- الإعلانات -

سیدعلی گیلانی کےلئے نشان پاکستان کا اعزاز

سید علی گیلانی کی ساری زندگی جدوجہد سے تعبیر ہے ۔ آزادی اور حق خود ارادیت کی جدوجہد میں عمر کا زیادہ حصہ بھارتی جیلوں میں گزارا ہے ۔ بھارت نے حریت قائد کی آزادی کی آواز دبانے کے لیے ظلم و جبر کے تمام ہتھکنڈے آزمائے لیکن وہ حریت قائدین کے عزم و حوصلے کو توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ سید علی گیلانی ہمیشہ سے یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ بھارت مکر و فریب کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اول روز سے بھارت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تضادات اور دو عملی کی پالیسی پر چل رہا ہے ۔ گزشتہ برس کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے ایک روز قبل حریت رہنما سید علی گیلانی نے مسلم امہ کے نام پیغام میں کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کرنے جا رہا ہے ۔ اگر ہم شہید اور آپ سب مسلمان خاموش رہے تو اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ فوج‘ ائرفورس کو الرٹ کرنے کا مطلب کیا ہے ۔ ہم سب محصور ہیں ۔ بہرحال اس دن سید علی گیلانی کی تشویش بالکل درست نکلی کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں خونی آپریشن شروع کر دیا ۔ ضلع کپواڑہ میں نام نہاد سرچ آپریشن کے دوران اندھا دھند فائرنگ کر کے 7 کشمیریوں کو شہید کر دیا ۔ دو کشمیری شہداء مقامی یونیورسٹی کے طالب علم تھے ۔ کشمیر یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے بیسیوں طلباء نے اپنے کیمپس میں جمع ہو کر بھارت کی طرف سے مقبوضہ وادی میں پیدا کی گئی جنگی صورتحال کے خلاف زبردست مظاہر ہ کیا ۔ فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال 29ستمبر 2009کو سید علی گیلانی کی کتاب ’’اقبال روح دین کا شناسا‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں ;58;برعظیم کی تاریخ میں مجی و محترمی سید علی گیلانی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ وہ کشمیر کی حالیہ تحریک ;200;زادی میں پیش پیش رہے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اپنی زندگی کی ایک ربع صدی یا اس سے بھی کچھ زیادہ وقت پس دیوار زندان گزار چکے ہیں ۔ دل اور سرطان کے موذی امراض بھی انھیں اس جہاد زندگانی سے باز نہیں رکھ سکے ۔ متعدد بار گھر کی تباہی اور جسمانی و نفسیاتی تشدد بھی ان کے جذبوں کے سامنے دیوار نہ بن سکے ۔ مجاہدین ;200;زادی میں وہ اس اعتبار سے ایک منفرد شخص ہیں کہ انھوں نے تحریک ;200;زادی کی ہنگامہ خیز زندگی اور اذیت ناک جدوجہد میں بھی قلم و قرطاس سے اپنا رشتہ برقرار رکھا ۔ سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ وہ پرورش لوح و قلم بھی کرتے رہے ۔ کسی بھی مجاہد ;200;زادی خصوصا ;200;زادی کشمیر کی تحریک سے متعلق شخص کے لیے علامہ اقبال کے ساتھ وابستگی نہ صرف ایک فطری امر بلکہ ناگزیر ہے ۔ اقبال سے سید علی گیلانی کا اوّلین تعلق ہائی سکول سوپور میں تعلیم کے دوران پرندے کی فریاد پڑھ کر قائم ہوا تھا ۔ یہ نظم انھیں ازبر ہوگئی ۔ وہ اسے بچپن میں بھی پڑھتے اور ;200;نسو بہاتے تھے ۔ پھر جب انھیں اپنے لڑکپن میں ایک مختصر عرصے کے لیے علامہ اقبال کے ایک قریبی دوست محمد دین فوق کے ایما پر لاہور میں قیام کرنا پڑا تو وقتاً وقتاً بادشاہی مسجد جاکر اقبال کی قبر کی قربت سے ایک قلبی سکون اور طمانیت حاصل کرتے ۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت اقبال کے کلام اور ان کے مرتبے اور مقام سے بے خبر تھا‘ لیکن شاید یہ ایک روحانی تعلق تھا جو انھیں کشاں کشاں اقبال کی تربت کی طرف لے جاتا ۔ ;200;گے چل کر اقبال سے ان کا یہ تعلق اتنا پختہ اور استوار ہوگیا کہ ;200;زادی کشمیر کی تحریک میں علی گیلانی کے لیے کلام اقبال ایک بڑا سرچسمہ تحریک ثابت ہوا ۔ ان کی زیرنظر کتاب ’’اقبال روح دین کا شناسا‘‘ اسی تعلق کی داستان اور شہادت پیش کرتی ہے ۔ علامہ اقبال بھی کشمیری نژاد تھے اور کشمیر سے ایک گہری وابستگی رکھتے تھے ۔ وہ غلامی سے کشمیریوں کی نجات کے عمر بھر خواہاں رہے ۔ سید علی گیلانی بھی علامہ اقبال کی طرح اسی جذبے اور مشن کو ;200;گے بڑھا رہے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ان کی انھی کاوشوں کا ایک حصہ ہے ۔ انھوں نے علامہ اقبال کی شخصیت‘ احیائے ملت اسلامیہ کے لیے ان کی کاوشوں اور ;200;زادی کشمیر کے لیے ان کی دیرینہ تمناءوں کو اس کتاب میں باہم وگرمربوط کیا ہے اور اس بحث میں بڑی حد تک جاوید نامہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فہم اقبال میں وہ موجودہ دور کے بہت سے اقبال شناسوں سے کہیں بہتر فکری اور عملی شعور رکھتے ہیں ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی حریت قیادت نے سید علی گیلانی کی قیادت میں متحدہ ہو کر انتہائی مثبت اور تعمیری قدم اٹھایا ہے اور پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سید علی گیلانی کا موقف ہی پوری کشمیری قوم کا موقف کی بنیاد پر کامیاب ہوتی ہیں جن تحریکوں کے پیچھے کوئی نظریہ نہیں ہوتا وہ تحریکیں کامیاب نہیں ہوتی ہیں ۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک ایک نظریے کے تحت برپا کی گئی ہے یہ نظریہ اسلام، آزادی اور تکمیل پاکستان ہے ۔ اسی نظرئیے کو بنیاد بنا کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں تاریخ کا عظیم جہاد برپا ہے ۔ آج تک لاکھوں شہداء نے اپنا گرم گرم لہو آزادی کے لیے پیش کیا ہے ۔ ہزاروں اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں ۔ ہزاروں زخمی اور معذوری کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ ہزاروں پس دیوار زنداں ہیں ۔ سینٹ نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے حق خود ارادیت کیلئے سید علی گیلانی کی بے لوث اور مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔ ایوان نے ان کے غیر متزلزل عزم، جذبے، استقامت اور قیادت اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، ظالمانہ اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے میں ان کے کردار کو سراہتے ہوئے نوے سال کی ضعیف العمری میں سید علی شاہ گیلانی کی گھر میں بلا جواز نظر بندی پر بھی تشویش ظاہر کی ۔ سید علی گیلانی کی مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے حق خودارادیت کے لئے خدمات کے اعتراف میں پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز نشان پاکستان سے نوازنے اور پاکستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیزکو انکے نام سے منسوب کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظورکر لی گئی ۔ دیکھتے ہیں مقبوضہ کشمیر میں پاکستان سے اٹوٹ محبت کرنے اور سبز ہلالی پرچم بلند کرنے والے بزرگ لیڈر علی شاہ گیلانی صاحب کی آزمائشوں کے دن کب ختم ہوتے ہیں ۔