- الإعلانات -

احتساب کے عمل کو بے معنی ہونے سے بچایا جائے

بدعنوانی کسی بھی ملک یا معاشرے کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہے،ماہرین معیشت اسے ناسور سے تعبیر کرتے ہیں ،لیکن اسکا خاتمہ اسی صورت ممکن ہے جب انسدادِ بدعنوانی کا کوئی با اختیار اور مضبوط ادارہ وجود رکھتا ہو ۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں بدعنوانی کی جڑیں کافی گہری ہیں اور ہر سال اربوں روپے اس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ۔ بدقسمتی سے کمزور احتسابی عمل کی وجہ سے اس ناسور پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے ۔ تاہم خوش ;200;ئند امر یہ ہے کہ ملک کے سنجیدہ حلقوں میں اسکے تدارک کےلئے گہری فکر پائی جاتی ہے اور پاکستان میں اس حوالے سے اقدامات اٹھائے جاتے رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں ;200;ج سے چند سال قبل قومی احتساب بیور کے نام سے ایک قومی ادارہ تشکیل دیا گیا تھا ۔ یہ ادارہ اپنے قیام سے اب تک بدعنوانی کے خاتمے کےلئے جدوجہد میں مصروف ہے لیکن ماضی میں سیاسی مداخلت ، ناخن اور پَر تراش دینے جیسی دھمکیوں نے اس کی کارکردگی کوسست اور متنازعہ بنا دیا ۔ اس ادارے کا قیام سابق صدر مشرف کے دور حکومت میں عمل میں لایا گیا تھا،ابتدا میں اس نے اچھا تاثر قائم کیا لیکن جلد ہی اسے سیاسی انجینئرنگ کے الزامات لگنے لگے، بعدازاں ;200;صف علی زرداری اور نواز شریف دور حکومت میں بھی اسی طرح کے الزامات کا اسے سامنا رہا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سابقہ دونوں ادوار میں یہ ریاستی ادارہ کی بجائے حکومتوں کی باندی بنا رہا ۔ دو سال قبل جب عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو اس نے اس ادارے کو ;200;زادانہ طریقے سے کام کرنے کے اشارے دیئے اور اسے با اختیار بنانے کا عزم کا اظہار کیا ۔ بلاشبہ اس دور میں نیب کی کارکردگی میں نمایاں بہتری ;200;ئی اور کرپٹ عناصر پر بلا امتیاز ہاتھ ڈالا گیا،لوٹے گئے اربوں روپے واپس قومی خزانے میں بھی ;200;ئے لیکن اس کے باوجود اس کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار نہیں دیا جا رہا،عوامی تاثر بھی اچھا نہیں تو عدالت عظمیٰ بھی اس پر برہم رہتی ہے ۔ ابھی حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ نے اس کی کارکردگی پر درجنوں سوال اٹھا دئیے ۔ جبکہ دوسرے طرف حکومت پر بھی دباوَ ہے کہ وہ نیب قوانین میں ترامیم کرے ۔ عدالت عظمیٰ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات بڑے اہم ہے،لیکن نیب کو جن مسائل کا سامنا ہے انہیں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اس حوالے سے عدالت عظمیٰ میں 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام، نیب کارکردگی سے متعلق اٹھائے گئے سوالات کے بعد چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں کہا ہے کہ احتساب میں تاخیر کی ذمہ دار عدالتی نظام ہے، عدالتیں نیب قانون کے بجائے ضابطہ فوجداری پر عمل کرتیں ہیں ، اسٹے اور ضمانتوں میں سپریم کورٹ کے اصولوں پر عمل نہیں ہوتا، احتساب عدالتیں کم ہیں ، ایک ایک عدالت میں درجنوں کیس ہیں ، مقدمات میں 50، 50 گواہ بنانا قانونی مجبوری ہے ۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ 30روز میں کرپشن مقدمات کا فیصلہ ممکن نہیں ، بیرون ملک سے قانونی معاونت ملنے میں تاخیر، متفرق درخواستیں ،پلی بارگین پر پابندی اور سیاسی شخصیات کی غلط عدالتی تشریح فیصلوں کی راہ میں اصل رکاوٹ ہے ۔ انہوں نے فیصلوں میں ہونے والی تاخیر کے خاتمے کے لئے اور جلد مقدمات نمٹانے کیلئے ریٹائرڈ سیشن ججوں اور اپیلوں کیلئے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججوں کو مقرر کرنے کی درخواست کی ہے ۔ چیئرمین نیب جاوید اقبال نے اپنے جواب میں بتایا کہ موجودہ احتساب عدالتیں مقدمات کا بوجھ اٹھانے کیلئے ناکافی ہیں ، حکومت کو کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ نیب عدالتوں کی تعداد کو بڑھایا جائے مقدمات کے بوجھ کی وجہ سے ٹرائل میں تاخیر ہورہی ہے ۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور بلوچستان میں اضافی عدالتوں کی ضرورت ہے،ہر احتساب عدالت اوسط50مقدمات سن رہی ہے ۔ بلاشبہ نیب پر مقدمات کو بہت بوجھ ہے اس مسئلے کے حل لئے حکومت کو نئی عدالتوں کے قیام کی طرف جانا ہو گا،سپریکم کورٹ بھی کہہ چکی ہے کہ ۱یک سو بیس نئی احتساب عدالتیں قائم کی جائیں ۔ چیرمین نیب نے یہ بھی واضح کیا کہ نیب عدالتیں ضابطہ فوجداری پر سختی سے عمل کرتی ہیں ، احتساب عدالتیں ضابطہ فوجداری پر عمل نہ کرنے کا اختیار استعمال نہیں کرتیں ۔ اسی طرح انہوں نے تاخیر کے حوالے سے مزید وجوہات بارے بتایا کہ ملزمان کی متفرق درخواستیں اور اعلیٰ عدلیہ کے حکم امتناع بھی کیس کے فیصلوں میں تاخیر کی وجہ ہے جبکہ عدالتیں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ کے وضع کردہ اصولوں پر عمل نہیں کرتیں ،ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کا طریقہ کار بھی وقت طلب ہے ۔ بیرون ممالک سے قانونی معاونت ملنے میں تاخیر بھی بروقت فیصلے نہ ہونے کی وجہ ہے ۔ عدالتوں کی جانب سے سیاسی شخصیات کے لفظ کی غلط تشریح کی جاتی ہے، غلط تشریح کے باعت سیاسی شخصیات کا مطلب غیر ملکی اداروں کو سمجھانا مشکل ہوجاتا ۔ چیئرمین نیب کے جواب میں کہا گیا ہے کہ رضاکارانہ رقم واپسی کا اختیار استعمال کرنے سے سپریم کورٹ روک چکی ہے، رضاکارانہ رقم واپسی کی اجازت ملے تو کئی کیس عدالتوں تک نہیں پہنچیں گے ۔ یہ وہ وجوہات ہیں جن کا انہوں نے ذکر کیا ہے تو اس حوالے سے حکومت نیب ادارے کی مشکلات کا ازالہ کرے تاکہ وہ آزادانہ طریقے سے کام کر سکے لیکن نئی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے حکومت نے معاشی مسائل کا رونالے آئی ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے8 جولائی کو لاکھڑا کول مائننگ پلانٹ میں بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاقی سیکرٹری قانون و انصاف کو متعلقہ حکام سے ہدایات لے کر120 نئی احتساب عدالتیں قائم اور ان میں نئے ججز کی تعیناتی کا حکم دیا تھا ۔ وفاقی وزارت قانون و انصاف نے 120 نئی احتساب عدالتوں کے قیام اور نیب کورٹس میں ججز کی تعیناتی کے حوالے سے عدالتی حکم پر اپنا جواب سپریم کورٹ میں جو جواب جمع کرایا ہے وہ مایوس کن ہے وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں بتایا گیا ہے کہ نئی احتساب عدالتوں کے قیام میں مالی مسائل کا سامنا ہے، اس سلسلے میں سالانہ 2 ارب 86 کروڑ روپے کے بجٹ کی ضرورت ہوگی ۔ ایک احتساب عدالت کے لیے جج سمیت 15 افسران و ملازمین درکار ہونگے، اس طرح120نئی عدالتوں کیلئے 120 ججز سمیت 1800افسران و ملازمین درکار ہونگے ۔ حکومت نے اس تناظر میں تما م اخراجات کی تفصیل لکھ کر سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے کہ ماہانہ کتنا بوجھ قومی خزانے پر پڑے گا ۔ دیکھا جائے تومعاشی بدحالی میں یہ بوجھ پہاڑ جتنا ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کو یقینی طور پر کچھ کرنا ہوگا ورنہ احتساب کا عمل بے معنی ہو کر رہ جائے گا ۔ اور حکومت کے یہ بھی ایک خسارے کا سودا ہوگا کہ جس نعرے کی بنیاد پر اقتدار میں آئی ہے اس پر عمل نہ ہو سکے ۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ،بھارت کا اصل قبیح چہرہ بے نقاب

