- الإعلانات -

کرشماتی ذات وزےر اعظم عمران خان

زمےن از کوکب تقدےر ما گردوں شود روزے

فروغ خاکےاں از نورےاں افزوں شود روزے

ےہ زمےن بد جائے گی، آسمان بدل جائے گا اور اسکی تمام پچھلی تارےک زندگی نور بن کر جگمگا جائے گی ۔ اگر انسان قلب و دماغ مےں تغےر پےدا ہو جائے اور وہ انفرادےت پسند نہ رہے تو اس خاکی کی مادی آرزوئےں پس پشت مےں چلی جائےں ۔ فلاح انسانےت اور عظےم مقصد اجتماعی کوشش کے ذرےعے وہ مربوط نظام قائم کرسکتا ہے ،جس کی مثال تارےخ عالم مےں ;34;مدےنہ کی رےاست;34; بطور نمونہ ہمارے سامنے ہے ۔ قرآن مےں ارشاد ہے کہ اے مومنےن کی جماعت مکہ مےں آپ کے ساتھی مجھے مدد کےلئے پکار رہے ہےں ۔ کےا آپ ےونہی بےٹھے اس انتظار مےں ہو کہ صرف مجھ پر اےمان لانے کے بعد انکی زندگی مےں از خود انقلاب آجائے گا، اے نبی ان سے کہ دو، اُٹھو اور ہمت کرکے ان کی مدد کےلئے پہلا قدم ، نےت ارادہ کے ساتھ آگے بڑھو ۔ پھر دےکھنا مےری ساری خدائی تمہاری جماعت کی مدد پر آمادہ ہو جائے گی ۔ اور اللہ اپنا وعدہ اپنے قوانےن کے مطابق پور ا کرتا ہے ۔ دوسری جگہ (3;47;65) مےں قسم کھائی گئی ہے کہ ان مےں سے کوئی بھی مومن نہےں ہو سکتا (دعویٰ ضرور کرتے ہےں ) جب تک اے رسول ےہ تمہےں اپنا حکم تسلےم نہ کرےں ۔ اور تمہارے فےصلوں پر تنگی اور گرانی محسوس نہ کرےں ۔ اقبال کے کلام مےں گداز اور سازی ہستی مےں مومن کا وہی کردار ہے جو کہ قرآن کی اطاعت مےں ;3939;عالمگےر انسانےت;3939;کےلئے تڑپ رکھتاہے ۔ اپنی جان ، مال اور ذاتی خواہشوں کو اےک طرف رکھ دےتا ہے ۔ اس کردارکی عظےم مثال حضرت محمد;248; عربی ہےں ۔

کی محمد;248; سے وفا تو نے تو ہم تےرے ہےں

ےہ جہاں چےز ہے کےا لوح و قلم تےرے ہےں

اس زمےن پر خدا کا نظام عملاً نافذ کرنے والی اس ذات نے آئندہ زمانوں کےلئے پہلی اےنٹ رکھ دی تھی ۔ کوشش نا تمام سے قائم ہونے والا ےہ نظام بنےادی طور پر اللہ کا نظام ہے ۔ جو لا شرےک ہے اور حقےقی حاکم ہے ۔ مگر انسان ہی اس کا عبداور عملی پےکر ہے ۔

