- الإعلانات -

سنت ابراہیمی ادا کرنے کا صحیح طریقہ اور مفہوم

قربانی اسلام میں پہلے بھی بھی ہوتی تھی مگر اس کا طریقہ کار مختلف تھا ۔ پہلے مذاہب کے لوگ کرتے یہ تھے کہ قربانی کا مال واسباب ایک بلند پہاڑ کی چوٹی پر رکھ دیا جاتا تھا اور اگر اس کوکسی وجہ سے آگ لگ جائے اور یہ سب کچھ جل کر راکھ ہوجائے تویہ سمجھا جاتا تھا کہ قربانی قبول ہوگئی ہے ۔ اس طرح کی قربانی مذکورہ مال واسباب کے اتلاف کے علاوہ کچھ بھی نہ تھا لیکن جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے خواب میں حکم دیا کہ آپ اپنے پیارے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس وقت کم سن تھے کو اللہ کی راہ میں قربان کریں تو حضرت ابراہیم;174; نے ان کو سامنے بٹھا کر یہ خواب سنایا تو حضرت اسماعیل;174; نے ایک سعادت مند بیٹے کی طرح اپنے والد حضرت ابراہیم ;174; کو فرمایا کہ میں حاضر ہوں ۔ آپ اللہ کے حکم کی بجا آوری فرمائیں ۔ حضرت ابراہیم;174; انہیں کوہ عرفات کی چوٹی پر لے گئے اور باہم مشورے سے ان کے ہاتھ پاءوں باندھ دئیے اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی جب وہ اپنے صاحبزادے کی قربانی کے عمل سے فارغ ہوئے اور پٹی کھولی تو حضرت اسماعیل;174; ان کے پہلو میں زندہ کھڑے تھے اور ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے مینڈھا رکھوا دیا توحضرت ابراہیم ;174; نے سوچا کہ شاید ان کی قربانی قبول نہیں ہوئی مگر غیب سے آواز آئی کہ آپ کی قربانی قبول ہوگئی ہے اور یہ مینڈھا اللہ تعالیٰ نے رکھوایا تھا اورخداوندکریم آپ سے خوش ہیں اور آپ کی قربانی قبول کر لی گئی ہے ۔ اب ہر سال اسلامی کیلنڈر کے آخری مہینہ ذی الحج کی 10تاریخ کو اس قربانی کی یاد میں پوری دنیا میں مسلمان قربانی کرتے ہیں ۔ اس مہینے کے بارے میں رسول کریم محمد ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اس مہینے ے پہلے دس دن سال کے بہترین ایام ہیں ۔ ان کے دوران کی گئی ہر عبادت اور اچھے نیک کام اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں ۔ وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد مصطفی ﷺ نے مزید فرمایا کہ اس دوران ہر مسلمان اللہ کی حمد وثنا کرے، معنی و مفہوم کو سمجھ کرتلاوت کلام پاک کرے، رنجشیں بھلا کر ایک دوسرے کو معاف کر دے ، عرفات کے دن روزہ رکھے تو اس کے دو سال کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں خود ذی الحج کے پہلے نو دن روزہ رکھتا ہوں ۔ اسی ماہ مبارک میں مسلمان حج کی سعادت سے بھی فیضیاب ہوتے ہیں ۔ خود رسالت مآبﷺ بھی قربانی کیا کرتے تھے ۔ مختلف مستند احادیث کے حوالے سے حضرت عائشہ ;230;سے روایت ہے کہ ’’وہ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ایک بکرا ذبح کرنے کے بعد مجھے دیا جو میں نے سارا بانٹ دیا صرف بکرے کی ایک دستی اپنے پاس رکھی تاکہ اسے پکا کرحضور اکرم ﷺ کو پیش کروں گی جب حضور محمد مصطفی ﷺ گھر تشریف لائے اور پوچھا کہ کچھ بچا ہے تو میں نے انہیں بتایا صرف ایک حصہ بچا ہے ۔ باقی سارا میں نے تقسیم کردیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ عائشہ;230; جو تم نے بانٹ دیا وہ سارا بچ گیا اس لئے کہ وہ آخرت کے لئے جمع ہوگیا‘‘ اس سے ہ میں یہ درس ملتا ہے کہ ہم بھی اپنی قربانی غرباء میں تقسیم کریں جوہماری آخرت میں کام آئے گی اور ایسا کرنا اتباع رسول کریم ﷺ بھی ہے لیکن دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے متمول اور امیر گھرانوں میں دکھاوے کا رواج عام ہے اورہم صاحب ثروت لوگوں کو گھروں میں سالم رانیں اوروافر مقدا میں قربانی کا گوشت فخریہ انداز میں بھیجتے ہیں ،جو درست عمل نہیں کہ ان خوشحال گھرانوں میں کسی قسم کی کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہوتی اور ہماری قربانی کے گوشت کے حقدار وہ لوگ ہیں جو آج کے مہنگے دور میں گوشت خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ۔ یہ سنت ابراہیمی;174; اور اتباع رسول کریم ﷺکی اصل روح ہے کہ ہم قربانی کا گوشت غریبوں میں تقسیم کریں اور اپنی آخرت سنواریں ۔ قربانی کے جانوروں کی خریدو فروخت سے ایک محتاط اندازے کے مطابق کئی ارب روپے کی تجارت ہوتی ہے اور وہ حضرات جو سارا سال دیہاتوں میں جانور پالتے ہیں اور پھر شہرکی مویشی منڈیوں میں انہیں فروخت کرتے ہیں ان کو اس تجارت سے خاصا فائدہ ہوتا ہے ۔ اس طرح جو صاحب حیثیت لوگ قربانی سے چند روز پہلے جانور خریدتے ہیں جس کے لیے انہیں چارہ خریدنا پڑتا ہے جس سے چارہ بیچنے والے چھوٹے تاجروں کو آمدنی ہوتی ہے اور پھر کھالوں کے تاجر قربانی کی کھالیں خریدتے ہیں ۔ قصائی حضرات جانوروں کی قربانی کے عوض اپنی محنت کا صلہ پاتے ہیں ۔ رانیں بھوننے والے اپنا معاوضہ حاصل کرتے ہیں اوریوں قربانی جہاں ایک مذہبی تہوارہے وہاں معاشرتی ، سماجی اور تجارتی حوالے سے بھی اس کی اپنی ایک اہمیت ہے ۔ جس سے اسلام میں قربانی کی افادیت مسلمہ ہے جبکہ اسلام کے پہلے دیگرمذاہب کے لوگوں کی قربانی کا طریقہ کار کسی بھی طرح سماجی اور انسانی افادیت کا حامل نہیں تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کو دین فطرت کہا جاتا ہے اوریہ ہے ۔ یہاں اس امرکا تذکرہ بھی بے محل نہ ہوگا کہ قربانی کے جانور فروخت کرنےوالے بعض تاجر قربانی کے جانوروں کو فربہ اور جسم کو سڈول بنانے کے لئے پورا سال مختلف قسم کے انجکشن لگاتے رہتے ہیں اور انہیں کھانے کےلئے مخصوص قسم کی خوراک کھلاتے رہتے ہیں جس میں مضرصحت کیمیکل شامل ہوتے ہیں ۔ جس سے ان جانوروں کا گوشت کھانے والا مختلف بیماریوں کا شکار ہوسکتا ہے، مگر یہ عاقبت نا اندیش تاجراس کی پرواہ کئے بغیر چند روپوں کے فائدے کے حصول کے لیے انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں ۔ اس لئے قربانی کا جانورخریدنے سے پہلے جانور کی اچھی طرح سے دیکھ بھال کرلینی چاہیے اورصحت مند اورقدرتی طور پرنشوونما پانے والے جانور خریدے جائیں اور بڑے بڑے بھاری بھر کم جانور خریدنے سے اجتناب کیا جائے ۔ اگر آپ نے قربانی کے لئے کوئی مہنگا جانور خرید لیا جائے تو آپ کے ارد گرد کے لوگ اور دوست احباب طنز کرتے نظر آتے ہیں کہ اتنا مہنگا جانورخریدنے کی کیا ضرورت تھی ۔ ایسے لوگوں کو ذہن میں رکھنا چاہے کہ قربانی اللہ کے لئے ہے اور جس نے مہنگا جانور خرید لیا ہے تو اللہ تعالی نے اسے یہ استطاعت عطا کررکھی ہے ۔ لہٰذا قربانی کے جانور پراعتراض نہ کیا جائے یہ کوئی قابل ستائش امر نہیں اس کے برعکس اگر آپ مہنگا موبائل فون یا گاڑی خرید لیں تویہی لوگ رطب اللسان ہوتے ہیں ۔ آپ کو مبارک باد دیں گے آپ سے پارٹی دئیے جانے کی خواہش کا اظہار کریں گے ۔ قربانی کے حوالے سے ان کی باتوں کوخاطر میں نہ لائیں ۔ ہم اپنے ہم وطنو! سے یہ درخواست بھی کریں گے کہ کورونا وبا ء کے پیش نظر چھوٹے یا بڑے اجتماعات سے گریز کریں ، عید ملن پارٹیوں کا اہتمام نہ کریں اور قربانی کی آلائشوں کو اس جگہ ڈالیں جہاں پر ان کا خصوصی انتظام کیا گیا ہو تاکہ آلائشیں اٹھانے والے عملے کو پریشانی کا سامنا نہ ہو اور وہ بآسانی یہ آلائشیں اٹھا لیں ۔