اقوام متحدہ نے بھارت کے اصل چہرے سے نقاب نوچتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت داعش کا مضبوط گڑھ بن چکا ہے، بھارتی ریاست کیرالہ اور کرناٹک میں داعش دہشت گردوں کی بڑی تعداد موجود ہے ۔ سال 20-2019 میں عالمی سطح پر دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کےلئے تیار کردہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ طالبان کی چھتری تلے بنگلہ دیش ، بھارت اور میانمار سے 150 سے200جنگجوءوں کا ایک گروہ افغانستان میں موجود ہے ۔ یہ گروہ القاعدہ انڈین سب کنٹیننٹ کہلاتا ہے ، کالعدم تحریک طالبان، کالعدم جماعت الاحرار بھی پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں ،جبکہ بھارت میں موجود دہشت گرد عناصر پڑوسی ممالک کیلئے خطرہ ہیں ۔ اقوام متحدہ نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں کہا کہ افغانستان، پاکستان میں دہشت گردی کا ذریعہ ہے جبکہ بھارت دہشت گردی کا مرکز ہے ۔ پاکستان ایک عرصہ سے ان حقائق پر بات کررہا تھا کہ دہشت گردی کے اصل مراکز کہاں کام کر رہے ہیں انکے پیچھے کون ہے ۔ صدشکر کہ آخر ایک دن یواین او جو عالمی برادری کی آواز ہے کو ماننا پڑا کہ برائی کی اصل جڑ کہاں ہے ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جڑ کی بیخ کنی کےلئے بھی اقدامات کئے جائیں ۔ رپورٹ میں جس طرح بھارت میں موجود دہشت گرد عناصر پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے وہ بھارت کے سارے بیانیہ کے بت کو پاش پاش کرنے کےلئے کافی ہے ۔ اسی طرح برادر پڑوسی ملک افغانستان کے پاکستان کے خلاف من گھڑت الزام کے غبارے بھی ہوا نکل گئی ہے،اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیاں کروائی جاتی ہیں ۔