تےرا جو ہر ہے نوری پاک ہے تو

فروغ دےدہ افلاک ہے تو

کوئی بھی شخصےت انبےاء کے علاوہ مجسم معصوم پےکر نہےں ہو سکتی ۔ ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے نظام قدرت کی گردشوں سے گزرتا ہوا اےک دن کمال کو پہنچ جاتی ہے ۔ لےکن ازخود کوئی کمال حاصل نہےں کر سکتا ۔ جب اس کے قلب مےں تطہےری عمل شروع نہےں ہوتا ۔ ہم حضرت عمر فاروق;230; کے کردار سے قبل از اےمان اور بعد از اےمان آگاہ ہےں ۔ انکی شخصےت مےں دور جاہلےت کی سختی ،تکبر اوراےمان کے بعدان کا قلب اس قدر مضطرب اور بے چےن رہتا تھا کہ حکمرانی کے مسند پر بےٹھ کر بھی ۲۲ لاکھ مربع مےل کے اختےار کے ساتھ، وہ سوزوگذار کے پےکر نظر آئے ۔ فرات کے کنارے کتوں ےعنی ہر جاندار مخلوق کی ذمہ داری لےنے کےلئے تڑپتے تھے ۔ مدےنہ کی رےاست پہلی بنےاد تھی ۔ جس پر عمر فاروق;230; نے وہ شاندار عمارت تعمےر کی ۔ کہ آج بھی نظام رےاست کے اصول ہمےں ےورپ کے بےشتر ممالک مےں اسکی باز گشت سنائی دے رہی ہے ۔ علم ،آگاہی اور شعور کی وسعت اور 700سال تک مسلمانوں کی حکمرانی ۔ عمر فاروق کی ذات اقدس اور اس کا نظام سبب رہا ہے ۔ انسان مےں اےمان و عمل صالح پےدا ہونے دےجیے پھر دےکھے ےہ شہباز کن بلندےوں پر اُڑتا ہے ۔ عقل علم اور فراست کا وہ پےکر بن جاتا ہے کہ نبی پاک ﷺ کو فرمانا پڑا کہ مومن کی فراست سے ڈرو وہ اللہ کی نگا ہوں سے دےکھتا ہے ۔ اللہ کی نگاہےں قرآن ہی ہے ۔ اور اک محکم دلےل ہے ۔ جب آپ زندگی کے ہر مسئلے کے لئے قرآن سے رجوع کرتے ہےں (جو کہ حکم بھی ہے) تو آپ معاملہ فہم بن جاتے ہےں ۔ آپ کے خےالات مےں قدو سےت آجاتی ہے ۔ اس طرح جب خےال پاکےزہ ہو تو عمل نورانی بن جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ سے لےکر کورونا کے دفاع مےں حکمت عملی ہو ، معاشی بد حالی ہو مہنگائی ہو بےن الاقوامی امورہوں ےا عام لوگوں کےلئے آئےن پاکستان کے 184;47;4کے تحت بے سرو سامان لوگوں کےلئے ;34;احساس پروگرام;34; ہواور 2سال کے محدودعرصے مےں انکو chanalised کرنا عمران خان کی اےمانداری،صداقت اور فراست کا عملی ثبوت ہے جوےہ ظاہر کرتا ہے کہ منزل کی جانب ےہ قدم مبارک ثابت ہوگا ۔ اس کے علاوہ وزےر اعظم ہاءوس کے اخراجات اور وزےروں کو لگام ڈالنا، کرپٹ اور بد کردار اپوزےشن کو کمال ہنر مندی سے ;67;ornorکرنا ۔ ےہ سب ارتقاء کے عمل سے گزر رہا ہے ۔ ےہ ابتداء ہے تکمےل پاکستان کی طرف عمران خان کی، نجی قربانےاں ہوں ےا سےاسی استحکام کی طرف سفرہوےہ سب ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے ۔ آج تک حتیٰ کہ انبےاء کو بھی پلےٹ مےں مستحکم نظام نہےں ملا ۔ نبی پاک ﷺ نے 82جنگےں لڑےں ۔ اور قرآن کی تعلےم کی ذمہ داری الگ تھی ۔ ہمارے سامنے دو اےسی شخصےات مےں جن کی بدولت آج ہم آزاد فضاءوں مےں سانس لے رہے ہےں ۔ حضرت علامہ اقبال وہ مفکر اور عالمگےر فلسفی ہےں ، جن کا فلسفہ دو قومی نظرےہ مدےنہ کی رےاست کی باز گشت 20وےں صدی مےں نمو دار ہوئی ۔ قائد اعظم حضرت علامہ اقبال کا وہ مرد مومن تھے جنہوں نے عملی پےکر بن کر پاکستان کو قائم کر کے دم لےا ۔ قرآن تو کہتا ہے ۔ کہ اے مومن تو پہلا قدم بڑھا تےری مدد مجھ پر لازم ہو جائے گی ۔ انسان وحی خداوندی کی تعمےل کے بغےر پتھر بن جائے گا ۔ ےہ حرکی توانائی انسانی ذات مےں صرف قرآن کی اطاعت اور نبی پاک کی اطاعت سے ممکن ہے اےک مومن خدا کے بغےر اس دنےا کے زمام سنبھالنے والا ممتاز پےکر ہوتا ہے ۔ عمران خان ۔ قائد اعظم کے بعد وہ اقبالی شاہےن ہےں جس کا آ ہنی کردار بےرون ، اندرون دشمنوں کے لئے شدےد خطر ہ ہے ۔ اور انکو اپنی موت نظر آرہی ہے ۔ اقتدار سے پہلے نمل ےونےورسٹی ہو ےا کےنسر ہسپتال انسانےت کی بے مثال خدمت ہے ۔ اللہ تعالیٰ کو عمران خان کی ےہی ادا نے دلبرانہ پسند آئی ہے ۔ اور اقتدار کی راہدارےوں تک اسے پہنچا دےا ۔ ےہی تو وہ مدد ہے جو اللہ قرآن مےں پےش کرتا ہے ۔ نادان ہےں جو اتنا شعور بھی نہےں رکھتے کہ اےک کرکٹر عےاش اور گمراہ انسان کےسے اور کےونکر اس مقام تک پہنچاہے ۔ چونکہ ہم اندھےرے مےں رہنے کے عاد ی ہےں ۔ اپنی ماضی کے عظےم کرداروں کی شخصےات کے گرد طواف کرتے ہےں اور عقےدہ پالتے ہےں کہ ان جےسا پےدا نہےن ہو سکتے ےہ خےال غلط ہے تمام انسان صلاحےتوں کے بل پر اےک جےسے ہےں ،سوائے انبےاء کرام کے، انہوں نے جو کےا اپنے زمانے لئے نہےں کےا ۔ فلاح انسانےت کےلئے کےا ۔