- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی درندگی ۔ چشم کشا رپورٹ!

مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ممتاز کشمیری خاتون صحافی نعیمہ احمد مہجور نے غیر ملکی اخبار میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ اس سال مارچ میں نئے ڈومیسائل قوانین کے زریعے غیر کشمیریوں کو جموں وکشمیر کی شہریت دی جارہی ہے ۔ سن نوے کے دوران تقریبا ایک لاکھ کشمیری پنڈت نقل مکانی کر کے کشمیر سے باہر چلے گئے تھے جو کشمیر واپس آنے کا حق رکھتے ہیں مگر ان کی بعض تنظی میں پناہ گزین پنڈت خاندانوں کی نقل مکانی کی تعداد سات لاکھ سے زائد بتا رہی ہیں ۔ وہ کشمیر میں محفوظ مقامات پر اپنی بستی کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں جو تجزیہ نگاروں کے مطابق بی جے پی کا اسرائیلی فارمولہ اپنانے کا پروگرام ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دوسری ریاستوں کے بچے اگر سات سال بحیثیت طلبا کشمیری سکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم رہے ہوں گے تو نئے قانون کے تحت خود بخود کشمیر کے رہائشی کہلائیں گے ۔ جس نے ملازمت کے سلسلے میں 10 سال تک مقبوضہ کشمیر میں قیام کیا ہوگا، جن میں زیادہ تر پولیس اور انتظامیہ کے افسر ہیں انہیں رہائشی سند حاصل کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ ان کی تعداد بھی تقریباً ایک لاکھ تک پہنچ جاتی ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک سال سے جاری لاک ڈاءون کے نتیجے میں وہاں کی مقامی معیشت کو تقریبا 40 ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے ۔ یہ انکشاف ;39;دی فورم فار ہیومن راءٹس ان جموں اینڈ کشمیر;39; نامی تنظیم نے اپنی رپورٹ بعنوان ;39;جموں و کشمیر: انسانی حقوق پر لاک ڈاءون ز کے اثرات اگست 2019 تا جولائی 2020;39; میں کیا ہے ۔ یاد رہے کہ اکیس ممتاز بھارتی شہریوں پر مشتمل اس فورم کی سربراہی سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج جسٹس (ر) مدن بی لوکر اور سابق خاتون مذاکرات کار برائے جموں و کشمیر پروفیسر رادھا کمار کر رہی ہیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے پانچ اگست 2019 کے یکطرفہ فیصلے کی وجہ سے اہلیان کشمیر بھارت اور اس میں رہنے والے لوگوں سے کلی طور پر بیگانہ ہوگئے ہیں ۔ مقبوضہ وادی کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے کالے قانون ;39;یو اے پی اے;39; کے تحت مقدمے درج کیے جاتے ہیں ۔ مذکورہ رپورٹ میں مقبوضہ ریاست میں بھارتی حکومت کی نئی میڈیا پالیسی کو ;39;آزاد میڈیا;39; اور ;39;اظہار رائے کی آزادی;39; پر حملہ قرار دیا گیا ہے ۔ جموں و کشمیر میں نئے ڈومیسائل قوانین کے نفاذ، جن کے تحت غیر مقامی شہری بھی یہاں رہائش اختیار کر سکتے ہیں ، نے اس یونین ٹریٹری میں بے روزگاری بڑھنے کے خدشات کو جنم دیا ہے ۔ مبصرین کے مطابق مقبوضہ کشمیر کئی طریقوں سے بھارت کی جمہوریت کے لئے ایک ٹیسٹ کیس تھالیکن بھارت اس میں بری طرح سے ناکام ہوگیا ہے ۔ 70 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں جاری مسلسل لاک ڈاءون کے تعلیمی شعبے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سست رفتار ٹو جی موبائل انٹرنیٹ خدمات کے چلتے آن لائن کلاسز کا انعقاد ناممکن بن گیا ہے ۔ تنظیم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں بعض سفارشات بھی پیش کی ہیں جن میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، متنازع پبلک سیفٹی ایکٹ میں ترمیم، نابالغوں کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین پر سختی سے عمل درآمد، صحافیوں اور دیگر کارکنوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام والے قانون کے تحت درج مقدمات کی واپسی اور تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ خدمات کی بحالی قابل ذکر ہیں ۔ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے بعد ;39;بند;39; کئے گئے ہیومن راءٹس کمیشن کی بحالی، نئی میڈیا پالیسی کی واپسی، تاجر طبقے کے لئے مالی پیکیج اور فوجی آپریشنز کے دوران گرائے گئے رہائشی مکان مالکان کے لئے معاوضے کی سفارشات بھی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں ۔ رپورٹ میں کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگست 2019 سے اب تک جموں و کشمیر کی معیشت کو تقریبا چالیس ہزار کروڑ روپے یعنی 5;46;3 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ’’ جنوری سے جولائی 2020 تک معیشت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 22 ہزار کروڑ روپے یا 2;46;9 ملین ڈالر لگایا گیا ہے ۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے تخمینہ لگایا ہے کہ اگست 2019 سے جون 2020 تک ہونے والا نقصان 40 ہزار کروڑ روپے یا 5;46;3 ملین ڈالر ہے;39; ۔ اس فورم کے ارکان میں جسٹس مدن بی لوکر اور پروفیسر رادھا کمار کے علاوہ انڈین آرمی کے سابق وائس ایئر مارشل (ر) کپل کاک، میجر جنرل (ر) اشوک کمار مہتا، جسٹس (ر) اجیت پرکاش شاہ اور نیشنل کانفرنس رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی جیسی ممتاز شخصیات شامل ہیں ۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کے خلاف وادی میں مکمل ہڑتال چل رہی ہے ۔ اسی تناظر میں پابندیوں کے باعث جامع مسجد سری نگر سمیت تمام بڑی مساجد میں ایک بار پھر نماز جمعہ نہ ہو سکی ۔ مکمل اورسخت لاک ڈاون کے نتیجے میں سری نگر سمیت شمالی،وسطی اورجنوبی کشمیر میں معمولات زندگی درہم برہم رہے ۔ سری نگر، بارہمولہ، کپوارہ، بڈگام، گاندر بل ، پلوامہ، شوپیان، اننت ناگ اورکولگام میں تمام کاروباری سرگرمیوں ، عوامی نقل و حرکت اور گاڑیوں کی آ مد رفت پر مکمل پابندی عائد ہے ۔ سرینگر سمیت 9اضلاع کے اہم بازاروں ، قصبوں اوردیگر مقامات پر قابض بھارتی فوج اور پولیس کے دستے تعینات ہیں ۔ یاد رہے کہ شہر سری نگر میں سیول لائنز،ڈاون ٹاون اورنواحی علاقوں میں قابض بھارتی فوج نے جگہ جگہ خار دارتاریں بچھانے کیساتھ ساتھ دیگررکاوٹیں بھی کھڑی کررکھی ہیں ۔ لاوڈ اسپیکرلگی پولیس گاڑیوں اور دیگر سرکاری گاڑیوں سے اعلان کیاگیاکہ شہر میں لاک ڈاون نافذہے،اسلئے لوگ اپنے گھروں میں ہی رہیں ۔ شہر میں جگہ جگہ پولیس اورفورسز کاسخت پہرہ تھا ۔ کسی بھی شخص کوپیدل یانجی گاڑی میں ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی ۔ بڑی تعداد میں لوگ واپس اپنے گھروں کولوٹ گئے کیونکہ سیکورٹی اہلکاروں نے انھیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی ۔ شمالی کشمیر کے دواضلاع بارہمولہ اورکپوارہ کے سبھی قصبوں میں نقل وحرکت مکمل طور پر بند رہی ۔ بڈگام اور گاندربل، پلوامہ،شوپیان،اننت ناگ اور کولگام اضلاع میں بھی لاک ڈاون رہا تمام قصبوں میں پولیس وفورسز نے سخت بندشیں عائد کردی تھیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ بھارت کی بی جے پی حکومت اسرائیلی فارمولے کے تحت ہندووں کوجموں و کشمیر میں بسانے کا پروگرام بنا رہی ہے ۔ اسی ضمن میں 10 لاکھ سے زائد بھارتی فوج پہلے ہی کشمیر کے چپے چپے پر موجود ہے اور نئے قوانین سے اس کے اہلکاروں کو بھی کشمیر میں شہریت کا حق دے دیا گیاہے ۔ اس سب کے باوجود عالمی برداری اپنی خاموشی نہےں توڑتی تو ماسوائے اس کے کیا کہا جا سکتا ہے کہ

ظلم رہے اور امن بھی ہو،کیا ممکن ہے تم ہی کہو