے بڑے دعوے اور اعلانات کر دیتے ہیں مگر جب کسی کام کے کرنے کا وقت آتا ہے تو یہ بھیگی بلی بن کے منہ چھپاتے پھرتے ہیں ۔ بات وہ کرنی چاہیے جس کو پورا کیا جا سکے ۔ اکثر پولیس افسران دعوے کرتے ہیں کہ جرائم پیشہ افراد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ۔ جوئے کے اڈوں کو بازور بازوبند کریں گے ،منشیات فروشوں پر زمین تنگ کر دیں گے ان دعووّں کے بعد منشیات سرعام بکتی ہے ۔ جوئے کے اڈے سرے بازار چلتے ہیں ۔ جرائم پیشہ افراد پولیس افسران کے دفاتر میں معززبن کر چائے پانی کرتے ہیں اس طرح عوام میں پولیس کی عزت نہیں رہتی سیاست دان الیکشن مہم میں حلقہ میں سکول ڈسپینسری ،گلی سڑک اور بچوں کی ملازمتوں کے دعوے کرتے ہیں پولیس کو انصاف کا پابند بنانے کی باتیں کرتے ہیں پٹواری نا انصافی نہیں کریں گے ۔ مگر الیکشن کے بعد یہی سیاستدان عوام کی شکایات پر کان بھی نہیں دھرتے نہ گلی نہ نالی نہ سڑک اور نا ڈسپنسری کا افتتاح ہو تو پھر عوام ان سیاست دانوں پرکیا خاک اعتماد کرے گی جناب چیف جسٹس صاحب فیصلوں میں جلدی نہ کریں انصاف بھلے تھوڑی دیر بعد ہو ۔ انصاف ملنا چاہیے ۔ آج قتل کے 90 فیصلہ مقدمات میں عدالتیں ملزموں کو بری کررہی ہیں روزانہ پنجاب میں اندازہ 50افرادقتل ہو رہے ہیں یہ سلسلہ سالوں سے جاری وساری ہے مگر عدالتیں اوسطاً ایک شخص کو پھانسی پر نہیں لٹکا رہیں صرف بڑھکیں مارنے سے کام نہیں ہو گا !مقتول کے ورثا مقدمات کی پیروی کرتے کرتے اجڑ جاتے ہیں اور آج کل اعلیٰ عدالتیں مدعی کے وکیل کی بحث بھی کم سنتی ہیں اور عموما قتل کے ملزمان کی نچلی عدالتوں کی سزائے موت کو عمر قید یا بریت میں بدل دیتی ہیں ۔ جب عدالتیں قاتلوں کو سزائے موت دینے سے گریزا ں ہیں تو جعلی ادویات کے بنانے اور فروخت کرنے والوں کو کون سزائے موت کرے گاول زرداری صاحب نے چیئرمین نیب سے استعفیٰ مانگ لیا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے نیب پر برہمی کا اظہار کیاتو وہ جو نیب کی حراست ونشانہ ہیں ۔ جب عدلت عظمیٰ اس طرح قومی اداروں کی بے حرمتی کرےگی ۔ توچور اور ڈاکو دلیر اور مزاحمت کرنےوالے بن جائیں گے ۔ عدالت عظمٰی جب اور کرونا کے معاملات پر از خود نوٹس لے چکی ہے تو بیان بازی کی بجائے خواہکے معاملات ہوں کہ کرونا کامسئلہ ہو ۔ جسکو سزا موت دینی ہو یاجن محکمے کو بند کرنا ہو یا جس افسر ان کو ملازمت سے نکالنا ہو وہ فیصلہ خودعدالت کرے ورنہ چور عدالتوں کی آڑ میں عدالتوں اور قانون کا مذاق اڑاتے رہیں گے ۔ عدالت عظمیٰ ہو کہ عدالت عالیہ اخباروں اور میڈیا کی زینت بننے کی بجائے فیصلوں سے عوام اور مظلوموں میں وقار پیدا کرے ۔