- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر،لاک ڈاوَن کا سال، بھارت کو کیاحاصل ہوا

ہٹلر ثانی نریندر مودی کی انسانیت اور امن دشمن پالیسیاں بھارت کو تنہائی کی طرف دھکیل چکی ہیں ،خصوصاً کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خلاف کیا گیا فیصلہ اُسے لے ڈوبا ہے،جسے ایک سال مکمل ہونے کو ہے ۔ نریندر مودی جب دوسری بار وزیراعظم بنے تو اس کا بھیانک بہروپ مزید کھل کر سامنے ;200;یا ہے ۔ کشمیر کو مکمل طور پر ہڑپ کرنے کےلئے بھارتی ;200;ئین میں جہاں اس نے ;200;رٹیکل 370 اور 35;65; کا کشمیریوں کی منشا اور مرضی کے بر خلاف خاتمہ کیا وہاں اس نے خطے میں پڑوسی ممالک کےخلاف بھی پاؤں بھی پسارنے شروع کر دیئے، جس سے جنوبی ایشیا مختصر عرصے میں دوسری بار جنگ کے دہانے سے واپس ;200;یا ہے ۔ اس وقت بھارت چین اور پاکستان کے علاوہ ایران سری لنکا ، نیپال اور اب بنگلہ دیش سے بھی دور جا چکا ہے ۔ نیپال کے ساتھ کشیدگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے،جبکہ ایران نے اسے اپنے اہم منصوبے چاہ بہار سے چپکے سے بے دخل کر دیا ہے ۔ اسی طرح بنگلہ دیش بھی چائنہ بلاک کی طرف مائل ہو کر پاکستان سے روابط بڑھا رہا ہے ۔ وزراعظم عمران خان کی اپنی بنگلہ دیشی ہم منصب حسینہ واجد کو فون کال اسی سلسلے کی کڑی سمجھا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف امریکی کانگریس میں کشمیریوں کے حق میں ;200;واز ،یو این او کی دہشت گردی کے حوالے سے تازہ رپورٹ جس میں بھارت کو دہشت گردی کا نیا گڑھ قرار دیتے ہوئے خطے کےلئے خطرناک کہا گیا ہے،انسانی حقوق کی تنظیم کا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار ، نیوکلیئر تھریٹ انیشی ایٹو کا پاکستان کی جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کو بھارت سے بہتر قرار دینا ۔ یہ وہ معاملات ہیں جس سے بھارت کی ساکھ کا گراف تیزی سے تنزلی کا شکار ہوا ہے ۔ اس کے باوجود مودی مسلم دشمن روش ترک کرنے کو تیار نہیں ۔ اب اگلے ہفتے پانچ اگست کووہ بابری مسجد کی جگہ مندر کا سنگ بنیاد رکھنے جا رہا ہے ۔ یہ 5 اگست کا وہی دن ہے جس دن مقبوضہ وادی کی ;200;ئینی حیثیت پر حملہ کر کے اسے جبری بھارت کا حصہ بنا کر لاک ڈاوَن میں دھکیل دیا تھا ۔ اس لاک ڈاوَن کو ایک سال ہو رہا ہے ۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے طویل اور بدترین کرفیو اور لاک ڈاوَن ہے ۔ 80لاکھ کشمیریوں نے اسے قبول نہیں کیا،قید بند کی صعوبتوں کے باوجود کشمیری بھارت کےخلاف سراپا احتجاج رہتے ہیں ۔ 25جولائی کو مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیلی کے بھارتی منصوبے کے خلاف مکمل ہڑتال رہی ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیری عوام سے مکمل ہڑتال کی اپیل کی تھی تاکہ بھارت اور دنیا کو ایک بارپھر یہ واضح پیغام دیا جائے کہ کہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کرتے ہیں ۔ دوسری طرف بی جے پی حکومت اسرائیلی فارمولے کے تحت مشرقی پاکستان کے ہندو شرنارتھیوں اور نیپال کے گورکھا شرنا رتھیوں کے ایک لاکھ افراد اورسات لاکھ پنڈتوں کوجموں و کشمیر میں میں بسانے کا پروگرام بنا رہی ہے ۔ 10لاکھ سے زائد بھارتی فوج پہلے ہی کشمیر کے چپے چپے پر موجود ہے ۔ نئے قوانین سے اس کے سکیورٹی اہلکاروں کو بھی کشمیر میں شہریت کا حق مل گیا ہے ۔ ڈومیسائل کے نئے قوانین جبری مسلط کرنے کے بعد غیر کشمیریوں کو جموں وکشمیر کی شہریت دی جارہی ہے ۔ دوسری ریاستوں کے بچے اگر سات سال بحیثیت طلبا کشمیری سکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم رہے ہوں گے تو نئے قانون کے تحت خود بخود کشمیر کے رہائشی کہلائیں گے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک سال سے جاری لاک ڈاءون کے نتیجے میں اہلیان کشمیر بھارت سے کلی طور پر بیگانہ ہوگئے ہیں ۔ یہ انکشاف ’’دی فورم فار ہیومن راءٹس ان جموں اینڈ کشمیر‘‘نامی ایک تنظیم نے اپنی رپورٹ بعنوان ’’جموں و کشمیر: انسانی حقوق پر لاک ڈاءونز کے اثرات اگست 2019 تا جولائی 2020ء ‘‘ میں کیا ہے ۔ اکیس بھارتی شہریوں پر مشتمل اس فورم کی سربراہی سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج جسٹس مدن بی لوکر کر رہے ہیں ۔ مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے خلاف مقدمے درج کیے جاتے ہیں ۔ کشمیر کئی طریقوں سے بھارت کی جمہوریت کےلئے ایک ٹیسٹ کیس تھالیکن حکومت اس میں بری طرح سے ناکام ہوچکی ہے ۔ فورم نے رپورٹ میں بعض سفارشات بھی پیش کی ہیں جن میں سیاسی قیدیوں کی رہائی، متنازع پبلک سیفٹی ایکٹ میں ترمیم، نابالغوں کو تحفظ فراہم کرنے والے قوانین پر عمل درآمد، صحافیوں کے خلاف درج مقدمات کی واپسی قابل ذکر ہیں ۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد بندکئے گئے ہیومن راءٹس کمیشن کی بحالی، تاجر طبقے کےلئے مالی پیکیج اور فوجی آپریشنز کے دوران گرائے گئے رہائشی مکان مالکان کےلئے معاوضے کی سفارشات بھی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 کو ختم کرنے سے بھارت کو سیاسی اور سفارتی لحاظ سے فائدہ کے بجائے نقصان ہوا ہے ۔ اس سے یہ بات اجاگر ہوگئی ہے کہ کشمیر کا تنازعہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان نہیں ہے بلکہ چین بھی اس میں شامل ہے ۔ اس فیصلے نے بھارت کےخلاف پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹیجک گٹھ جوڑ کو ایک نیا ہتھیار فراہم کردیا ہے ۔ دفعہ 370کو ختم کرنے کے اقدام کے بعد پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی برداری کے سامنے زیادہ شدت سے اٹھانے کے لیے بیرون ملک اپنے سفارت خانوں میں کشمیر سیل قائم کردیے ہیں ۔ دوسری طرف چین بھی اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رائے ہموار کرنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے انسانوں کی سیکورٹی پر عسکریت پسندی مخالف سرگرمیوں کو ترجیح دینے کے نتیجے میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں ہوئی ہیں ۔ لوگوں کو حبس بے جا میں رکھا گیا، غیر قانونی گرفتاریاں ہوئیں اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے سیاہ قوانین کا استعمال کیا گیا ۔ یہ رپورٹ جس گروپ نے تیار کی ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ سب بھارتی ہیں ۔ رپورٹ حکومتی اعداد و شمار،صنعتی انجمنوں کی رپورٹوں پرمشتمل ہے ۔ پورٹ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مدن لوکور، ریٹائرڈ میجر جنرل اشوک کمار مہتا، سابق جج اجیت پرکاش شاہ، سابق جسٹس حسنین مسعودی، سابق ایر وائس مارشل کپل کاک، مورخ رام چندر گوہا، سابق خارجہ سکریٹری نروپما راو، سابق لفٹینینٹ جنرل ایچ ایس پناگ اور دانشور رادھا کمار سمیت 21 رکنی ٹیم پر مشتمل فورم نے تیار کی ہے ۔ اس لئے بھارت اسے تعصب پر مبنی رپورٹ کا الزام لگا کر جان نہیں چھڑا سکتا ۔ رپورٹ میں 5 اگست2019کے فیصلے کے بعدسے عوام کی سیکورٹی، بچوں ، انڈسٹری، صحت او رمیڈیا پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے جس نے کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے والوں کے دعووَں کی قلعی کھول کر سامنے رکھ دی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک سال کے لاک ڈاوَن سے مودی کو رسوائی کے سوا کیا حاصل ہوا ۔