- الإعلانات -

کیا مودی رام مندر تعمیر کرپائے گا

بھارتی شہر ایودھیا میں آر ایس ایس کے انتہا پسند ہندووَں کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ منہدم کردہ تاریخی بابری مسجد کی جگہ ہندووَں کیلئے رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد5 اگست کو رکھا جائیگا ۔ ایودھیا میں ہونیوالی رام مندر کا سنگ بنیاد کی تقریب میں ہندو قوم پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم نریندر مودی شریک ہوں گے ۔ 16 ویں صدی میں مغل دور حکومت میں تعمیرکردہ تاریخی بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے 1992ء میں یہ کہہ کر مہندم کر دیا تھا کہ یہاں رام نے جنم لیا تھا اور مسجد سے پہلے یہ رام مند ر تھا ۔ رام مندر کی بنیاد 15 فٹ گہری ہوگی ۔ اس میں 8 پرتیں ہوں گی اور ہر پرت 2;245;2 فٹ کی ہوگی ۔ فا وَنڈیشن آئرن کا استعمال نہیں ہوگا ۔ یہ صرف کنکریٹ اور رنگ سے تیار کیا جائے گا ۔ رام للا مندر 10 ایکڑ پر تعمیر کیا جائے گا ۔ رام مندر کمپلیکس باقی 57 ایکڑ اراضی میں ہوگا ۔ مندر کیمپس میں نشتر واٹیکا بنایا جائے گا ۔ نکشتر واٹیکا میں 27 نکشتر کے درخت لگائے جائیں گے ۔ رام مند رکے سنگ بنیاد کےلئے پانچ اگست کی تاریخ اس لئے منتخب کی گئی ہے کہ علم نجوم کے حوالے سے یہ تاریخ ہندووَں کےلئے بہت اہم اور خوش بختی والی تاریخ ہے ۔ دوسری طرف پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کے محصور کشمیری اور پاکستان و آزاد کشمیر کے باسی بھارتی حکومت کے خلاف یوم سیاہ منانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ گزشتہ برس اس تاریخ کو مودی حکومت کی طرف سے پاکستان اور بھارت کے مابین متنازعہ خطے جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت بدلے جانے کا ایک سال بھی پورا ہو جائیگا ۔ بھارتی ریاست اترد پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے آتے ہی انتہاپسندی کو فروغ دینا شروع کردیا اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی ہدایت دے دی ۔ تاریخ میں پہلی بار بھارتی ریاست اتر پردیش میں حکمراں جماعت بی جے پی کا وزیر اعلٰی منتحب ہوا تو اپنی پہلی ہی میٹنگ میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا کام شروع کرنے کی ہدایت کی ۔ جس کے بعد بی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی نے اعلی عدلیہ سے بابری مسجد کو لے کر مسلمانوں اور ہندووَں کے درمیان جاری تنازع کے حل کرنے کےلئے قبل ازوقت سماعت کی درخواست کردی ۔ جس پر بھارتی چیف جسٹس جے ایس کھیہار نے دونوں فریقین کو معاملہ مذاکرات کے ذریعے عدالت سے باہر حل کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ متنازع معاملات کو بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے ۔ اور اس کے لیے چیف جسٹس نے اپنی ثالثی کی پیش کش بھی کی ۔ ایودھیا کا تنازعہ بھارتی وزیر اعظم مودی کی انتظامی صلاحیت کی اہم آزمائش بنتا جا رہا ہے ۔ نریندر مودی ایودھیا میں مندر کی تعمیر کےلئے دباوَ کا شکار ہیں ۔ ایودھیا بھارت کا قدیم شہر ہے ۔ تاہم کچی سڑکوں اور سیوریج کے کھلے نظام والے اس خستہ حال شہر میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور مذہبی ہندو افراد کا مطالبہ ہے کہ یہاں مندر تعمیر کیا جائے ۔ ایک بزرگ پنڈت اور ایودھیا مندر مہم کے سربراہ نرتیا گوپال داس نے نریندر مودی کے حوالے سے کہا، ’’ہم امید رکھتے ہیں کہ مندر انہی کے دور اقتدار میں تعمیر کیا جائے گا ۔ ‘‘ ایودھیا شمالی بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ہے جہاں متنازعہ مقام پراب فوجیوں کا پہرہ ہے اور چاروں جانب حفاظتی مینار بنا دیے گئے ہیں ۔ مودی ان ہندو انتہا پسندوں کو بھی ناراض نہیں کر سکتے جو ان کی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی بھارتی وزیر اعظم کو اپنے ان سخت گیر ہندو حمایتیوں کے ہاتھوں ملک کے معاشی ایجنڈے کو پٹری سے اترنے سے بھی بچانا ہے ۔ بی جے پی کے اتر پردیش میں ریاستی سربراہ کاشو پرساد موریا سے جب ایودھیا میں مندر کی تعمیر کے مطالبے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا، ’’ہم ہر جمہوری ادارے کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس قضیے کو عدالت میں طے ہونا چاہیے ۔ ‘‘مسلم رہنما اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن اسدالدین اویسی کا کہنا تھا کہ یہ ماحول کو خراب کرنے کی دانستہ سازش ہے ۔ کوئی ایسا بیان کیسے دے سکتا ۔ آر ایس ایس اسے ایمان کا معاملہ کہہ رہی ہے جو خطر ناک ہے ۔ اس سے قبل بھارتی چیف جسٹس نے مشورہ دیا تھا کہ اس تنازع میں شامل پارٹیاں عدالتی جنگ لڑنے کے بجائے اس معاملے کا مذاکرات کے ذریعے پر امن حل نکالیں ۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے ایم احمدی نے کہا ہے کہ موہن بھاگوت عدالت کی کارروائی کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ بی جے پی نے ہندو ووٹروں سے جو وعدہ کیا تھا وہ آج بھی ادھورا ہے ۔ حکمران جماعت بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ اگر اکثریت والی حکومت بنی تو رام مندر بنوائے گی ۔ مودی حکومت کے پہلے تین برسوں میں ترقی کے نعروں پر زور رہا ۔ اب ایک مرتبہ پھر مذہبی تلوار کی دھار تیز کی جا رہی ہے ۔ مسجد گرائے جانے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راوَ نے اسی جگہ مسجد بنانے کی بات کہی تھی ۔ آج اس وعدے کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں ہے ۔ نہ کانگریس میں اور نہ ہی کسی دوسری جماعت میں ۔ اس پر بحث یا شک کی گنجائش نہیں ہے کہ آزادی کے بعد سے جمہوری بھارت میں ہندو مسلمان رشتوں میں بابری انہدام سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ کوئی اور نہیں ہے ۔ زیادہ تر مسلمان اسے ہندووَں سے ملے گہرے زخم کی طرح دیکھتے ہیں جو آج بھی رس رہا ہے ۔ بابری انہدام کے دوران اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ نے عدالت سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرکار بابری مسجد کی حفاظت کرے گی ۔ گاندھی اور نہرو نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بھارت میں برابری کے ساتھ رہ سکیں گے ۔ یہ دونوں وعدے مسجد کے ملبے تلے دبے پڑے ہیں ۔ 1992 بابری مسجد کو گرانے والے ایک ہندو نے اسلام قبول کر لیا ۔ اس کی دیکھا دیکھی سینکڑوں ہندووَں نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ وہ مسجد کے محافظ بھی بن گئے ۔ مودی کیا سمجھتے ہیں کہ مساجد کو گرا کر مندر تعمیر کرنے سے وہ مسلمانوں اور اللہ کے غیض و غضب سے بچ جائیں گے ۔ ابھی اس کا یہ حال ہے کہ پوری دنیا میں بھارت تنہا رہ گیا ہے ۔ کل کو کوئی بھی مودی کی مدد کو نہیں آئے گا ۔ اس کا انجام بہت برا ہونے والا ہے ۔